உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اقوام متحدہ کی جانب سے ممنوعہ اور داعش کے زیر استعمال رہنے والا ٹینکر جہاز گجرات میں ضبط

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (داعش)کے زیر استعمال رہنے والے اور اقوام متحدہ کی جانب سے ممنوعہ ایک ٹینکر جہاز کو گجرات شپ بریکنگ یارڈ میں لائے جانے کا معاملہ روشنی میں آیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      بھاونگر: دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (داعش)کے زیر استعمال رہنے والے اور اقوام متحدہ کی جانب سے ممنوعہ ایک ٹینکر جہاز کو گجرات شپ بریکنگ یارڈ میں لائے جانے کا معاملہ روشنی میں آیا ہے۔ تنزانیہ کے اس پرانے ٹینکر جہاز ایم ٹی كیپركارن کا استعمال مبینہ طورپر داعش نے لیبیا کے تیل اور گیس کاروبار پر قبضہ جمانے والے ساتھی دہشت گردوں کے ساتھ کاروبار کے لئے کیا تھا۔ اسی وجہ سے اقوام متحدہ نے اس پر پابندی لگائی تھی۔ یہ جہاز اس سال فروری میں یہاں لایا گیا تھا۔ کسٹم ڈیپارٹمنٹ اور گجرات آلودگی کنٹرول بورڈ نے اس کی جانچ بھی کی تھی۔
      اس جہاز کو کباڑ کے طور پر خریدنے والے کے پی جی انٹرپرائز ، جس نے النگ یارڈ کے پلاٹ نمبر 91 پر اس کو توڑنے کے لئے رکھا تھا، نے دعوی کیا جب اسے خریدا گیا اس وقت اس پر اقوام متحدہ کی پابندی نہیں تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اقوام متحدہ کی پابندی اس پر جولائی 2017 تک نافذ تھی اور بعد میں اسے مبینہ طور پر اس سال دو فروری سے دوبارہ پابندی لگائی گئی ہے۔
      تاہم، اقوام متحدہ کے حکام کی اطلاع پر حال ہی میں اس جہاز کو ریوینیو انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ یعنی ڈی آر آئی کی ٹیم نے ضبط کر لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 1150 ٹن سے زیادہ صلاحیت والے اس پرانے جہاز سے کچھ بھی قابل اعتراض مواد نہیں ملا ہے۔دریں اثناء، النگ میرین پولس کے انچارج سب- انسپکٹر تسلیم ایس رضوی نے بتایا کہ اس جہاز کو ڈی آر آئی نے گزشتہ 20 مارچ کو ضبط کر لیا تھا۔ ڈی آر آئی پورے معاملے کی چھان بین کر رہی ہے۔
      First published: