உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    انڈرویئر سے کھلا سنسنی خیز راز، پڑوسی نے پڑوسی کے ساتھ کر ڈالا تھا خوفناک کام

     ملزم نے اس سلاخ کو چھپا دیا اور نہاکر تیار ہو گیا تب تک مقتول کی بیوی نے اپنے شوہر کی لاش دیکھی اور وہ رونے لگی۔

    ملزم نے اس سلاخ کو چھپا دیا اور نہاکر تیار ہو گیا تب تک مقتول کی بیوی نے اپنے شوہر کی لاش دیکھی اور وہ رونے لگی۔

    ملزم نے اس سلاخ کو چھپا دیا اور نہاکر تیار ہو گیا تب تک مقتول کی بیوی نے اپنے شوہر کی لاش دیکھی اور وہ رونے لگی۔

    • Share this:
    اکثر ملزم بڑے جرائم کے لئے نئی تکنیک سیکھتے اور استعمال کرتے ہیں۔ مجرم جرم کرنے کے بعد اس بات کا خاص خیال رکھتا ہے کہ اس کے پیچھےcکوئی ثبوت نہ رہ جائے لیکن کہا جاتا ہے کہ "قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں" جو کسی نہ کسی طرح ملزم تک پہنچ ہی جاتے ہیں "کچھ ایسا ہی واقعہ پونے میں پیش آیا ہے۔ پونے کے پاش علاقے میں مشہور ہنجے واڑی میں ایک شاطر قاتل کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس بات کے لئے کہ اس کے گھر کے بغل میں رہنے والا شخص شراب پینے کے بعد اپنے آس پاس کے لوگوں کو گالیاں دیتا تھا اور گھر میں بیوی کو مارتا اور گالیاں دیتا تھا جب کہ اس روز مرہ کے جھگڑے سے پریشان ہوکر ایک پڑوسی نے پڑوسی کولوہے کی سلاخ سے اتنی زیادہ پٹائی کردی کہ وہ مر گیا۔

    اس کے بعد ملزم نے اس سلاخ کو چھپا دیا اور نہاکر تیار ہو گیا تب تک مقتول کی بیوی نے اپنے شوہر کی لاش دیکھی اور وہ رونے لگی۔ پولیس کو قتل کی اطلاع دی۔ پولیس نے تفتیش شروع کردی۔ دو سے تین گھر اور اہم قصبے سے دور گھر سے یہاں کسی کے نہ آنے کی تصدیق کی تفتیش کے دوران ایک حولدار کی نظر وہاں سوکھنے والے کپڑوں پر گئی جس میں تمام کپڑے سوکھے تھے لیکن ایک انڈرویئر گیلا دکھائی دیا جس پر اسے شک ہوا اور اس نے اس شخص کے ساتھ والے گھر میں اس کی وجہ پوچھی۔ نوجوان نے کہا کہ میرا انڈرویئر میرے ہوم ٹاؤن ہونے کی وجہ سے خراب ہو گیا تھا۔



    پولیس کو اس پر شک ہوا اور پوچھنا شروع کیا کہ ہوم ٹاؤن سے انڈر ویئر کیسے خراب ہوسکتا ہے ، کچھ دیر بعد اس شخص نے نہانے کی بات کی۔ پولیس کے سامنے گھبرا کر نوجوان نے سارا واقعہ پولیس کو بتا دیا۔ ملزم کا نام کیلاش انکش ڈونگرے 32 سال ہے۔ پولیس نے کیلاش کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ ہر روز شراب کے نشے میں آتا تھا اور محلے کے لوگوں کو گالیاں دیتا تھا جس کی وجہ سے پریشان ہوکر اسے نے یہ قدم اٹھایا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: