உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شلپی تھی آسارام کی ہنی پریت ! بچیوں کو بھیجتی تھی آشرم

    آسارام کی معاون شلپی: فائل فوٹو۔

    آسارام کی معاون شلپی: فائل فوٹو۔

    بتا دیں کہ شلپی مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ آشرم کی وارڈن تھی۔ کال تفصیلات میں سامنے آیا کہ شلپی آسارام باپو کے اور متاثرہ کے خاندان کے ساتھ ساتھ مسلسل رابطے میں تھی۔

    • Share this:

      جودھپور۔ خصوصی ایس سی/ ایس ٹی کورٹ نے بدھ کو ریپ کیس میں آسارام باپو کو قصوروار قرار دیا۔ 2013  کے اس معاملہ میں آسارام کے علاوہ دو دیگر افراد بھی مجرم ثابت ہوئے ہیں۔ ان میں آسارام کی معاون شلپی بھی ہے جس نے متاثرہ کے کنبوں کو ماننے پر مجبور کر دیا تھا کہ اس پر بری روح کا سایہ ہے۔ شلپی کے سمجھانے پر ہی متاثرہ کے گھر والوں نے اسے جودھپور آشرم بھیجا تھا۔ بعد میں اسی نابالغ متاثرہ نے آسارام پر ریپ کا الزام لگایا تھا۔


      بتا دیں کہ شلپی مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ آشرم کی وارڈن تھی۔ کال تفصیلات میں سامنے آیا کہ شلپی آسارام باپو کے اور متاثرہ کے خاندان کے ساتھ ساتھ مسلسل رابطے میں تھی۔ لڑکی کی عصمت دری سے ایک ہفتہ قبل آسارام اور شلپی کے بیچ ہونے والی بات چیت کا سلسلہ بڑھ گیا تھا۔ متاثرہ نے اپنی شکایت میں بتایا کہ شلپی برین واش کر کے لڑکیوں کو آشرم بھیجتی تھی۔ یہ بھی کہا گیا کہ شلپی اور آشرم کا ثالث شیوا اس دن آشرم میں ہی تھا جب بچی کی عصمت دری کی گئی۔


      شلپی کون ہے؟


      رپورٹوں کے مطابق، اس کا اصلی نام سنچتا ہے اور اس کا پورا خاندان آشرم میں خدمت کرتا تھا۔ وہ ہی اسے آسارام کے آشرم لے جاتے تھے۔ نفسیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کر چکی شلپی 2005 میں احمد آباد آشرم میں شامل ہوئی تھی۔ 2012 میں اس نے اپنے خاندان سے کہا تھا کہ اسے آشرم کی زندگی اچھی لگ رہی ہے۔

      First published: