Choose Municipal Ward
    CLICK HERE FOR DETAILED RESULTS
    ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

    ہندو بیٹے نے باپ کی لاش کو ہاتھ لگانے سے کیا انکار، مسلم نوجوانوں نے ادا کی ہندوبزرگ کی آخری رسوم

    مہاراشٹر کے آکولہ میں جب ایک ساٹھ سالہ ہندو بزرگ کے بیٹے نے باپ کی لاش کو ہاتھ لگانے سے انکار کردیا تو مسلم نوجوانوں نے آگے بڑھ کر اس بزرگ کی آخر رسومات ادا کی۔

    • Share this:
    ہندو بیٹے نے باپ کی لاش کو ہاتھ لگانے سے کیا انکار، مسلم نوجوانوں نے ادا کی ہندوبزرگ کی آخری رسوم
    علامتی تصویر

    مہاراشٹر کے آکولہ میں جب ایک ساٹھ سالہ ہندو بزرگ کے بیٹے نے باپ کی لاش کو ہاتھ لگانے سے انکار کردیا تو مسلم نوجوانوں نے آگے بڑھ کر اس بزرگ کی آخر رسومات ادا کی۔ ان نوجوانوں کے حوصلے کو دیکھ کر انتظامیہ سمیت مختلف حلقوں سے  ستائش کی جارہی ہے۔ آکولہ محکمہ صحت کے ایچ او ڈی پرشانت راجوکر نے کہا کہ انھوں بہت ہی شرمندگی ہے کہ ہمارے سماج میں ایسے بھی لوگ ہیں جو اپنے والدین کے بارے میں حد درجہ لاپرواہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ مہلوک کا بیٹا جوکہ تعلیمی یافتہ ہے اور اعلیٰ عہدے پر فائز ہے نے نہ باپ کی لاش دیکھنا پسند کیا۔ نہ ہی ہندو رواج کے مطابق درشن لینا مناسب سمجھا۔مجبوری میں ہمیں لاش کی آخری رسومات کے لئے دوسروں کودیکھنا پڑا۔ وہ تو بھلا ہو مسلمان نوجوانوں کا جھنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیئے بغیر یہ کام انجام دیا ہے۔

    جاوید ذکریا نامی مسلم نوجوان کا کہنا ہے کہ ملک میں  کرونا کو لے کر برپا ہوئی اس مصیبت کی گھڑی میں جہاں ایک طرف کچھ لوگ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہیں وہ لوگ ہندو مسلم اتحاد کو قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ابھی تک بلا مذہب ملت میتوں کی آخری رسومات اداکرنے کی کوشش کی ہے۔

    ابھی تک یہ لوگ ستاون افراد کی میت کو ان کی آخری مقام تک پہنچا چکے یہیں۔ جن میں چار لوگوں کو شمشان بھومی میں انھوں نے  چیتا کو آگ لگائی جبکہ کئیں کو مسلم قبرستان میں سپرد خاک کیا۔پرشنات رجوگر کا کہنا  ہے کہ وہ لوگ پہلے ہی کرونا کے سبب حد سے زیادہ مصروف ہیں۔ ایسے میں اگر لوگ اپنے مہلوکین کی لاشیں حاصل کرنے نہیں آتے ہیں تو ان کے محکمے کےلئے پریشانی بڑھ سکتی ہے۔ جس سے نئی مصبتیں پیدا ہوسکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ لوگ ہدایت کے مطابق اپنے مہلوکین کی آخری رسومات ادا کرنے میں انتظامیہ کو تعاون کریں۔ساتھ ہی سماجی تنظیموں سے بھی انھوں نے اپیل کی کہ وہ بلا مذہب وملت ایک دوسرے کا ساتھ دینے کےلئے آگے آئے ۔ جس طرح آکولہ کے مسلم نوجوانوں نے پیش کی ہے۔

    First published: May 26, 2020 09:37 PM IST
    corona virus btn
    corona virus btn
    Loading