உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گجرات سے 20 ہزار لوگوں کی منتقلی کا دعویٰ، وزیراعلیٰ نے امن وامان بنائے رکھنے کی اپیل کی

    گجرات میں اترپردیش اور بہار کے لوگوں پر حملے : کانگریس کا وزیر اعظم پر طنز ، یاد رکھیں ! وارانسی بھی جانا ہے

    گجرات میں اترپردیش اور بہار کے لوگوں پر حملے : کانگریس کا وزیر اعظم پر طنز ، یاد رکھیں ! وارانسی بھی جانا ہے

    سوشل میڈیا پرغیرگجراتیوں کے خلاف نفرت آمیزپیغامات پھیلائے جانے کے بعد ان پرحملے ہوئے۔ ایسے میں یوپی اوربہارکے لوگوں کوموب لنچنگ کا خوف ہے۔

    • Share this:
      گجرات کے سابرکانٹھا ضلع میں 14 ماہ کی بچی سے مبینہ طورپرآبروریزی کے بعد وہاں غیرگجراتیوں کے خلاف تشدد کا ماحول بن گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے وہاں بہار، اترپردیش اورمدھیہ پردیش کے لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اب باہری لوگوں میں خوف اس قدر بیٹھ گیا ہے کہ وہ گجرات چھوڑنے پرمجبورہورہے ہیں۔

      دوسری جانب گجرات کے وزیراعلیٰ وجے روپانی نے کہا ہے کہ حالات اب قابو میں ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ریاست کی عوام سے امن اوربھائی چارہ بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری طرف اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بھی گجرات کے وزیراعلیٰ سے فون پربات کی ہے اور مذکورہ حالات پر تشویش کااظہار کیا ہے۔

      ایک اندازے کے مطابق اب تک تقریباً 20 ہزارلوگ گجرات سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق حملوں کے بعد اترپردیش- بہار کے پانچ ہزار لوگ گجرات چھوڑ چکے ہیں۔ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد اس معاملے پرسیاست بھی شروع ہوگئی ہے۔

      رپورٹ کی بنیاد پرکانگریس لیڈرسنجے نروپم نے وزیراعظم نریندرمودی پرتنقید کی ہے۔ نروپم نے کہا کہ "بنارس کے لوگوں نے دیکھا بھی نہیں کہ مودی گجرات کے ہیں یا مہاراشٹر کے۔ بنارس کے لوگوں نے انہیں گلے لگایا اوروزیراعظم بنادیا"۔ سوشل میڈیا پرغیرگجراتیوں، خاص طورپربہار اوراترپردیش کے لوگوں کے خلاف نفرت آمیز پیغامات پھیلائے جانے کے بعد ان پرحملے ہوئے۔ ایسے میں علاقے میں رہنے والے غیرگجراتیوں کو موب لنچنگ کا خوف ہے، لہٰذا جان بچانے کے لئے وہ گجرات چھوڑنے کو مجبورہیں۔ یہ بھی پڑھیں:      گجرات میں اترپردیش اور بہار کے لوگوں پر حملے: کانگریس کا وزیر اعظم پر طنز ، یاد رکھیں ! وارانسی بھی جانا ہے گجرات کے کئی علاقوں میں یوپی - بہارکے شہریوں کے ساتھ ہوئی مارپیٹ کے واقعہ پراتوار کو گجرات کے ڈی جی پی شیوا نند جھا نے پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں اب تک 342 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جن علاقوں سے مارپیٹ کی خبریں زیادہ آرہی ہیں، ان علاقوں میں پولیس نے پٹرولنگ بڑھا دی ہے۔

      وہیں دوسری جانب ڈی جی پی شیوا نند جھا کے مطابق غیرگجراتیوں خاص طورپر اترپردیش اوربہار کے رہنے والے لوگوں پرحملے گزشتہ ایک ہفتے میں گاندھی نگر، مہسانا، سابرکانٹھا، پاٹن اوراحمدآباد اضلاع میں ہوئے ہیں۔ ان حادثات کے متعلق ہفتہ کی دیرشام تک 180 لوگوں کو گرفتارکیا گیا ہے۔


      حالانکہ ریاست کے کئی حصوں سے شمالی ہندوستانی کی نقل مکانی سے متعلق سوال پرانہوں نے کہا کہ لوگ تیوہاروں کی وجہ سے گھرجارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "اگرلوگ تیوہاروں کے سبب گھرجارہے ہیں تواسے غلط طریقے سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ میں نے اپنے افسران کو رہائشی علاقوں کے دورے کے لئے کہا ہے۔ ضرورت پڑی تو بس اسٹینڈ اورریلوے اسٹیشن پربھی جاکرپوچھ گچھ کی جائے گی"۔

      سوشل میڈیا پرپھیلائے جارہے ہیں نفرت آمیز پیغامات

      ڈی جی پی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر غیرگجراتیوں، خاص طورپر بہاراوراترپردیش کے لوگوں کے خلاف نفرت آمیز پیغامات پھیلائے جانے کے بعد یہ حملے ہوئے۔ وہیں احمدآباد کرائم برانچ کے سائبرسیل نے سوشل میڈیا پرغیرگجراتی لوگوں کے خلاف نفرت والے پیغامات پھیلانے میں مشکوک طورپرشامل لوگوں کو گرفتارکرنا شروع کردیا ہے۔

      معاملے میں اب تک 23 ایف آئی آر درج

      ڈی جی پی نے کہا کہ ہم نے کارخانوں اورسوسائٹی (ہاوسنگ) میں نگرانی بڑھادی ہے۔ ہم سوشل میڈیا پیغامات پر بھی سخت نظررکھ رہے ہیں۔ غیرگجراتیوں پر حملے کے بعد سے ریاست کے مختلف اضلاع میں اب تک 23 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔

      کانگریس ممبراسمبلی الپیش ٹھاکرکی وضاحت

      اس تشدد کے پیچھے ٹھاکرطبقے کا نام لیا جارہا ہے۔ اس بارے میں کانگریس ممبراسمبلی الپیش ٹھاکر نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ تشدد کے واقعات میں ٹھاکرطبقے کاکوئی ہاتھ نہیں ہے۔


      This is unfortunate, we have never advocated violence and only talked peace.All Indians are safe in Gujarat: Alpesh Thakor,Congress MLA on allegations that he fanned violence against UP/Bihar migrants after a rape case in Sabarkantha. #Gujarat pic.twitter.com/DTJiY3eYE4

      — ANI (@ANI) October 7, 2018


      نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے الپیش ٹھاکر نے کہا کہ "شمالی گجرات میں غیرگجراتیوں پربدمعاشوں کے ذریعہ جو حملے ہورہے ہیں، ان میں ٹھاکر- چھتریہ سینا کے کارکنان شامل نہیں ہیں۔ ہمارے کارکنان کو غلط طریقے سے پھنسایا جارہا ہے۔ عصمت دری کے معاملے میں سیاست ہورہی ہے۔

      ایف آئی آرمیں ٹھاکرسینا کے ارکان کے نام

      احمدآباد سمیت ریاست کے سات اضلاع میں غیرگجراتیوں پرہوئے حملے کے واقعات میں درج 50 ایف آئی آر میں 500 سے زیادہ ٹھاکرسینا کے ارکان کے نام درج ہیں، جس میں 13 پرغداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ حالانکہ ٹھاکرنے واضح کیا کہ ہم غیرگجراتیوں کی مخالفت نہیں کررہے ہیں۔ بی جے پی کے کارکنان ہی سیاست کرکے انہیں یہاں سے بھگارہے ہیں۔ انہوں نے شمالی گجرات میں غیرگجراتیوں کو ہدف نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔


      First published: