உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شیوسینا کے بیان سے شرد پوار نے کیا کنارا، کہا۔ یو پی اے صدر عہدے میں میری بالکل دلچسپی نہیں

    شرد پوار اور سنجے راوت کی فائل فوٹو

    شرد پوار اور سنجے راوت کی فائل فوٹو

    شیوسینا کے بیان کے بعد جس طرح کی سیاسی ہلچل تیز ہوئی ہے اس کے پیش نظر اب خود شرد پوار نے اس سے کنارا کر لیا ہے۔ شرد پوار نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ یو پی اے کے صدر عہدے میں میری بالکل دلچسپی نہیں ہے، میرے نام سے غیر ضروری طور پر تنازعہ نہ چھیڑا جائے۔

    • Share this:
      ممبئی۔ متحدہ ترقی پسند اتحاد یعنی یو پی اے (UPA) کے صدر عہدے کے لئے شیوسینا نے شردپوار (Sharad Pawar) کی حمایت کی ہے۔ شیوسینا کے اس طرح اشاروں ہی اشاروں میں شرد پوار کا نام لینے کے بعد سے سیاسی گلیاروں میں بحث ومباحثہ کا بازار گرم ہو گیا ہے۔ بتا دیں کہ اگلے سال جنوری میں سونیا گاندھی کانگریس کے صدر عہدے سے ہٹنے والی ہیں۔ ایسے میں کانگریس کا اگلا صدر کون ہو گا اس کی چرچا زوروں پر ہے۔ شیوسینا کے بیان کے بعد جس طرح کی سیاسی ہلچل تیز ہوئی ہے اس کے پیش نظر اب خود شرد پوار نے اس سے کنارا کر لیا ہے۔ شرد پوار نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ یو پی اے کے صدر عہدے میں میری بالکل دلچسپی نہیں ہے، میرے نام سے غیر ضروری طور پر تنازعہ نہ چھیڑا جائے۔

      این سی پی کے صدر شرد پوار (Sharad Pawar) نے شیوسینا کے بیان سے کنارا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا نام لے کر تنازعہ نہیں چھیڑا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شیوسینا نے جو کچھ بھی کہا وہ ان کا بیان ہے، میرا نہیں۔ ذرائع کے مطابق، سونیا گاندھی نے عہدہ پر بنے رہنے کی خواہش ظاہر نہیں کی ہے۔ سونیا کا ماننا ہے کہ اس عہدے کے لئے مناسب لیڈر جلد ہی مل جائے گا۔ اب مانا جا رہا ہے کہ شرد پوار یو پی اے صدر عہدے کے سب سے مضبوط امیدوار ہیں۔

      واضح رہے کہ شیو سینا کے ترجمان مراٹھی اخبار 'سامنا' نے اپنے ایک اداریے میں مہاراشٹر کے مرد آہن شرد پوار کو یو پی اے کی قیادت سونپنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندرمودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے سامنے حزبِ اختلاف بے بس ہو چکی ہے۔ اخبار نے لکھا کہ سونیا گاندھی نے اب تک یو پی اے کی قیادت بخوبی نبھائی ہے لیکن اب تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس اداریے کے شائع ہونے کے بعد ایک بار پھر سے کانگریس اور شیو سینا کے دورمیان تلخی پیدا ہونے کے آثار نظر آرہے ہیں اور دونوں پارٹیوں کی جانب سے بیان بازی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس میں اپنے اپنے موقف کو درست اور جائز قرار دیا جا رہا ہے۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: