உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندستانی رہنماؤں کے لئے منحوس ہے پاکستان کی سرزمین: شیوسینا

    ممبئی۔  شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار 'سامنا' میں پاکستان کی سرزمین کو ہندوستانی رہنماؤں کے لئے منحوس بتاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی طرح خطرے کو دعوت نہ دیں۔

    ممبئی۔ شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار 'سامنا' میں پاکستان کی سرزمین کو ہندوستانی رہنماؤں کے لئے منحوس بتاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی طرح خطرے کو دعوت نہ دیں۔

    ممبئی۔ شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار 'سامنا' میں پاکستان کی سرزمین کو ہندوستانی رہنماؤں کے لئے منحوس بتاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی طرح خطرے کو دعوت نہ دیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      ممبئی۔  شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار 'سامنا' میں پاکستان کی سرزمین کو ہندوستانی رہنماؤں کے لئے منحوس بتاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی طرح خطرے کو دعوت نہ دیں۔ مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مخلوط حکومت کی اتحادی پارٹی شیوسینا نے لاہور کا غیر متوقع دورہ کرنے والے مسٹر مودی کو آگاہ رہنے کی صلاح دی ہے۔ سامنا کے اداریے میں کہا گیا ہے ’’مسٹر مودی کے غیر متوقع پاکستان کے دورے کا خاص طور پر سینئر بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی نے خیر مقدم کیا ہے۔ ہر شخص ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن بات چیت چاہتا ہے لیکن مسٹر مودی کو مسٹر واجپئی کی طرح کام نہیں کرنا چاہئے۔


      اداریہ میں بی جے پی کے سامنے سوال اٹھایا گیا کہ اگر کوئی کانگریسی وزیر اعظم پاکستان جاتا تو کیا بی جے پی اسی طرح اس کا خیر مقدم کرتی۔ سامنا میں کہا گیا ہے کہ’’تاریخ گواہ ہے کہ جب مسٹر اڈوانی نے پاکستان میں وہاں کے بانی محمد علی جناح کی تعریف کی تو اس کے بعد ان کا سیاسی کرئیر زوال پذیر ہوگیا اور بعد میں انہیں درکنار کر دیا گیا۔ اسی طرح جب مسٹر واجپئی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کے تحت لاہور بس سروس شروع کی اور آگرہ میں پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کا استقبال کیا تو ان کی قیادت میں بی جے پی مرکز میں دوبارہ نہ آ سکی ۔‘‘


      سامنا میں مزید کہا گیا ہے، ’’مسٹر مودی نے ماسکو -كابل کے دورے کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو سالگرہ کی مبارکباد دینے کے لئے پاکستان جانے کی غیرمعمولی ہمت دکھائی۔ یہ مسٹر مودی کا ماسٹرا سٹروک تھا۔ مسٹر مودی نے صرف سالگرہ کی مبارکباد ہی نہیں دی بلکہ وہ ان کے گھر گئے اور نواز شریف کے خاندان کی ایک شادی میں شامل ہوئے۔ انہوں نے نواز شریف کی ماں کے پیر چھوئے۔ اس طرح کی کئی باتیں اس دورے میں ہوئیں۔

      First published: