ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

سونیا گاندھی شیوسینا کولےکراس بات کی چاہتی ہیں گارنٹی، پس وپیش میں ہیں شرد پوار

مہاراشٹرمیں حکومت سازی کولے کرشیوسینا، کانگریس اوراین سی پی کے درمیان ابھی تک رسمی طورپراتفاق نہیں ہوسکا ہے۔ بتایا جاتا ہےکہ سونیا گاندھی کی ایک 'ڈیمانڈ' کی وجہ سے این سی پی سربراہ پس وپیش میں ہیں۔

  • Share this:
سونیا گاندھی شیوسینا کولےکراس بات کی چاہتی ہیں گارنٹی، پس وپیش میں ہیں شرد پوار
سونیا گاندھی: فائل فوٹو

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) سربراہ شرد پوارکے ساتھ کانگریس صدرسونیا گاندھی کی دومرحلے کی میٹںگ کے بعد بھی ساتھ آنے کے'فارمولے' پرمسلسل بات چیت چل رہی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہےکہ حکومت میں شراکت کولے کرکوئی بہت زیادہ اختلاف نہیں ہے۔ شیوسینا سےادھو ٹھاکرے وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں۔ وہیں این سی پی کےکھاتے میں وزارت داخلہ، ریوینیواورپی ڈبلیوڈی محکمہ کے ساتھ ساتھ نائب وزیراعلیٰ کا عہدہ بھی جا سکتا ہے، جبکہ کانگریس کوبھی نئے سیاسی حالات میں نائب وزیراعلیٰ کی کرسی مل سکتی ہے۔ اس فیصلے پرتینوں پارٹیاں راضی بھی ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی مہاراشٹرمیں حکومت کی تشکیل کولےکرابھی تک کوئی رسمی فیصلہ نہیں ہوسکاہے۔ دراصل کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی این سی پی سربراہ شرد پوارسے شیوسینا کولےکر'گارنٹی' چاہتی ہیں۔ بتایا جاتا ہےکہ اسی بات پرمعاملہ ابھی زیرالتوا ہے۔


اطلاعات کےمطابق، حکومت کی تشکیل میں تاخیرکی وجہ شیوسینا، این سی پی اورکانگریس کے درمیان اقتدارکی تقسیم کے ساتھ ساتھ نظریاتی اختلاف بھی بڑا مسئلہ ہے۔ سونیا گاندھی متنازعہ موضوعات پرمستقبل میں شیوسینا کےکردارپرشرد پوارسے'گارنٹی' چاہتی ہیں۔ اطلاعات کےمطابق، سونیا گاندھی چاہتی ہیں کہ این سی پی سربراہ شرد پواراس بات کی گارنٹی دیں کہ شیوسینا مستقبل میں فرقہ وارانہ حکمت عملی کونہ دوہرائے۔  شرد پواراس کو لےکرپس وپیش میں ہیں اوراس بات کی یقین دہانی نہیں کراسکے ہیں۔ سونیا گاندھی یہ بھی چاہتی ہیں کہ شیوسینا پہلےشہری ترمیمی بل اورآبادی کنٹرول کے موضوعات پراپنا نظریہ واضح کردے کہ وہ کانگریس کے رخ کی حمایت کرے گی یا الگ لائن اختیارکرے گی؟


سب سے زیادہ کامن منیمم پروگرام پرزور


اس کے علاوہ سونیا گاندھی سب سے زیادہ کامن منیمم پروگرام (کم ازکم مشترکہ پروگرام) پر زوردے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ کامن منیمم پروگرام میں سبھی پروگرام 'سیکولرازم' کے اصولوں کے موافق ہی ہونا چاہئے۔ اس پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ ایسے میں اب گیند پوری طرح سے شرد پوارکے پالے میں ہے۔ ٹھوس یقین دہانی کےبعد ہی اتحاد کا اعلان ہوگا، اس میں کچھ دن کا وقت لگ سکتا ہے۔

سیکولرازم بمقابلہ شدت پسند ہندوتوا کا موضوع

سیکولرازم بنام سخت ہندتوا کا موضوع بھی تینوں پارٹیوں کے درمیان سب سے بڑے ٹکراؤ کا مسئلہ بن گیا ہے۔ یہ ٹکراؤ صرف اتحاد میں ہی نہیں، بلکہ کانگریس کےاندربھی ہے۔ ذرائع کے مطابق، کانگریس پارٹی کی کیرلا یونٹ شیوسینا کے ساتھ جانے کے خلاف ہے، اس کا موقف ہےکہ گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں مسلم رائے دہندگان کی مدد سے کانگریس نےکیرلا میں صرف  سی پی ایم کوشکست دی تھی۔ ایسے میں شیوسینا جیسی شدت پسند پارٹی کےساتھ جانےسے یہ رائے دہندگان واپس سی پی ایم کےساتھ چلے جائیں گے۔ وہیں مہاراشٹرکے لیڈروں نےاس ترک کا جواب بھی اسی اندازمیں دیا ہے۔ ان لیڈروں کا کہنا ہےکہ کیرلا میں اگر مسلم لیگ جیسی پارٹی کے ساتھ کانگریس کا اتحاد ہوسکتا ہے، توشیوسینا کے ساتھ کیوں نہیں؟
First published: Nov 19, 2019 04:15 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading