ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

فرقہ وارانہ فسادات معاملہ میں جمعیۃ علما ہند کی کوشش سے دونوجوان باعزت بری

گجرات پولیس نے عثمان غنی عرف بھورا عبدالغفار اور یونس چاند محمد شیخ کو گرفتار کیا تھا، جن کو جمعیۃ علما ہند کی کوششوں سے سپریم کورٹ نے باعزت بری کردیا ہے۔

  • Share this:
فرقہ وارانہ فسادات معاملہ میں جمعیۃ علما ہند کی کوشش سے دونوجوان باعزت بری
گجرات پولیس نے عثمان غنی عرف بھورا عبدالغفار اور یونس چاند محمد شیخ کو گرفتار کیا تھا، جن کو جمعیۃ علما ہند کی کوششوں سے سپریم کورٹ نے باعزت بری کردیا ہے۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے 2002 میں احمدآباد کے شاہ عالم علاقہ میں ہونے والے دو فرقوں کے درمیان فرقہ وارانہ فساد معاملہ کے ملزمین کو باعزت بری کر دیا ہے۔ کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد مسلم برادری کے لوگوں میں خوشی کی جھلک دیکھنے کو ملی۔


دو ہزار تین میں ہونے والے فرقہ وارانہ فساد میں گجرات پولیس نے عثمان غنی عرف بھورا عبدالغفار اور یونس چاند محمد شیخ سمیت دیگر 7مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد نچلی عدالت نے ان لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔


نچلی عدالت کے اس فیصلہ کو گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جہاں کورٹ نے عمر قید کی سزا کو ختم کر دس سال کی سزا سنائی جس کے بعد جمعیت علماء ہند کی قانونی امداد کمیٹی نے اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور کورٹ نے ان دونوں مسلم نوجوانوں کو با عزت بری کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔


احمد آباد کے دانيلمڑا علاقے میں رہنے والے عثمان غنی کو پولیس نے 2002 میں گرفتار کر لیا تھا۔ ریڈيمینڈ کا کام کرنے والے عثمان غنی کو جب پولیس نے گرفتار کیا تھا تب ان کی عمر 25 سال کی تھی، لیکن جب سپریم کورٹ نے انہیں با عزت بری کیا اس وقت ان کی عمر 37 سال کی ہو گئی ہے۔ اس دوران جہاں عثمان کا کاروبار بالکل ختم ہو گیا ہے۔ وہیں گھر کے پانچ پانچ لوگوں کی موت بھی ہو چکی ہے۔ لیکن آج عثمان جیل سے ضمانت پر باہر ہے۔ لڑکے کے جیل میں جانے سے خاندان پر اس کا ایسا اثر پڑا کہ آہستہ آہستہ اپنوں نے ساتھ چھوڑ دیا۔

اس دوران جمعیت علماء ہند کو اس کے بارے میں اطلاع ملی تب سے لے کر آج تک جمعیت ان کے گھر کی تمام طرح کی ذمہ داری اٹھا رہی ہے۔ آج عدالت کے فیصلہ سے عثمان خوشی کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ گجرات پولیس سے سوال کر رہے ہیں کہ انہیں کس جرم میں گرفتار کیا گیا تھا اور جتنے سال انہیں نے جیل میں گزارا اس کا کیا ہوگا۔  لڑکے کی رہائی پر ان کی والدہ کے چہرے پر جہاں خوشی دیکھنے کو مل رہی ہے وہیں ان آنکھوں میں آنسو بھی صاف دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر جمعیت بورے وقت میں ساتھ نہیں دیتی تو نہ جانے کیا ہو جاتا۔

احمد آباد کے چنڈولا تالاب علاقے میں واقع یونس چاند محمد شیخ کے گھر کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ گھر کی پوری ذمہ داری اٹھانے والے کو گرفتار کر لیا جاتا ہے، تو گھر اور خاندان پر کیسا اثر پڑتا ہے، اس کا اندازہ یونس چاند محمد شیخ کے گھر کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ چاند کے گھر میں بہن بھائی اور والدین کے ساتھ ہی ساتھ دو معصوم بچے رہتے ہیں۔ جہاں عثمان غنی ضمانت پر اپنے خاندان والوں کے ساتھ ہے وہیں چاند کا خاندان آج بھی اپنے بیٹے کا انتظار کر رہا ہے۔ چاند کے گھر والوں کی اقتصادی حالت اتنی خراب ہے کہ اس کی بیوی کو دوسرے کے گھر کام کر گھر کی ذمہ داری کو اٹھانی پڑ رہی ہے۔ اتنا ہی نہیں معصوم لڑکے پڑھائی کے لئے اسکول بھی نہیں جا پا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں چاند کے والد آج بھی گجرات پولیس سے سوال کر رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کو کس جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 2002 گجرات فرقہ وارانہ فسادات کے بعد پولیس نے بڑی تعداد میں مسلم برادری کے نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا ، لیکن ہمارے سامنے کئی ایسے معاملے ہیں۔ جب مسلم نوجوانوں کو کورٹ با عزت بری کر دیا ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر پولیس اپنا کام صحیح طریقے سے کرتی تو آج بے گناہ لوگوں کو اتنے سالوں تک جیل کی سزا نہیں کھانی پڑتی اور ملزمان کو ان کے کرتوت کی سزا بھی مل جاتی۔

احمد آباد سے کی عارف عالم کی  رپورٹ
First published: Aug 13, 2018 12:01 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading