ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

بڑی خبر: عبادت گاہوں کو 50 فیصد حاضری کے ساتھ کھولنے کی اپیل، اور رمضان میں مسجدوں کو نہ کیا جائے بند

ماہم درگاہ ٹرسٹ اور حاجی علی درگاہ (Mahim and Haji Ali Dargah) ٹرسٹ نے کلکٹر کو میمورنڈم دیا ہے جس میں عبادت گاہوں کو 50 فیصد حاضری کے ساتھ کھولنے کی اپیل کی ہے۔

  • Share this:

ممبئی سے بڑی خبر سامنے آئی ہے کہ ماہم درگاہ ٹرسٹ اور حاجی علی درگاہ ٹرسٹ (Mahim and Haji Ali Dargah) نے کلکٹر کو میمورنڈم دیا ہے جس میں عبادت گاہوں کو 50 فیصد حاضری کے ساتھ کھولنے کی اپیل کی ہے۔ کووڈ گائیڈ لائن پر عمل کرتے ہوئے اجازت دینے سے متعلق یہ معاملہ ہے۔ واضح ہو کہ جب گزشتہ سال کورونا کے پیش نظر لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا تبھی سے عبادگاہیں بند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی اجازت باقاعدہ حکومت کی جانب سے دی جائے۔


وہیں رمضان المبارک میں مسجدوں کولاک ڈاؤن سے مستثنی رکھنے کا مطالبہ آج ممبئی کے عمائدین شہر اور علما کرام اور اکابرین کے نمائندہ وفد نے وزیر صحت راجیش ٹوپے سے کیا ہے۔ اس وفد کی قیادت نامور عالم دین مولانا خالد اشرف، مولانا اطہر علی، مولانا اعجاز کشمیری، عبدالحسیب بھاٹکر اورم مبئی امن کمیٹی کے صدر فریدشیخ نے قائد اورسماجوادی پارٹی لیڈر ابو عاصم اعظمی اور رئیس شیخ کے ہمراہ وزیر صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان میں اگر پابندیاں عائد کی جاتی ہے تو یہ مسلمانوں کی ناراضگی کا باعث ہو گا کیونکہ سال بھر مسلمان ماہ صیام کا انتظار کرتے ہیں۔ اس لئے رمضان میں ضوابط صحت و سلامتی کے شرائط کے ساتھ مساجد میں عبادت کی اجازت دی جائے اور مسجدوں کو لاک ڈاؤن سے مستثنی قرار دیا جائے۔


یہی وقت کا تقاضہ ہے لاک ڈاؤن کے ساتھ نائٹ کرفیو بھی نافذ عمل ہے جو تراویح کی نماز کے لئے مشکل پیدا کرتا ہے اس لئے اس کی اوقات میں تبدیلی کی جائے کرفیو رات آٹھ بجے کے بجائے رات دس بجے کیا جائے اس کے ساتھ ہی لاک ڈاؤن میں خوانچہ فروشوں اور پھیری والوں پر تشدد پولس کے ڈنڈے برسانے کے عمل سے حالات خراب ہورہے ہیں اگر یہ غریب اپنا کام بند کر یں گے تو روزانہ کیا کھائیں گے جبکہ سرکار نے ان طبقات اور غریبوں کےلئے کوئی راحتی پیکیج نہیں دیاہے لوگ بھکمری کا شکار ہو رہے ہیں لوگوں میں لاک ڈاؤن کے تئیں غصہ ہے اس پر وزیر صحت راجیش ٹوپے وفد کو مثبت اقدامات کی یقین دہائی کرائی اورکہا کہ وہ تمام تجاویز وزیر اعلی ادھوٹھاکرے کے سامنے پیش کر کے لاک ڈاؤن میں رعایت کی کوشش کر کے ان نکات پر ان کی توجہ مبذول ضرور کروائیں گے اور کوئی مثبت نتیجہ نکلے گا ۔

Published by: Sana Naeem
First published: Apr 06, 2021 08:20 PM IST