ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

جہیز لے کر شادی کرنے والوں کا سماجی بائیکاٹ کریں ، ملی تحریک فاونڈیشن کی میٹنگ میں چئیر میں ابوعاصم اعظمی کے روبرو فیصلہ

ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ ملی تحریک فاؤنڈیشن نے جہیز کے خلاف مہم بھی شروع کی ہے ، عائشہ کی خودکشی کے بعد جہیز کے خلاف سماج میں میٹنگ کی جارہی ہے ، معاشرے میں جہیز کی لعنت کی وجہ سے آج کئی لڑکیاں پریشان حال ہیں ، اس میں اصلاح معاشرہ تحریک شروع کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔ کیونکہ عائشہ نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔

  • Share this:
جہیز لے کر شادی کرنے والوں کا سماجی بائیکاٹ کریں ، ملی تحریک فاونڈیشن کی میٹنگ میں چئیر میں ابوعاصم اعظمی کے روبرو فیصلہ
جہیز لے کر شادی کرنے والوں کا سماجی بائیکاٹ کریں ، ملی تحریک فاونڈیشن کی میٹنگ میں چئیر میں ابوعاصم اعظمی کے روبرو فیصلہ

 ممبئی : گجرات میں عائشہ کی خودکشی نے ملک اورمعاشرہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ، ہر کوئی جہیز کی لعنت سے پریشان ہے ،  جہیز لے کر شادی کرنے والوں کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے ، ایسے کنبہ کا حقہ پانی تک بند کیا جائے ، عائلی مسائل شادی بیاہ کا مسئلہ پنچایت اور شادی میں شریک گواہان وکیل اورذمہ داروں کے مابین بیٹھ کر لیا جائے ، کیونکہ پولیس اسٹیشن اور کورٹ کچہری تک جانے سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے ، اگر کوئی فریق برادری اور سماج میں فیصلہ کو تسلیم نہیں کرتا ہے تو اس کا بائیکاٹ ہو ، ان خیالات کا اظہار آج یہاں چئیرمین ملی تحریک اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے ملی تحریک فاؤنڈیشن کی ایک اہم نشست میں کیا ۔


انہوں نے کہا کہ ملی تحریک فاؤنڈیشن نے جہیز کے خلاف مہم بھی شروع کی ہے ، عائشہ کی خودکشی کے بعد جہیز کے خلاف سماج میں میٹنگ کی جارہی ہے ، معاشرے میں جہیز کی لعنت کی وجہ سے آج کئی لڑکیاں پریشان حال ہیں ، اس میں اصلاح معاشرہ تحریک شروع کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔ کیونکہ عائشہ نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔


قاضی شہر ایڈوکیٹ مہتاب قاضی نے کہا کہ شادیوں میں جہیز لینے کا اسلام میں کوئی  گنجائش نہیں ہے ، اس لئے جہیز کے خلاف اصلاح معاشرہ کی تحریک کوتقویت دینے کی ضرورت ہے ۔ اعظمی نے اس سلسلے میں پہل کی ہے ، اسلام میں اگر شادیوں پر فضول خرچی ہوتی اس کے خلاف بھی احتجاج ہونا چاہئے ۔ کیونکہ  اسلام میں بے جا اصراف ممنوعہ ہے ۔ اس رواج کوختم کرنا ضروری ہے ۔ مسلمان اپنی شادیوں میں فضول خرچی کرتے ہیں ، لیکن قاضی کونکاح پڑھانے کے لئے پانچ ہزار تک نہیں دیتے ، یہ افسوس کا مقام ہے ۔ مسلمانوں کو اپنے معاشرے میں اس جہیز کی لعنت کے خاتمہ کی کوشش کرنی چاہئے ۔


ماہر نفسیات ڈاکٹر ساجد شیخ نے کہا کہ شادی کے بعد لڑکیوں میں کافی تبدیلی رونما ہوتی ہے ، اس میں اگر انہیں نفسیاتی پریشانی ہے تو وہ ڈاکٹر سے رابطہ کریں ، لیکن لڑکیوں کی کاؤنسلنگ نہیں ہو پاتی ، اس لئے اکثر لڑکیاں انتہائی قدم خودکشی کی جانب رجوع ہوتی ہیں ۔ خودکشی اس کا کوئی حل نہیں ہے ۔ اس لئے والدین کو بھی  لڑکی پر توجہ دینی چاہئے ۔ ایڈوکیٹ عادل کھتری نے کہا کہ جہیز کے معاملہ میں گھریلوتشدد کے کیس میں عدالتوں کے چکر کاٹ کر لڑکیاں پریشان ہو جاتی ہیں اور لاک ڈاون میں یہ مالی بحران کا بھی شکار ہوئی ہے ، ایسے حالات میں لڑکیوں کو ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ عدالتوں میں برسوں سے مقدمات التوا کا شکار ہوتے ہیں ۔ انہیں ماہانہ نان و نفقہ تک لاک ڈاؤن میں نہیں ملا ، اس لئے ان کی حالت انتہائی  خراب ہو گئی ہے ۔ ہمیں اس سمت میں مثبت قدم اٹھا کر معاشرے میں تبدیلی لانی ہو گی ۔

صحافی اور ملی تحریک فاؤنڈیشن کے جنرل سکریٹری سعید حمید نے کہا کہ عائشہ کے سانحہ نے تو پوری انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے ۔ اتنا ہی نہیں اس خودکشی نے سبھی کو دہلا دیا ہے ۔ مسلمانوں میں یہ عادت عام ہے کہ وہ کسی واقعہ کے بعد ہی بیدارہو تے ہیں ۔ سعید حمید نے کہا کہ  جہیز طلب کرنے والوں کا سماجی بائیکاٹ وقت کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ سماج میں ایک ناسور کی طرح جہیز کی لعنت پیوست ہو گئی ہے ۔ اسی طرح نشہ کا کاروبا مسلم نوجوانوں میں نشہ کی لت اوراس کا سدباب بھی ضروری ہے ۔ اس معاملہ میں ہمیں پولس پر تکیہ کرنے کی بجائے بذات خود مہم چلانی ہو گی ۔

مالیگاوں میں بڑھتی ہوئی نوجوانوں کی خودکشی پر بھی سعید حمید نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ خودکشی کے رحجانات اور طلاق کی شرح میں بھی اضافہ لاک ڈاون کے سبب ہوا ہے ۔ اس کے سدباب کے لئے ہمیں معاشرے میں بیداری لانی ہو گی ۔ کیونکہ اس سے سماج میں حالات مزید ابتر ہوگئے ہیں ۔

مولانا سعد کاظمی نے طلاق سمیت دیگر پیدا شدہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے اس کے لئے اصلاح معاشرہ تحریک شروع کرنے پر زرودیا اور نوجوانوں کو شادی بیاہ کے مسائل سے روشناس کرانے کی بھی بات کہی ہے ۔ پروفیسرکاظم ملک نے کہا کہ ایسے حالات میں سب کو سرجوڑ بیٹھنے کی ضروت ہے ، اس سے ضرور مثبت حل نکلے گا اور نوجوانوں کی اصلاح اور تربیت بھی ضروری ہے ۔ اس اہم میٹنگ میں علما اور دانشو اور اہل علم موجود تھے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 13, 2021 08:29 PM IST