உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ادھوٹھاکرے کی اصل طاقت کا امتحان BMC Elections میں ہوگا

     سپریم کورٹ نے مہاراشٹر اسمبلی فلور ٹیسٹ کو روکنے کے مطالبے کو خارج کردیا اور اس کے فوراَ بعد ہی ادھوٹھاکرے نے بطورِ وزیراعلیٰ اپنے استعفے کا اعلان کردیا ۔ اصل میں اس استعفے کو شیوسینا کی شکشت سے زیادہ اسے ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے کی ایک دلیل کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔

    سپریم کورٹ نے مہاراشٹر اسمبلی فلور ٹیسٹ کو روکنے کے مطالبے کو خارج کردیا اور اس کے فوراَ بعد ہی ادھوٹھاکرے نے بطورِ وزیراعلیٰ اپنے استعفے کا اعلان کردیا ۔ اصل میں اس استعفے کو شیوسینا کی شکشت سے زیادہ اسے ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے کی ایک دلیل کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔

    سپریم کورٹ نے مہاراشٹر اسمبلی فلور ٹیسٹ کو روکنے کے مطالبے کو خارج کردیا اور اس کے فوراَ بعد ہی ادھوٹھاکرے نے بطورِ وزیراعلیٰ اپنے استعفے کا اعلان کردیا ۔ اصل میں اس استعفے کو شیوسینا کی شکشت سے زیادہ اسے ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے کی ایک دلیل کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔

    • Share this:
    ادھوٹھاکرے نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کے عہد سے استعفیٰ دے کر ہائی وولٹیج سیاسی ڈرامہ بازی کو ختم کردیا ہے اور اس کے ساتھ ایک نئی سیاسی پاری کے آغاز کا اشارہ بھی دیدیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مہاراشٹر اسمبلی فلور ٹیسٹ کو روکنے کے مطالبے کو خارج کردیا اور اس کے فوراَ بعد ہی ادھوٹھاکرے نے بطورِ وزیراعلیٰ اپنے استعفے کا اعلان کردیا ۔ اصل میں اس استعفے کو شیوسینا کی شکشت سے زیادہ اسے ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے کی ایک دلیل کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ اب شیوسینا کیلئے اصل فلور آنے والی بی ایم سی انتخابات ہوں گے اور اسی کے پیش نظر ادھونے جاتے جاتے چند ماسٹراسٹروک کھیل کر وزارتِ اعلیٰ کے عہدے کو چھوڑا ہے۔ ریاست کا مسلم طبقہ شاید اس بات سے سخت ناراض ہو کہ ادھوٹھاکرے نے جاتے جاتے مہاراشٹر کے دوشہروں اورنگ آباد اور عثمان آباد کانام تبدیل کرکے اقلیتی طبقے کی ناراضگی مول لے لی ہے لیکن اگر کھلی آنکھوں سے اس پورے منظر نامے کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ادھوٹھاکرے نے جاتے جاتے ماسٹر اسٹروک کھیل کر گئے ہیں۔ اگر ادھوٹھاکرے دونوں شہروں کے نام تبدیل نہ بھی کرتے تو اس بات کی کیا گیارنٹی تھی کہ فڑنویس گورنمنٹ اس موقع کو اپنے ہاتھ سے جانے دیتی اور نام تبدیل کرکے پورا کریڈٹ وصول کرنے میں زرا بھی تساہلی کا مظاہرہ کرتی , دونوں شہروں کے نام کی تبدیلی تو شیوسینا کے ایجنڈے کا حصہ تھا۔

    ادھوکا دوسرا ماسٹر اسٹروک نئی ممبئی ائیرپورٹ پورٹ کو دیبا پاٹل کے نام سے منسوب کرنا ہے۔ شیوسینا اس ایئرپورٹ کوبال ٹھاکرے کے نام سے منسوب کرنا چاہتی تھی اور یہ پیش کش باغی اراکین و وزراء کے لیڈر ایکناتھ شندے نے پیش کی تھی لیکن مقامی افراد میں ا س کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے ادھوٹھاکرے نے اس ایئرپورٹ کو اپنے والد بال ٹھاکرے سے منسوب کرنے کی بجائے جہد کار اور سیاست داں دینکر بالو پاٹل (دیبا پاٹل) کے نام منسوب کرنے کا اعلان کرکے اپنی سیاسی پختگی کا ثبوت دیا ہے۔ ادھوٹھاکرے بھلے ہی میچ ہار گئے ہو لیکن انہوں نے آخری بال پرچھ رن مارکر نہ صرف شائقین کا دل جیت لیا ہے بلکہ بی جے پی کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کا بھی کام انجام دیاہے۔ شیوسینا کے باغی اراکین اسمبلی اور وزراء جنہوں نے ہارڈ ہندوتوا کا سہارا لیکر ادھو ٹھاکرے کے ساتھ غداری کی اور ٹھاکرے خاندان کی جڑیں ہلانے کی مکمل کوششیں کی۔ اس واقع نے یقیناََ ادھو ٹھاکرے کو شدید مایوس کیا ہوگا لیکن شر میں خیر کے پہلو کے مصداق ادھو پریوار کو بیدار ہونے کا ایک بہترین موقع بھی عنایت کیا ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اب شاید مستقبل کی شیوسیناموجودہ شیو سینا سے زیادہ committed ہو اور ادھو ایک مضبوط پارٹی تشکیل دینے میں کامیاب ہوجائیں ایسی پارٹی جسے مستقبل میں بغاوت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ادھر ٹھاکرے نے وزارت اعلیٰ کے عہدے کے ساتھ ایم ایل سی شپ سے بھی مستعفیٰ دے دیا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ادھو اپنی صحت کے ساتھ پارٹی کی خرابیء صحت پر بھی دھیان دینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ ایک ایسی پارٹی تیار کرنے کو ضرور ترجیح دینگے جسے آئندہ اس قسم کے سیاسی چیلنج کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
    جن افراد نے شیوسینا کے ساتھ غداری کی ہے ان کی بغاوت اور ان کی اوقات انہیں ڈھائی سال کے عرصے کے بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پتہ چل جائیگی۔

    ایک بات تو صاف ہے کہ ان باغی اراکین کو بی جے پی اپنے اندر ضم تو کرسکتی لیکن انہیں ہضم کرنا بی جے پی کیلئے بھی مشکل ہی ہوگا۔ ادھو کے سامنے سب سے بڑا چیلنج آنے والے بی ایم سی انتخابات ہیں۔ اس الیکشن میں ادھو ٹھاکرے کواس بات کا بخوبی علم ہوجائیگا کہ انہیں مراٹھی مانوس کا کتنا سپورٹ حاصل ہے, ظاہر سی بات ہیکہ شیوسینا کی پوری سیاست مراٹھی ووٹ بینک پر ہی منحصر ہے۔ بہر حال سپریم کورٹ نے مہاراشٹر اسمبلی فلور ٹیسٹ کو روکنے سے انکار تو کردیا لیکن ادھو ٹھاکرے کی سیاسی قیادت کا اصل فلور ٹیسٹ ممبئی عظمیٰ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کی شکل میں ہونا ابھی باقی ہے۔ بی جے پی بھلے ہی مختلف ہتھکنڈے استعمال کرکے BMC کو شیوسینا کے ہاتھ سے چھیننے کی کوشیش کرے لیکن مراٹھی عوام کا ادھوٹھاکرے کی قیادت پر بھوسہ اور ادھوٹھاکرے کی بہتر انتخابی منصوبہ بندی بی جے پی کے ناپاک ارادوں پر پانی بھی پھیر سکتی ہے. BMC پر شیوسینا گذشتہ 25 سالوں سے قابض ہے۔

    BMC فائنانس کے معاملے میں شیوسینا کی ریڑھ کی ہڈی بھی تسلیم کی جاتی ہے ایسے میں بی جے پی ضرور شیوسینا کو کمزور کرنے کی کوشیش کرے گی اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا بی ایم سی الیکشن میں مات کھاجاتی ہے اور بی ایم سی سے شیوسینا کے پچیس سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوجاتا ہے تو پھر ادھوٹھاکرے خاندانی سیاست کو بچانے کیلئے بی جے پی کے ساتھ سمجھوتا بھی کرسکتے ہیں اس صورتِ حال سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ادھو کے ساتھ ایک پلس پوائنٹ یہ بھی ہے کہ حکومت چلانے کا تجربہ نہ ہونے کے باوجود انہوں نے ناصرف اچھی طرح مہاراشٹر حکومت کو چلایا بلکہ کووڈ کے دور میں بہترین کارکردگی کا بھی مظاہرہ کیا اور ایک اچھے ساست داں کے ساتھ ساتھ ساتھ اپنے آپ کو ایک اچھا ایڈمنسٹریٹر بھی ثابت کیا۔

    دیپک ہڈا T20انٹرنیشنل میں ہندستان کی جانب سے سنچری جڑنے والے 5ویں کھلاڑی، فہرست میں یہ بھی
    ممبئی عظمٰی میونسپل الیکشن آنے تک ( جیسا کہ کارپوریشن انتخابات قریب ہیں) مراٹھی عوام نے ادھو کی ان خوبیوں کو یاد رکھا اور اس کے ساتھ ادھو کی سیاسی مظلومت کارڈ بھی ان کے حق میں بہتر ثابت ہوا۔ تو اس بات کے قوی امکانات ہوسکتے ہیں کہ ادھو ٹھاکرے بی ایم سی پر دوبارہ قبضہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں اور اگر ادھو ٹھاکرے بی ایم سی پر دوبارہ اپنا جھنڈا لہرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں, تو شیوسینا کی جیت پارٹی میں ایک نئی جان پھونک سکتی ہے اور نئی طاقت کے ساتھ شیوسینا دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ ظہور پذیر ہوسکتی ہے۔ ادھوٹھاکرے کو گردن کے آپریشن سے گذرنا پڑا اس درمیان وہ اپنے اراکین اسمبلی اور وزراء کو بھی دستیاب بھی نہیں ہوسکے تھے۔ انہوں نے اہم معاملات میں ورچیول میٹنگیں کیں۔ ان جیسی وجوہات اور ہارڈ ہندوتوا کا بہانے بناکران کے اپنوں نے ہی ادھو ٹھاکرے کو اقتدار سے بے دخل کیا۔

    اس پورے منظر نامے میں ایک بات تو واضح ہوگئی ہے کہ ہندتوا کے ایجنڈے سے زیادہ طاقت طور ای ڈی اور دیگر سینٹرل ایجنسیوں کی دھکمیاں بی جے پی کیلئے کارگرثابت ہورہی ہیں۔ اس سے اس بات کے صاف اشارے بھی ملتے ہیں کہ بی جے پی کا ہندوتوا کا ایجنڈہ پہلی پوزیشن سے کِھسک کر دوسری اور تیسری پوزیشن پرآتاہوا دیکھائی دے رہا ہے۔ بی جے پی طاقت کے بل بوتے پر اقتدار کے حصول کی کوشیش کررہی ہے ایجنڈے آہستہ آہستہ پیچھے چھوٹتا ہوا دیکھائی دے رہا ہے۔ادھو ٹھاکرے نے جاتے جاتے اس بات کا اشارہ بھی دے دیا ہے کہ وہ مستقبل میں کبھی بی جے پی کے ساتھ اتحاد نہیں کرینگے اور انہوں نے کانگریس اور این سی پی کے ساتھ ریاست کے مسلمانوں کا بھی شکریہ اداکیا۔ ادھوٹھاکرے کی یہ حکمت عملی آگے کیا گل کھلائے گی اور شیوسینا کے وجود کیلئے کتنی کارگر ثابت ہوگی یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: