உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم خواتین کو نشانہ بنانے والی ایپ شرمناک، جلد کی جائے گی کارروائی، Satej Patil نے دیابیان

    ایپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    ایپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    پاٹل نے ٹویٹ کیا کہ ’’اس طرح کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم بدتمیزی اور فرقہ وارانہ نفرت سے بھرے ہوئے ہیں جن کا مقصد خواتین کو بدنامی کرنا ہوتا ہے۔ یہ بہت پریشان کن اور شرمناک ہے۔ مہاراشٹر حکومت ایسے پلیٹ فارمز کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے‘‘۔

    • Share this:
      مہاراشٹر کے وزیر مملکت برائے داخلہ ستیج پاٹل (Satej Patil) نے ہفتہ کے روز ریاست کی پولیس کو ہدایت دی کہ وہ ایک ویب ایپلیکیشن پر توہین آمیز تبصروں کے ساتھ کم از کم 100 مسلم خواتین کی تصاویر پوسٹ کیے جانے کے بعد کارروائی شروع کرے۔

      پاٹل نے ٹویٹ کیا کہ ’’اس طرح کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم بدتمیزی اور فرقہ وارانہ نفرت سے بھرے ہوئے ہیں جن کا مقصد خواتین کو بدنامی کرنا ہوتا ہے۔ یہ بہت پریشان کن اور شرمناک ہے۔ مہاراشٹر حکومت ایسے پلیٹ فارمز کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے‘‘۔

      انہوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹر سائبر پولیس اور ممبئی سائبر سیل نے انکوائری شروع کی ہے اور اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کی جارہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی اس معاملے میں ایف آئی آر درج نہیں کی ہے لیکن انہوں نے اپنی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

      ایک سینئر آئی پی ایس افسر نے کہا کہ ’’ہم نے ان خواتین سے رابطہ کرنا شروع کر دیا اور ان میں سے زیادہ تر ممبئی سے باہر ہی رہیں۔ لیکن ہم ممبئی سے کسی کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے، جس سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اتوار کو ہمارے ساتھ شامل ہو کر تحقیقات میں مدد کرے گا جس کے بعد ہم ایف آئی آر درج کرائیں گے۔

      شیوسینا ایم پی پرینکا چترویدی سمیت کئی لیڈروں نے اس واقعہ کی مذمت کی اور ایپ کے پیچھے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: