உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    رگھورام راجن نے ناقدین کو لیا آڑے ہاتھوں، حکومت کو دیا یہ مشورہ

    ریزرو بینک کے سربراہ نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ افراط زر میں کمی کا سبب بہت حد تک 'گڈلك ہے ، جو تیل کی کم قیمت سے آیا ، نہ کہ ریزرو بینک کی مانیٹری پالیسی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قیمتوں میں کمی کے بڑے حصے کا فائدہ گھریلو مارکیٹ میں آگے نہیں بڑھایا گیا ، کیونکہ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھادی۔

    ریزرو بینک کے سربراہ نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ افراط زر میں کمی کا سبب بہت حد تک 'گڈلك ہے ، جو تیل کی کم قیمت سے آیا ، نہ کہ ریزرو بینک کی مانیٹری پالیسی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قیمتوں میں کمی کے بڑے حصے کا فائدہ گھریلو مارکیٹ میں آگے نہیں بڑھایا گیا ، کیونکہ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھادی۔

    ریزرو بینک کے سربراہ نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ افراط زر میں کمی کا سبب بہت حد تک 'گڈلك ہے ، جو تیل کی کم قیمت سے آیا ، نہ کہ ریزرو بینک کی مانیٹری پالیسی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قیمتوں میں کمی کے بڑے حصے کا فائدہ گھریلو مارکیٹ میں آگے نہیں بڑھایا گیا ، کیونکہ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھادی۔

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      ممبئی : ناقدین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر رگھو رام راجن نے آج کہا کہ ایک طرف تو یہ تنقید ہوتی ہے کہ ریزرو بینک نے اعلی پالیسی ساز شرح کے ساتھ اضافہ کو ختم کر دیا ، جبکہ دوسری طرف اس بات کی تعریف ہوتی ہے کہ دنیا میں ہمارا ملک تیزی سے بڑھنے والی معیشت والا ہے، یہ تضاد ہے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ تنقید سے آگے دیکھے اور مرکزی بینک کی خود مختاری کا تحفظ کرے۔
      ریزرو بینک کے سربراہ نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ افراط زر میں کمی کا سبب بہت حد تک 'گڈلك ہے ، جو تیل کی کم قیمت سے آیا ، نہ کہ ریزرو بینک کی مانیٹری پالیسی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قیمتوں میں کمی کے بڑے حصے کا فائدہ گھریلو مارکیٹ میں آگے نہیں بڑھایا گیا ، کیونکہ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھادی۔
      مختلف طبقوں کی تنقید کے درمیان دوسری مدت کار سے انکار کرنے والے راجن نے ان باتوں کو بھی مسترد کر دیا کہ انہوں نے مانیٹری پالیسی 'کافی سخت رکھی۔ انہوں نے قرض اضافہ میں نرمی کے لیے پبلک سیکٹر کے بینکوں پر دباؤ کو ذمہ دار ٹھہرایا ، جو قرض دینے میں ماضی کی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔
      First published: