ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

گجرات: سورت میں 3 سال کی بچی کی عصمت دری اور قتل معاملہ کے قصوروار کی پھانسی کی سزا پرسپریم کورٹ کی روک

واضح رہے کہ 14اکتوبر 2018 کی شام متاثرہ بچی اپنے گھر کے پاس کھیل رہی تھی۔ تبھی اسی بلڈنگ میں رہنے والا 20سالہ انل یادو بہلا پھسلا کر بچی کو اٹھا لے گیا۔ وہ اسے اپنے کمرے میں لے گیا جہاں معصوم بچی کی عصمت دری کی اور اس کے بعد اسے قتل کردیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 20, 2020 03:19 PM IST
  • Share this:
گجرات: سورت میں 3 سال کی بچی کی عصمت دری اور قتل معاملہ کے قصوروار کی پھانسی کی سزا پرسپریم کورٹ کی روک
سپریم کورٹ: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے سورت میں ایک تین سال کی بچی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے قصوروار ایک شخص انل یادو کی پھانسی کی سزا کے لئے جاری ڈیتھ وارنٹ پر جمعرات کو روک لگا دی۔ چیف جسٹس شرد اروند بوبڑے،جسٹس بی آرگوئی اور جسٹس سوریہ کانت کی بینچ نے سورت کی پاکسو عدالت کے ذریعہ جاری ڈیتھ وارنٹ پر روک لگا دی۔ سماعت کے دوران قصوروار کی جانب سے پیش سینئر وکیل اپراجیتا سنگھ نے بینچ کو بتایا کہ گجرات ہائی کورٹ کے ذریعہ موت کی سزا کی تصدیق کرنے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کےلئے 60دنوں کا وقت تھا لیکن اس سے پہلے ہی ڈیتھ وارنٹ جاری کردیا گیا۔


اس پر چیف جسٹس بوبڑے نے کہا کہ پہلے ہی سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ ڈیتھ وارنٹ تب تک جاری نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ قصوروار سارے قانونی عمل پورے نہ کر لے۔ دراصل پھانسی کی سزا والے معاملے میں ہائی کورٹ سے سزا کی تصدیق ہونےکے بعد اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرنے کے لئے قصوروار کو 60دن کا وقت ملتا ہے،لیکن اس کیس میں گجرات ہائی کورٹ کے ذریعہ پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کے حکم(27دسمبر 2019)کے محض تین دن کے اندر ہی ٹرائل کورٹ نے ڈیتھ وارنٹ جاری کردیا تھا۔ اسی بنیاد پر سپریم کورٹ نے آج ڈیتھ وارنٹ پر روک لگا دی۔


علامتی تصویر


قصوروار انل یادو نے اکتوبر 2018 میں سورت میں تین سال کی بچی کی عصمت دری کی تھی اور پھر بعد میں اسے قتل کردیا تھا۔ اگست 2019 میں سورت کے لمبایت علاقے میں ساڑھے تین سال کی بچی سے عصمت دری کے بعد قتل کرنے والے کو اسپیشل پوکسو کورٹ نے موت کی سزا سنائی تھی۔ اس معاملے میں تقریباً نو مہینے تک سماعت جاری رہی تھی جس کے بعد قصوروار کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ بچی کے گھر والوں نے عصمت دری کے بعد قتل کرنے والے انل یادو کو موت کی سزا دیئےجانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے پہلے 27دسمبر 2019 کو گجرات ہائی کورٹ نے پھانسی کی سزا کی تصدیق کردی تھی۔

واضح رہے کہ 14اکتوبر 2018 کی شام متاثرہ بچی اپنے گھر کے پاس کھیل رہی تھی۔ تبھی اسی بلڈنگ میں رہنے والا 20سالہ انل یادو بہلا پھسلا کر بچی کو اٹھا لے گیا۔ وہ اسے اپنے کمرے میں لے گیا جہاں معصوم بچی کے ساتھ عصمت دری کی اور اس کے بعد اسے قتل کردیا۔ پھر لاش کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کر ایک ڈرم میں چھپا دیا۔ پکڑے جانے کے ڈر سے وہ 15 اکتوبر کو اپنے کمرے میں تالا لگا کر فرار ہو گیا۔ پولیس نے جانچ شروع کی۔ پتہ چلا کہ انل بہار میں ہے۔ پولیس وہاں گئی اور اس کی آبائی رہائش گاہ سے اسے گرفتار کیا۔خصوصی تفتیشی ٹیم نے صرف ایک مہینے میں اس کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔ سماعت پوری ہونے کے بعد کورٹ نے اسے مجرم قرار دیا تھا اور پھر موت کی سزا سنائی تھی۔
First published: Feb 20, 2020 03:19 PM IST