ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

قدرت کا کرشمہ ، چودہویں منزل سے پھینکے جانے کے بعد بھی بچ گیا 6 سالہ توصیف

کسی کا وقت نہیں آیا ہو ، تو کچھ بھی حالات ہو جائیں، موت کے فرشتے کو واپس لوٹنا پڑتا ہے

  • ETV
  • Last Updated: Mar 20, 2017 07:02 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
قدرت کا کرشمہ ، چودہویں منزل سے پھینکے جانے کے بعد بھی بچ گیا 6 سالہ توصیف
کسی کا وقت نہیں آیا ہو ، تو کچھ بھی حالات ہو جائیں، موت کے فرشتے کو واپس لوٹنا پڑتا ہے

ممبرا (انوارالحق ) کہتے ہیں کی موت کا مقام اور وقت پہلے سے ہی خدا نے مقرر کررکھا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کسی کا وقت نہیں آیا ہو ، تو کچھ بھی حالات ہو جائیں، موت کے فرشتے کو واپس لوٹنا پڑتا ہے۔ 6  سال کے توصیف کی ابھی موت نہیں تھی، اس لیے اپنی ماں کے ہاتھوں 14 ویں منزل سے نیچے پھینکے جانے کے بعد بھی موت بس اس کو چھو کر نکل گئی ۔ وہیں اس کی جیسی قسمت اس کی تین سالہ بہن آمرین کی نہیں تھیں ۔ اپنی بیماری سے تنگ آکر ایک ماں نے اپنے ان دونوں بچوں سمیت خودکشی جیسا انتہائی اور دل دہلا دینے والا قدم اٹھایا۔ اس حادثے کے بعد ممبرا میں صرف اس کی ہی چرچاہورہی ہے ۔

ممبرا کے رشید کمپاؤنڈ میں رہنے والی ایک 26 سالہ خاتون شيرين حنیف خان نے اپنے دو بچوں چھ سالہ بیٹے توصیف اور3 سالہ بیٹی آمرين کے ساتھ نو تعمیر چودہ منزلہ عمارت سے چھلانگ لگا کر خود کشی کرلی ۔ شیرین نے پہلے بیٹے کو اوپر سے نیچے پھینکا ، لیکن بیٹا معجزاتی طور پر بچ گیا ۔ اس کے بعد بیٹی کو نیچے پھینکا اور پھر خود بھی چھلانگ لگا دی ۔ دونوں ہی ماں بیٹی کی جائے حادثہ پر موت ہوگئی ۔ جب کہ پانچ سالہ بیٹا توصیف کو علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا ۔

اس حادثہ کے بارے میں پولیس و مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شیرین کافی دنوں سے ٹی بی و دیگر امراض میں مبتلا تھی اور اسی بات کولے کر گھرمیں بھی اکثر جھگڑا ہوا کرتا تھا ۔ بالاآخر دل برداشتہ ہو کر اس نے یہ انتہائی قدم ا ٹھایا ۔

First published: Mar 20, 2017 06:59 PM IST