ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

پولیس اسٹیشن کے باہر کنروں نے اتارے کپڑے، دیکھ کر پولیس کے بھی اڑے ہوش: جانیں کیا ہے معاملہ

بتایاجاتا ہے کہ کنروں کو کپڑے اتارنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھ کر پولیس اسٹیشن میں موجود اہلکاروہاں سے بھاگ گئے۔ کنروں کا ہنگامہ ایک گھنٹے تک چلتارہا آخر کار ان کو سمجھا بجھا کر معاملے کو سلجھالیا گیا۔

  • Share this:
پولیس اسٹیشن کے باہر کنروں نے اتارے کپڑے،  دیکھ کر  پولیس کے بھی اڑے ہوش: جانیں کیا ہے معاملہ
بتایاجاتا ہے کہ کنروں کو کپڑے اتارنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھ کر پولیس اسٹیشن میں موجود اہلکاروہاں سے بھاگ گئے۔ کنروں کا ہنگامہ ایک گھنٹے تک چلتارہا آخر کار ان کو سمجھا بجھا کر معاملے کو سلجھالیا گیا۔

مہاراشٹرا کے ملکاپور میں کنروں نے پولیس اسٹیشن میں جم کر ہنگامہ کیا۔ٖ ان کا الزام تھا کہ پولیس ان کی شکایت کو نظرانداز کررہی ہے۔ ایک کنر کے گھر میں چوری ہوئی اور پولیس نے اس چوری کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ یہ الزام لگا کر کنروں نے پورا پولیس اسٹیشن سر پر اٹھا لیا۔ اتنی بڑی تعداد میں کنروں کو دیکھ کر لوگ حیران ہو گئے کہ یہ سب پولیس اسٹیشن میں کیا کر رہے ہیں اور پولیس چوکی کے باہر ان کے ہنگامے کی وجہ کیا ہے اور پولیس والوں کو خود اپنے ہی پولیس اسٹیشن سے کیوں بھاگنا پڑ رہا ہے۔


در اصل ملکاپور کے ایک کنر کے گھر میں چوری ہوئی تھی اور اس پورے معاملے میں پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ملکا پور شہر کے پنت نگر میں رہنے والے موگرا بائی کے گھر میں 7 مئی رات دو بجے کچھ لوگ گھس آئے اور دھمکی دے کر پچاس ہزار روپے پاس بک سمیت آدھارکارڈ اور زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے جس کی کل مالیت پچاس لاکھ روپے بتا ئی جاتی ہے۔




متاثرہ کنر نے کچھ مشتبہ افراد کے نام بھی بتائے لیکن پولیس نے ان کے خلاف صرف این سی درج کی۔ کنروں نے پولیس پر کارروائی نہ کر نے کا الزام عا ئد کیا اور مشکوک لوگوں کے خلاف ڈکیتی کا معاملہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ چوری کی خبر وردھا کے تمام خواجہ سراؤں تک پہنچ گئی۔ چنانچہ منگل کی شام ناگپور ، امراوتی ، اکولا ، چندر پور اور جلگاؤں سے کنر ملکاپور پہنچ گئے اور پولیس اسٹیشن کے باہر اپنے انداز میں احتجاج کیا اور کارروائی کا مطالبہ کیا۔



بتایاجاتا ہے کہ کنروں کو کپڑے اتارنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھ کر پولیس اسٹیشن میں موجود اہلکاروہاں سے بھاگ گئے۔ کنروں کا ہنگامہ ایک گھنٹے تک چلتارہا آخر کار ان کو سمجھا بجھا کر معاملے کو سلجھالیا گیا۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 22, 2021 09:28 PM IST