ہوم » نیوز » No Category

شیوسینا نے شاہ رخ خان کا دفاع کیا ، مسلم ہونے کی وجہ سے بنایا جا رہا ہے نشانہ

ممبئی : شیوسینا نے ایک بار پھر بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے دوہری پالیسی اختیار کرنے کا الزام لگایا ہے۔

  • ETV
  • Last Updated: Nov 06, 2015 07:31 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
شیوسینا نے شاہ رخ خان کا دفاع کیا ، مسلم ہونے کی وجہ سے بنایا جا رہا ہے نشانہ
ممبئی : شیوسینا نے ایک بار پھر بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے دوہری پالیسی اختیار کرنے کا الزام لگایا ہے۔

ممبئی : شیوسینا نے ایک بار پھر بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے دوہری پالیسی اختیار کرنے کا الزام لگایا ہے۔ شیوسینا نے ملک میں عدم رواداری سے متعلق بیانات کو لے کر شاہ رخ خان کو نشانہ بنانے والے بی جے پی کے کچھ لیڈروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شاہ رخ خان کو پاکستان جانے کے لئے کہنے سے پارٹی کی دوہری پالیسی ظاہر ہوتی ہے۔


شیوسینا نے سامنا میں چھپے اداریہ میں کہا ہے کہ بی جے پی کے رکن اور وزریر اعلی دیویندر فڑنویس نے غلام علی کو مکمل سیکورٹی کے درمیان ریاست میں پریزنٹیشن کی دعوت دی تھی۔ اس طرح ایک طرف آپ مدعو کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ اداکار شاہ رخ خان کو پاکستان جانے کے لئے کہتے ہیں۔ اس وقت دوہری پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ اداکار شاہ رخ خان ایک آرٹسٹ ہیں اور انہیں صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنانا صحیح نہیں ہے۔


سامنا میں مزید کہا گیا ہے کہ شاہ رخ خان کے تبصرے پر اٹھے تنازعہ نے ان لوگوں کے چہروں سے نقاب ہٹادیا ، جو غلام علی کے کنسرٹ اور پاکستان کے سابق وزیر خورشید محمود قصوری کے ممبئی میں کتاب کے رسم اجرا کے خلاف شیوسینا کے احتجاج کو لے کر اس کی تنقید کر رہے تھے۔


قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کے لیڈر کیلاش وجئے ورگیہ نے منگل کو ایک ٹویٹ کے ذریعے تنازع پیدا کر دیا تھا۔کیلاش نے اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ شاہ رخ رہتے تو ہندوستان میں ہیں، لیکن ان کی روح پاکستان میں ہے۔ ان کے اس تبصرہ سے ایک دن پہلے اداکار شاہ رخ خان نے کہا تھا کہ ملک میں عدم رواداری کا ماحول ہے۔


دریں اثنا شیوسینا نے کہا ایک بار پھر کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ سماجی، ثقافتی اور سیاسی تعلقات کی مخالفت اس وقت تک کرتی رہے گی جب تک پڑوسی ملک اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ جاتا۔


شیوسینا نے کہا کہ غلام علی کہتے ہیں کہ وہ تب تک ہندوستان نہیں آئیں گے جب تک کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہو نہیں جاتے۔ ہم ان کے اس موقف کی تعریف کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے موقف پر سختی کے ساتھ قائم رہیں گے۔ وہ ایک امن سفیر کا کردار ادا کر سکتے ہیں اور حافظ سعید اور ان دیگر دہشت گردوں کے ذہن کو تبدیل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جو پاکستان میں بیٹھے ہیں اور ہندوستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔

First published: Nov 06, 2015 07:31 PM IST