ہوم » نیوز » No Category

مالیگاوں میں منعقدہ سیمینارمیں تین ادیبوں نےواپس کیے ایوارڈز

مالیگاوں۔ ملک میں مرکزی اورمختلف ریاستی حکومتیں اور ان سے منسوب فرقہ پرست طاقتیں اتحاد کو بکھیرنے کی کوشش کر رہی ہیں جس کی وجہ سے ملک کے صحافیوں ،قلم کاروں ،ادبیوں اور فنکاروں کے اپنے ایوارڈ لوٹانے کا سلسلہ جاری ہے مگر حکومت وقت سے وابستہ افراد کی بدکلامی اور شرپسندی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔

  • ETV
  • Last Updated: Nov 17, 2015 03:25 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مالیگاوں میں منعقدہ سیمینارمیں تین ادیبوں نےواپس کیے ایوارڈز
مالیگاوں۔ ملک میں مرکزی اورمختلف ریاستی حکومتیں اور ان سے منسوب فرقہ پرست طاقتیں اتحاد کو بکھیرنے کی کوشش کر رہی ہیں جس کی وجہ سے ملک کے صحافیوں ،قلم کاروں ،ادبیوں اور فنکاروں کے اپنے ایوارڈ لوٹانے کا سلسلہ جاری ہے مگر حکومت وقت سے وابستہ افراد کی بدکلامی اور شرپسندی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔

 مالیگاوں۔ ملک میں مرکزی اورمختلف ریاستی حکومتیں اور ان سے منسوب فرقہ پرست طاقتیں اتحاد کو بکھیرنے کی کوشش کر رہی ہیں جس کی وجہ سے ملک کے صحافیوں ،قلم کاروں ،ادبیوں اور فنکاروں کے اپنے ایوارڈ لوٹانے کا سلسلہ جاری ہے  مگر حکومت وقت سے وابستہ افراد کی بدکلامی اور شرپسندی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔  اس کی وجہ سے اقلیتی طبقہ میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے ۔اسی لیے مالیگائوں شہر جسے مسجدوں، میناروں اور اردوکے جاننے والوں کا شہر کہا جاتا ہے وہاں اردو میڈیا سینٹر کے ممبران نے شہر کے صحافیوں اور ادبیوں کو ایک سمینار میں مدعو کیا تھا،  جہاں پر ملک کے حالات کو سننے کے بعد تین لوگوں نے فوراًاپنے ایوارڈ حکومت کو لوٹا دیئے ۔ بذریعہ پوسٹ اورینجل سرٹفیکٹ اور روپیئوں کا چیک بھیجا گیا ۔اسی طرح احتجاجاً ایڈیشنل کلکٹر کے دفتر میں جا کر ایک لیٹر اور ایوارڈ کی زیراکس جمع کروائی گئی ۔


مالیگائوں شہر میں قومی اردو یوم صحافت کے موقع پراردو میڈیا سینٹر میں " اردو صحافت کے دو سو سال " موضوع پر ایک سیمنار منعقد کیا گیا ۔ سیمنار کے اختتام پر وہاں موجود تین صحافیوں، قلم کاروں نے موجودہ حکومت کے رویہ کے خلاف اورملک میں فرقہ پرست طا قتوں کو سرکارکی جانب سے دیئے جارہے شہہ کے خلاف احتجاجاً اپنے ایوارڈس ضلع ایڈیشنل کلکٹر کے دفتر میں جا کرواپس کر دیے۔


  ایوارڈ لوٹانے سے پہلے قلم کار حضرات، بزرگ صحافیوں نے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکرکے پتلے تک پیدل مارچ کیا اور کامریڈ گوند پانسرے، ڈاکٹر نرریندر دابھولکر اور ایم ایم گلبرگی کو دو منٹ خاموش رہ کر خراج عقیدت پیش کیا۔ ایوارڈ لوٹانے والوں میں ہارون انصاری ،عبدالحلیم صدیقی اور محمد حسین فاروقی شامل تھے ۔


وہیں سمینار  میں اردو صحافت پر طویل گفتگو کی گئی ۔ صحافیوں نے اپنے خیالات بیان کرتے ہوئے صحافت میں پیش آرہی دشواریوں پر گفتگو کی ۔ بزرگ صحافیوں نے موجود نوجوان صحافیوں کو خبر لکھنے اور اس کے متعدد پہلووں پرغور کرنے کے بارے میں معلومات دی۔ کچھ نے صحافت کو درپیش  نئے چیلنجوں کے بارے میں بتایا ۔ اسی طرح مستقبل میں نوجوانوں کو اردو صحافت سے جوڑنے کی اپیل کی گئی ۔اس موقع پر شہر کے نوجوانوں نے بھی اپنی موجودگی درج کرائی۔

First published: Nov 17, 2015 03:25 PM IST