உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حج 2022 کیلئے مرکزی حج کمیٹی کو ایک لاکھ سے بھی کم درخواستیں موصول

    سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان باہمی معائدہ ہوا اور ہندوستان کے حصے میں زیادہ نشستیں آتی ہیں تو دوبارہ درخواستیں منگوانے کے عمل پر غور کیا جائیگا۔ واضح رہے کہ ابھی تک سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان حج 2022 کیلئے باہمی معاہدہ طئے نہیں ہو پایا ہے۔

    سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان باہمی معائدہ ہوا اور ہندوستان کے حصے میں زیادہ نشستیں آتی ہیں تو دوبارہ درخواستیں منگوانے کے عمل پر غور کیا جائیگا۔ واضح رہے کہ ابھی تک سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان حج 2022 کیلئے باہمی معاہدہ طئے نہیں ہو پایا ہے۔

    سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان باہمی معائدہ ہوا اور ہندوستان کے حصے میں زیادہ نشستیں آتی ہیں تو دوبارہ درخواستیں منگوانے کے عمل پر غور کیا جائیگا۔ واضح رہے کہ ابھی تک سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان حج 2022 کیلئے باہمی معاہدہ طئے نہیں ہو پایا ہے۔

    • Share this:
    حج 2022 کیلئے غیر یقینی اور مبہم صورت حال کی بناء پرمرکزی حج کمیٹی کو ایک لاکھ سے بھی کم درخواستیں موصول ہوئیں ہیں۔ 15 فروری حج درخواست فارم بھرنے کی آخری تاریخ تھی، اس عرصے میں 97 ہزار ایک سو 33 عازمین نے ہی حج 2022 کیلئے آن لائن رجسٹریشن کروایا ہے۔ ان میں سے مرکزی حج کمیٹی نے کورجنریشن کے بعد 92 ہزار تین سو 81 عازمین حج کی درخواستیں قبول کیں ہیں۔ حج درخواست فارم بھرنے کی شروعات یکم نومبر 2021 سے ہوئی تھی،  تاریخ میں ایک مرتبہ توسیع کے باوجود ساڑھے تین ماہ کے عرصے میں مرکزی حج کمیٹی کو صرف 92 ہزار تین سو 81 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اس مرتبہ تقریباً 19 سو کے قریب بغیر محرم کے حج پر روانہ ہونے والی خواتین نے درخواستیں دیں ہیں۔ مرکزی حج کمیٹی کے سی ای او محمد یعقوب شیخا نے بتایا کے کووڈ، معاشی حالات اور غیریقینی صورتِ حال کی بناء پر اس سال 92 ہزار کے قریب درخواستیں موصول ہوئیں ہیں۔ یہ درخواستیں حالات کے تناظر میں حوصلہ شکن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں امید ہیکہ حج ہوگا لیکن کن شرائط اور ضوابط کے لحاظ سے ہوگا یہ سعودی حکومت کی گائیڈلائن پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہاکہ سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان باہمی معائدہ ہوا اور ہندوستان کے حصے میں زیادہ نشستیں آتی ہیں تو دوبارہ درخواستیں منگوانے کے عمل پر غور کیا جائیگا۔ واضح رہے کہ ابھی تک سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان حج 2022 کیلئے باہمی معاہدہ طئے نہیں ہو پایا ہے۔
    غیر یقینی صورتِ حال برقرار: کورونا کے سبب گذشتہ دو سالوں سے ہندوستانی عازمین حج فریضہ حج کی ادائیگی سے محروم تھے، اس دوران صرف سعودی شہریوں کو ہی محدودیت کے ساتھ فریضہ حج کی ادائیگی کا موقع میسر آپایا تھا، اب جبکہ کورونا کے معاملات میں سدھار آرہا ہے اس کے باوجود غیر یقینی صورتِ حال بنی ہوئی ہے۔ حکومت ہند اور سعودی حکومت کے درمیان باہمی معاہدہ ابھی تک طئے نہیں ہوپایا ہے۔ اس سال بھی ہندوستانی عازمین حج کو فریضہ ء حج کی ادائیگی کا موقع میسر آئیگایا نہیں،  یہ سوال قائم ہے اس کے باوجود مرکزی حج کمیٹی نے حج 2022 کی تیاریاں شروع کردی ہے۔

    حج
    کیرلا اور کشمیر سےسب سے زیادہ درخواستیں :یکم نومبر 2021 سے حج درخواست فارم بھرنے کی شروعات ہوئے تھی،  اس ساڑھے تیں ماہ کے عرصے میں صرف 92 ہزار درخواستیں موصول ہونا مایوس کن ہے۔ عام حالات میں ہندوستانی عازمین حج کا کوٹہ پونے دو لاکھ کے قریب تک ہوتا تھا اور درخواستیں ڈھائی تین لاکھ کے قریب موصول ہوتی تھیں لیکن اس درخواستوں کے حصول کے معاملے میں بھی مرکزی حج کمیٹی کو مایوسی ہاتھ آئی ہے۔اس کے باوجود مرکزی حج کمیٹی کو حج 2022 کیلئے کیرلا ریاست سے سب سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں ہیں۔ 15 فروری تک کرلا سے 12 ہزار 7 سو 46 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جبکہ جموں کشمیر سے 11 ہزار 6 سو 92 درخواستیں موصول ہوئیں ہیں۔

    مہاراشٹر سے 9 ہزار 9 سو 75 ،اترپردیش سے 9 ہزار 7 سو 75 ، مغربی بنگال سے 7 ہزار 4 سو ساٹھ اور تلگانہ سے 4 ہزار تین سو 74 اور مدھیہ پردیش سے تین ہزار 6 سو بیس، کرناٹک سے چار ہزار پانچ سو تریسٹھ، آسام سے چار ہزار دوسو چھ، بہار سے دوہزار آٹھ سو اکہتر اور دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی سے ایک ہزار سات سو چار درخواستیں موصول ہوئیں ہیں۔ جبکہ ہماچل پردیش سے سب سے کم 39 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ مرکز کے زیرِ انصرام علاقوں میں دمن دیو سے 13، دادرانگرحویلی سے 18، چندی گڑھ سے 24 اور پانڈیچری سے 57 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: