ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

داعش کے نام پر گرفتاری ایک قومی مسئلہ، اے ٹی ایس مسلم نوجوانوں کو ٹارگیٹ کررہی ہے: شرد پوار

این سی پی کے صدر دفتر میں منعقدہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں پارٹی کے قومی سربراہ شرد پوار نے کہا کہ ریاست بھر میں داعش سے تعلق کے الزام میں مسلم نوجوانوں کو ٹارگیٹ کیا جارہا ہے اور گرفتاری کے بعد انہیں عدالت میں پیش کئے بغیر کئی کئی دنوں تک حراست میں رکھا جاتا ہے جو کہ انتہائی غلط ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Aug 30, 2016 07:27 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
داعش کے نام پر گرفتاری ایک قومی مسئلہ، اے ٹی ایس مسلم نوجوانوں کو ٹارگیٹ کررہی ہے: شرد پوار
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے صدر شرد پوار: فائل فوٹو۔

ممبئی۔  راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی صدر شردپوار نے آج یہاں داعش کے الزام میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پرسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک قومی مسئلہ قرار دیا اور مہاراشٹر اے ٹی ایس پر داعش کے نام پر مسلم نوجوانوں کو ٹارگیٹ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ واضح رہے کہ داعش کے نام پر مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر پہلی بار کسی نیشنل پارٹی کے قومی سربراہ نے براہِ راست تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے صدر دفتر میں منعقدہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں پارٹی کے قومی سربراہ نے کہا کہ ریاست بھر میں داعش سے تعلق کے الزام میں مسلم نوجوانوں کو ٹارگیٹ کیا جارہا ہے اور گرفتاری کے بعد انہیں عدالت میں پیش کئے بغیر کئی کئی دنوں تک حراست میں رکھا جاتا ہے جو کہ انتہائی غلط ہے۔ اگر گرفتار شدگان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو انہیں گرفتاری کے 24 گھنٹے کے اندر عدالت کے روبرو پیش کرنا چاہئے ، مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہورہا ہے۔


انہوں نے کہا کہ اورنگ آباد میں 28 مسلم نمائندہ تنظیموں نے مجھ سے ملاقات کیں اور کچھ مقدمات ہمارے سامنے رکھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک انتہائی تشویشناک بات ہے اور اس پر فوری طور پر روک لگنی چاہئے۔ انہوں نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ ایسے گرفتار شدہ نوجوانوں کی گرفتاریوں کے بارے میں شفافیت لائی جائے، جلد ازجلد چارج شیٹ لائی جائے اور ان کے مقدمات فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں مراٹھواڑہ کے پربھنی، بیڑ اور دیگر کچھ مقامات سے داعش سے تعلق کے الزام میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں، لیکن ان میں سے بیشتر کو گرفتاری کے بعد متعینہ مدت میں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ان میں سے کچھ کو چار سے پانچ دنوں تک غیرقانونی حراست میں رکھا گیا جو قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔


انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی جانب سے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی گئی ہے اور داعش کی بھی انہوں نے مذمت کی ہے، اس کے باوجود اسی داعش کے نام پر مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں انتہائی تشویشناک ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار شدہ مسلم نوجوانوں کو محض شک کی بنیاد پر گرفتار کیا جاتا ہے اورپھر انہیں برسہا برس تک جیل میں ٹھوس دیا جاتا ہے اور جب ان کے مقدمے کی باقاعدہ سماعت ہوتی ہے تو وہ اس الزام سے بری ہوجاتے ہیں۔ یہ سراسر زیادتی ہے اور یہ فوری طور پر بند ہونی چاہئے۔ مسٹرشرد پوار نے اس موقع پر کشمیر کا بھی معاملہ اٹھایا اور کہا کہ کشمیر کے عوام کے درمیان جوناراضگی ہے اسے دور کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دیوالی کے موقع پر وزیراعظم کشمیر میں دیوالی منانے گئے تھے جہاں انہوں نے کشمیری عوام کی فلاح وبہبود اوروہاں کے مسائل کے حل کے لئے کچھ نکات کا اعلان کیا تھا، مگر ان میں سے کسی پر بھی عمل نہیں ہوا۔ اگر حکومت کشمیریوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو انہیں ان نکات پر عمل کرنا چاہئے۔

First published: Aug 30, 2016 07:27 PM IST