ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

یوپی ایس سی رینک ہولڈر بولے: اب میں فخر سے بتا سکتا ہوں، میں شبھم نہیں، شیخ انصار ہوں

پنے۔ کہتے ہیں کہ دل میں کچھ کر گزرنے کی مضبوط قوت ارادی ہو تو راستے میں آنے والی بڑی سے بڑی مشکلات بھی آسان ہو جاتی ہیں۔

  • Agencies
  • Last Updated: May 11, 2016 06:43 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
یوپی ایس سی رینک ہولڈر بولے: اب میں فخر سے بتا سکتا ہوں، میں شبھم نہیں، شیخ انصار ہوں
پنے۔ کہتے ہیں کہ دل میں کچھ کر گزرنے کی مضبوط قوت ارادی ہو تو راستے میں آنے والی بڑی سے بڑی مشکلات بھی آسان ہو جاتی ہیں۔

پنے۔ کہتے ہیں کہ دل میں کچھ کر گزرنے کی مضبوط قوت ارادی ہو تو راستے میں آنے والی بڑی سے بڑی مشکلات بھی آسان ہو جاتی ہیں۔ جی ہاں، پنے کے اکیس سالہ انصار احمد شیخ نے یونین پبلک سروس کمیشن (آئی اے ایس) میں تین سو اکسٹھواں واں رینک حاصل کر کچھ ایسا ہی کر دکھایا ہے۔ جالنا کے شیڈگاوں کے ایک آٹو رکشہ ڈرائیور کے بیٹے انصار شیخ نے اپنے مضبوط عزم وحوصلہ کی بدولت تمام رکاوٹوں اور مشکلات کا بھر پور مقابلہ کیا اور یہی وجہ ہے کہ آج انہوں نے یہ شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ پنے کے فرگوسن کالج سے آرٹس اور پولیٹیکل سائنس میں بی اے انصار کہتے ہیں کہ بی اے کرنے اور یوپی ایس سی کی تیاری کے لئے وہ پنے آئے تھے۔


انڈین ایکسپریس میں چھپی خبر کے مطابق، پنے میں رہنے کے لئے جگہ اور کھانے کے لئے اپنا نام اور اپنی شناخت تک  انہیں تبدیل کرنا پڑا۔ اپنی کامیابی پر فرط مسرت سے سرشار انصار شیخ کہتے ہیں کہ اب وہ فخر کے ساتھ اپنا حقیقی نام لوگوں کو بتا سکتے ہیں۔ اپنے گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرتے ہوئے شیخ  کہتے ہیں کہ مجھے پی جی کمرہ کی تلاش تھی۔ میرے ہندو دوستوں کو رہنے کے لئے کمرے دے دئیے گئے، لیکن مجھے انکار کر دیا گیا۔ اگلی بار جب میں کمرہ تلاش کرنے نکلا تو میں نے اپنا نام شیخ کی بجائے شبھم بتایا جو کہ میرے دوست کا نام ہوا کرتا تھا۔ ایسا کرنے پر مجھے کمرہ مل گیا۔ شیخ کہتے ہیں کہ اب میں اپنا اصلی نام نہیں چھپاوں گا۔


انصار شیخ جب اپنی مشکل بھری زندگی اور ناموافق صورت حال کو یاد کرتے ہیں تو ان کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے والد کی تین بیویاں ہیں جن میں میری والدہ دوسرے نمبر پر ہیں۔ میرے گھر پر پڑھائی کا ماحول نہیں ہے۔ میرے چھوٹے بھائی نے اسکول کی تعلیم ترک کر دی اور میری دو بہنوں کی شادی ان کی اوائل عمر میں ہی کر دی گئی۔ وہ زیادہ نہیں پڑھ سکیں۔ جب میں نے گھر پر فون کر کے بتایا کہ میں نے یوپی ایس سی امتحان پاس کر لیا ہے اور میں آئی اے ایس افسر بننے والا ہوں، تو میرے گھر کے لوگ حیرت میں پڑ گئے۔


یوپی ایس سی کے لئے اپنی تیاریوں کے بارے میں پوچھے جانے پر انصار شیخ نے کہا کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ اپنی پوری اسکولی زندگی اور کالج میں ٹاپر شیخ نے بتایا کہ بغیر کسی وقفہ کے گزشتہ تین برسوں میں دس سے بارہ گھنٹے تک میں نے تیاری کی ۔ شیخ نے کہا کہ میں طلبہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے آپ سے پوچھیں، وہ سسٹم میں کیوں رہنا چاہتے ہیں؟ جب انہیں اس سوال کا جواب مل جائے گا ، راستہ از خود واضح ہو جائے گا۔ اپنی پوری زندگی مذہبی تفریق اور بھید بھاو کا سامنا کرنے والے شیخ نے کہا کہ وہ ہندو۔ مسلم میں اتحاد کے فروغ کے لئے کام کرنا چاہیں گے۔

 
First published: May 11, 2016 05:40 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading