ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

بیٹی باپ کی دوسری شادی پر سوال اٹھا سکتی ہے: بامبےہائی کورٹ

بیٹی کا کہناتھا کہ اس کی سوتیلی ماں نے ہمارے والد سے شادی کی اور اس کا غلط فائدہ اٹھا کران کی املاک کو اپنے نام کر وا لیا۔ والدہ کا یہ الزام تھا کہ بیٹی جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ نے اپنے ایک حکم نا مہ میں کہا ہے کہ ایک بیٹی اپنے والد کی دوسری شادی کےجائز یا ناجائز پر سوال اٹھا سکتی ہے۔

  • Share this:
بیٹی باپ کی دوسری شادی پر سوال اٹھا سکتی ہے: بامبےہائی کورٹ
بامبے ہائی کورٹ میں ایک ایسا کیس سامنے آیا ہے جس میں بیٹی نے باپ کی دوسری شادی پر سوال اٹھایا۔

بامبے ہائی کورٹ میں ایک ایسا کیس سامنے آیا ہے جس میں بیٹی نے باپ کی دوسری شادی پر سوال اٹھایا۔ یہ پورا معاملہ عدالت میں پہنچا تو اس کی شنوائی ہوئی. عدالت نے مانا کہ بیٹی کا حق ہے کہ وہ دوسری شادی پر سوال اٹھا سکتی ہے۔ بیٹی کا کہناتھا کہ اس کی سوتیلی ماں نے ہمارے والد سے شادی کی اور اس کا غلط فائدہ اٹھا کران کی املاک کو اپنے نام کر وا لیا۔ والدہ کا یہ الزام تھا کہ بیٹی جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ نے اپنے ایک حکم نا مہ میں کہا ہے کہ ایک بیٹی اپنے والد کی دوسری شادی کےجائز یا ناجائز پر سوال اٹھا سکتی ہے۔ جسٹس آر ڈی دھنوکا اور جسٹس وی جی بشٹ کے بنچ نے بیٹی کی درخواست کی سماعت کے دوران یہ بات کہی۔


بیوی کے انتقال کے بعد ان کے والد نے 2003 میں دوبارہ شادی کی تھی۔بیٹی کا الزام ہے کہ اس کی سوتیلی ماں اپنے والد کی ذہنی حالت اور بیماریوں کے بارے میں جانتی تھی اور اس کے باوجود اس نے شادی کرلی اور غلط فائدہ اٹھایا۔ شادی کے بعد اس کی سوتیلی ماں نے والد کے املاک کو اپنے نام کر وا لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جو لوگ اس پراپرٹی کے قانونی طور پر حو دار تھے وہ یہ پراپرٹی حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ بیٹی نے پورے کیس سے متعلق فیملی کورٹ میں درخواست دائر کی اور مطالبہ کیا کہ 24 جولائی 2003 کو اس کے والد اور اس کی سوتیلی ماں کے مابین ہونے والی شادی کو خارج کردیا جائے۔ بیٹی جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔


ماں کا الزام

دوسری طرف سوتیلی ماں کا کہنا ہے کہ 23 ​​اگست 1984 کو اس نے اپنے شوہر کو اردو میں طلاق نامہ دے دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ممبئی میں شادی کے رجسٹرار نے تمام دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد ہی ان کی شادی کا اندراج کرایا تھا۔ والدہ کا الزام ہے کہ اس کی سوتیلی بیٹی تمام جائیدادوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ لہذا یہ معاملہ اٹھا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بیٹی کو شادی پر اعتراض ہے تو اسے شادی کے تین سالوں میں ہی عدالت جانا چاہئے تھا۔ ماں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بیٹی کو شادی کی صداقت کو چیلنج کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ صرف فریقین یعنی شوہر یا بیوی نکاح کے جواز کو چیلنج کرسکتے ہیں کوئی تیسرا فریق۔ اور خاص طور پر تب اور نہیں جب میاں بیوی میں سے کوئی ایک زندہ نہیں ہو۔

ہائی کورٹ نے کہا بیٹی کی شادی کے جواز کو چیلنج کرنے کا حق فیملی کورٹ نے اس معاملے میں سو تیلی ماں کے حق میں حکم دیا تھا۔ فیملی کورٹ نے کہا کہ بیٹی کو شادی کی صداقت کو چیلنج کرنے کا حق نہیں ہے۔ لیکن اب بامبے ہائی کورٹ نے فیملی کورٹ کے اس حکم کو مسترد کردیا ہے۔ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ بیٹی کو اپنے والد کی دوسری شادی کی صداقت پر سوال اٹھانے کا حق ہے۔ تاہم ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ فیملی کورٹ کو شادی کی صداقت پر فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ لہذا ہائی کورٹ نے فیملی کورٹ کو 6 ماہ کے اندر اس معاملے پر فیصلہ لینے کا حکم دیا ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 20, 2021 12:09 PM IST