உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اس ریسٹورنٹ میں ہندوستانی لباس پہن کر جانے پر پا بندی، اسٹاف نے حجاب پہن کر آنےوالی خاتون کو روکا

    یہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس معاشرے کو مہذب بننے میں کافی وقت لگے گا۔ کیا یہ ملک اسی طرح چلے گا؟ کچھ لوگ اسے عورتوں کے کھانے اور پہننے کی آزادی کو روکنے کی تنگ سوچ سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

    یہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس معاشرے کو مہذب بننے میں کافی وقت لگے گا۔ کیا یہ ملک اسی طرح چلے گا؟ کچھ لوگ اسے عورتوں کے کھانے اور پہننے کی آزادی کو روکنے کی تنگ سوچ سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

    یہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس معاشرے کو مہذب بننے میں کافی وقت لگے گا۔ کیا یہ ملک اسی طرح چلے گا؟ کچھ لوگ اسے عورتوں کے کھانے اور پہننے کی آزادی کو روکنے کی تنگ سوچ سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

    • Share this:
    ممبئی کے ورلی علاقے میں اٹیریا مال میں ایک ریسٹورنٹ ہے جہاں انڈین ڈریس پہن کر آنے والے لوگوں کو گیٹ پر ہی روک دیا جاتا ہے۔ ریسٹورنٹ کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ حقیقت وائرل ہونے والی ایک ویڈیو سے سامنے آئی ہے۔ جب ایک خاتون ہندوستانی لباس میں یہاں پہنچی تو اسے اندر جانے سے روک دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں جب ایک خاتون نے حجاب پہن کر ریستوران کے اندر جانے کی خواہش ظاہر کی تو اسے ریسٹورنٹ کے عملے نے روک لیا۔ یہی نہیں  اس نے حجاب کو اندر نہ جانے کی وجہ بتائی۔ ریستوران کے عملے نے بتایا کہ حجاب اور ساڑھی جیسے ہندوستانی لباس پہن کر آنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ کہتے ہوئے اس ریستوران کے ملازمین ویڈیو میں نظر آرہے ہیں۔

    یہ واقعہ انٹریا مال ورلی میں ریسٹو بار ٹیپ میں یہ واقعہ پیش آیا۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا میں اس ریسٹورنٹ کے مالک اور منیجر کے خلاف غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک شخص نے اپنے جواب میں لکھا ، "ایک ایسے ملک میں جو ہندوستان کی طرح سیکولر ملک کے طور پر پہچانا جاتا ہے اور جدید سمجھا جاتا ہے۔

    یہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس معاشرے کو مہذب بننے میں کافی وقت لگے گا۔ کیا یہ ملک اسی طرح چلے گا؟ کچھ لوگ اسے عورتوں کے کھانے اور پہننے کی آزادی کو روکنے کی تنگ سوچ سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ ایک جواب اس طرح آیا ہے کہ 'ہندوستان میں سرو دھرم برابر ہے'۔



    خواتین مردوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھاملا کر چل رہی ہیں۔ بہت سے شعبوں میں خواتین نے مردوں کے سامنے اپنی قابلیت کو ثابت کیا ہے۔ورلی پولیس نے بتایا کہ اس قسم کے واقعہ کے حوالے سے ابھی تک کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ 17 اکتوبر کا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: