உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ادھو کا مرکز پر حملہ، ڈکٹیٹر ہٹلر کا بھی غرور ختم ہو گیا تھا، خود کو گولی ماری تھی

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    نئی دہلی۔ اتراکھنڈ میں مرکزی حکومت کی فضیحت کے بعد اب شیوسینا نے جلے پر نمک چھڑکا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ اتراکھنڈ میں مرکزی حکومت کی فضیحت کے بعد اب شیوسینا نے جلے پر نمک چھڑکا ہے۔ شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا کے اداریے میں ادھو ٹھاکرے نے مرکزپر شدید حملہ بولا ہے۔ مضمون کے ذریعے مرکز کی بی جے پی حکومت کو ادھو نے مشورہ دیا ہے۔

      ادھو نے کہا کہ مرکزی حکومت جمہوریت کی اہمیت کو سمجھے۔ عوام نے راج کرنے کے لئے ہاتھ میں دودھاری تلوار دی ہے۔ اس تلوار سے خود کی ناک مت کاٹو، ورنہ حال اتراکھنڈ جیسا ہو سکتا ہے۔ ادھو نے خبردار کیا کہ حکومت جمہوریت کو ہلکے میں نہ لے، ورنہ ناک کٹتے دیر نہیں لگے گی۔

      سامنا میں لکھا ہے، اتراکھنڈ کو دیو بھومی کا درجہ حاصل ہے۔ اس کی سیاسی طاقت آزمائی کے نتائج میں کون جیتا اور کون ہارا اس کی بجائے جمہوریت کی جیت ہوئی ایسا کہنا پڑے گا۔ کانگریس پارٹی کو جیت کا  ڈھول بجانے کا موقع مل گیا۔

      اتراکھنڈ میں کانگریس کے 9 ممبر اسمبلی باغی ہو گئے اور حکومت اقلیت میں آگئی۔ اسمبلی میں اکثریت ٹیسٹ ہوا نہیں تو کانگریس کی حکومت ہار گئی ہوتی، لیکن کئی طرح کے کھٹ پٹ کرکے  اس سے گریز کیا گیا اور صدر راج نافذ کر دیا گیا۔

      سامنا کے اداریہ میں ادھو ٹھاکرے نے یہ بھی کہا ہے کہ اتراکھنڈ میں کانگریس کا راستہ آسان نہیں تھا۔ یہ ہماری غلطیوں کا ہی نتیجہ تھا۔ ملک کو کانگریس سے مکت کرنے کا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ یہی طریقہ تسلیم کرنا ہوگا تو ملک میں براہ راست آمریت لادی جائے گی اور جمہوریت کے ذریعہ چن کر آئی حکومتوں کو زبردستی ہٹا دیا جائے گا۔

      دہلی میں کیجریوال کی حکومت بھی ٹھیک سے نہیں چل رہی ہے، بی جے پی والے ایسا شور مچا رہے ہیں۔ پھر وہاں بھی صدر راج لگا کر راج کرنے کی خواہش خار دار جھاڑیوں کی طرح اگ آئی ہے کیا؟ جمہوریت میں لاکھوں کی باتیں سنی جاتی ہے، صرف جگالی کے لیے جمہوریت نہیں ہے۔ آج گویا ملک کورٹ ہی چلا رہا ہے اور اس کے لئے حکمراں طبقہ ہی ذمہ دار ہے۔
      First published: