ہوم » نیوز » امراوتی

بامبے ہائی کورٹ کے اقلیتی تعلیمی اداروں کے حق میں ریزرویشن کے فیصلہ پر6 ماہ بعد مہاراشٹرحکومت سپریم کورٹ پہنچی

بامبے ہائی کورٹ کے اقلیتی اداروں کے دفاع میں آتے ہوئے ان اداروں میں پسماندہ طبقہ کے طلباء کو ریزرونشست کی ضرورت نہ ہونے کے فیصلہ کو حکومت مہاراشٹر نے 6 مہینے بعد سپریم کورٹ میں خصوصی عرضداشت دائر کرکے چیلنج کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 29, 2018 08:09 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بامبے ہائی کورٹ کے اقلیتی تعلیمی اداروں کے حق میں ریزرویشن کے فیصلہ پر6 ماہ بعد مہاراشٹرحکومت سپریم کورٹ پہنچی
سپریم کورٹ : فائل فوٹو۔

ممبئی: بامبے ہائی کورٹ کے اقلیتی اداروں کے دفاع میں آتے ہوئے ان اداروں میں پسماندہ طبقہ (بیک ورڈ اسٹوڈنٹ )کے طلباء کو ریزرونشست کی ضرورت نہ ہونے کے فیصلہ کو حکومت مہاراشٹر نے 6 مہینے بعد سپریم کورٹ میں خصوصی عرضداشت (ایس ایل پی) دائر کرکے چیلنج کیا ہے۔ حکومت نے حال میں ڈگری کالجوں میں کوٹہ سسٹم سے داخلے پر اسٹے دیا ہے۔

گزشتہ اکتوبرمیں جسٹس امجد سیّد اورایم ایس کرنک ہائی کورٹ نے اپنے اہم ترین فیصلے میں ممبئی یونیورسٹی کے 17سال قبل جاری کئے گئے ایک سرکلر کوغیردستوری قراردیتے ہوئے کالعدم قراردے دیا تھا۔ 2001 کے سرکلرمیں اقلیتی فرقے کے آرٹس، سائنس، کامرس اوردیگر پیشہ ورانہ کورسیز پرمشتمل کالجوں میں 50فیصد ریزرویشن کا حکم دیا گیا تھا۔مشہورتعلیمی ادارے سینٹ زیویرس کالج نے پرنسپل فادرجے ایم ڈائس اورمہاراشٹرایسوسی ایشن فارمائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن نے فوری طورپرمذکورہ سرکلرکے اعتبارسےقانونی اور آئینی حیثیت کو فوری طورپرچیلنج کردیا ۔

اس تعلق سے انجمن اسلام ادارہ کے سربراہ ڈاکٹرظہیر قاضی نے کہا کہ دستورہند دفعہ 30(1) کے تحت اقلیتوں کوجوحقوق دیئے گئے ہیں، اس پرحکومت شب خون ماررہی ہے۔ اس لئے سبھی کو توجہ دینا چاہئے کہ نان ایڈیڈ اقلیتی اداروں میں دیگرپسماندہ طبقات کوکس بنیاد پرریزرویشن دیئے جائیں جبکہ یہ اس فرقے کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

ہائی کورٹ 30مئی 2001 کو سرکلر کو کالعدم قراردے دیا، جس میں اقلیتی کالجوں میںکورسوں میں پسماندہ طبقات کو50 فیصدنشست رزرویشن کرنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔ ریاستی حکومت کے وکیل نشانت کاٹنیشورکر نے اس معاملہ پر اسٹے دے دیا اور خصوصی لیو پٹیشن (ایس ایل پی) دائرکی ہے۔قانون کے تحت 90 دنوں میں فیصلہ کو چیلنج کرنا پڑتا ہے۔تاخیر کے لیے سرکاری وکیل نے معذرت طلب کی ہے۔مہاراشٹر سرکار نے حال میں داخلے کے عمل پر اسٹے دے دیا ہے۔حکومت نے اسے طلباء سے ناانصافی قراردیا ہے۔سرکاری طورپر کہاگیا ہے کہ انتہائی انصاف انتہائی ناانصافی ہوتا ہے۔سپریم کورٹ دوزاویے سے معاملہ پر مناسب انداز میں غورکرے ۔

اس ضمن میں پہلی مثال یہ پیش کی گئی ہے کہ ریاست میں کئی مذہبی یا لسانی اقلیتی تعلیمی ادارے واقع ہیں،ایک مالی حیثیت والا طالبعلم لسانی اقلیتی ادارے میں لسانی اقلیت کی حیثیت سے داخلہ لے لیتا ہے ،لیکن ایک پسماندہ طبقہ سے وابستہ طالبعلم ادارے میں داخلہ لینے سے محروم رہ جاتا ہے کیونکہ اسے اقلیتی کوٹہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔دوسری مثال یوں دی گئی ہے کہ چند لسانی اقلیتی ادارے ایسے بھی ہیں جن میں تعداد کے مطابق مخصوص فرقے کے طالب علم داخلہ نہیں لیتے ہیں اور حکومت اقلیتی ادارے کے خلاف کارروائی کرنے اور ان کا رجسٹریشن واپس لینے سے قاصر ہے۔جبکہ ریاست نے ایسے اقلیتی اداروں کے خلاف کارروائی نہیں کی ہے جن کا مقصد ہے کہ ادارےمیں تعلیم حاصل کرنے والے ان کی تعلیم سے محروم نہیں ہوں۔ایس ایل پی پر سماعت پیر کو ہوگی۔

بامبے ہائی کورٹ نے 2006کی آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ایڈیڈاور نان ایڈیڈ اقلیتی تعلیمی ادارے ریاست کی پسماندہ طبقات کے بارے میں ریزرویشن پالیسی سے مستثنیٰ ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ آیا ریاستی پالیسی اقلیتی اداروں پر نافذہوگی یا نہیں۔ہائی کورٹ نے 2002میں سرکلر پر اسٹے دے دیا اور کہا کہ میرٹ کی بنیاد غیر اقلیتی کوٹہ سے داخلہ دیا جائے ۔حتمی فیصلہ تک اسٹے نافذ رہیگا۔دستورکی دفعہ 30(1)کے تحت مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرسکتے ہیں۔اقلیتی اورغیر امدادی ادارے حکومت کے ساتھ قانونی لڑائی لڑرہے ہیں۔ اداروں کو سپریم کورٹ سے محدود طور پر پابندیوں کے قواعد و ضوابط کے خلاف واضح اور مہلت طلب کرنا پڑتی تھی۔
First published: Jun 29, 2018 07:59 PM IST