ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں اردو طلبہ حکومت کی تنگ نظری کے شکار ، مشکلات میں اضافہ

مدھیہ پردیش محکمہ اعلی تعلیم کے کمشنر مکیش کمار شکلا کے ذریعہ کورونا قہر میں صوبہ کی یونیورسٹیوں میں یو جی اور پی جی کلاس کے طلبہ کے لئے آن لائن کلاس شروع کئے جانے کا احکام جاری کیا گیا ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں اردو طلبہ حکومت کی تنگ نظری کے شکار ، مشکلات میں اضافہ
مدھیہ پردیش میں اردو طلبہ حکومت کی تنگ نظری کے شکار ، مشکلات میں اضافہ

مدھیہ پردیش میں اردو کو لے کر حکومت کی عدم توجہی تو پہلے سے ہی عام تھی اب کورونا قہر میں شروع ہونے والی  آن لائن کلاس کے لئے جاری کئے گئے سرکاری احکام میں مدھیہ پردیش کی یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے سبھی مضامین کو شامل تو کیا گیا ہے ، لیکن اس میں اردو اور فارسی کی کلاس کا کوئی ذکر نہ کرکے ایک طرف حکومت نے جہاں اپنی عدم توجہی کا ثبوت دیا ہے تو وہیں کورونا قہر میں اردو اور فارسی کے طلبہ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔


اٹھارہ ستمبر دوہزار بیس کو مدھیہ پردیش محکمہ اعلی تعلیم کے کمشنر مکیش کمار شکلا کے ذریعہ کورونا قہر میں صوبہ کی یونیورسٹیوں میں یو جی اور پی جی کلاس کے طلبہ کے لئے آن لائن کلاس شروع کئے جانے کا احکام جاری کیا گیا ۔ احکام کے مطابق یوجی اور پی جی کلاس کے طلبہ کا کورس مکمل کرنے کے لئے محکمہ اعلی تعلیم کی جانب سے آن لائن کلاس کا اہتمام کیا جا رہا ہے ۔ آن لائن کلاسیز یکم اکتوبر سے شروع ہوں گی اور طلبہ اس کے ذریعہ اپنے کورس کو مکمل کر سکیں گے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ محکمہ اعلی تعلیم کے ذریعہ جاری کئے گئے احکام میں یونیورسٹی کے ذریعہ پڑھائے جانے والے یوجی کے انیس سبجیکٹ اور پی جی کے اٹھارہ سبجیکٹ کو شامل کیا گیا ہے ، مگر اس میں یوجی اور پی جی دونوں سطح پر آن لائن کلاس میں اردو اور فارسی کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔


سیواسدن ڈگری کالج برہانپور شعبہ اردو فارسی کے صدر پروفیسر ایس ایم شکلیل کہتے ہیں کہ محکمہ اعلی تعلیم کے احکام کو پڑھ کر حیرت میں ہوں کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ مدھیہ پردیش کی جہاں سات یونیورسٹی اور اس سے متعلقہ کالجوں میں اردو اور فارسی پڑھائی جاتی ہے اور پورے مدھیہ پردیش میں اردو اور فارسی طلبہ کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کر رہی ہے ان کے لئے آن لائن کلاس کا محکمہ نے کوئی ذکر نہیں کیا ہے ۔ اگر غلطی سے ایسا ہوا ہے تو اس کو درست کیا جانا چاہئے اور اردو طلبہ کو اسی طرح آن لائن کلاس کے ذریعہ اپنا کورس مکمل کرنے موقع دیا جانا چاہئے ۔ میری محکمہ تعلیم ، وزیر برائے اعلی تعلیم اور وزیر اعلی سے گزارش ہے کہ اردو طلبہ کو بھی آن لائن کلاس کے ذریعہ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں ، جو دوسرے مضمون کے طلبہ کو یکم اکتوبر سے فراہم کرنے کی محکمہ اعلی تعلیم کے ذریعہ تیاری کی جاری ہے ۔


مدھیہ  پردیش محبان کمیٹی رکن شاہ ویز سکندر کہتے ہیں کہ یہ اردو کے ساتھ دانستہ طور پر ایک سازش ہے ۔ پہلے اردو اسکولوں کو بند کیا گیا ۔ اس کے بعد اردو اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری نہیں کی گئی اور پھر نئی تعلیمی پالیسی سے اردو کو باہر کیا گیا اور اب کورونا قہر میں جب کہ تمام لوگ ذہنی طور پر پریشان ہیں اردو طلبہ کو آن لائن کلاس سے دور کر کے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے ۔ ہم نے اس معاملہ کو لیکر وزیر برائے اعلی تعلیم موہن یادو سے فون پر بات کی ہے اور جب وہ بھوپال آئیں گے تو ان سے  ملاقات کر کے انہیں میمورنڈم بھی دیں گے اور ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کریں گے ، جنہوں نے دانستہ طور پر اردو طلبہ کو پریشان کرنے کا کام کیا ہے ۔

اردو طالب علم تنویر رضا برکاتی کہتے ہیں کہ محکمہ اعلی تعلیم کے اس فیصلے کو کسی طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ اس فیصلے کو واپس لے اور اردو طلبہ کو بھی وہی سہولیات مہیا فراہم کرے جو دوسرے مضمون کے طلبہ کو مہیا کئے جا رہے ہیں ۔

مدھیہ پردیش محکمہ اعلی تعلیم کے کمشنر مکیش کمار شکلا کہتے ہیں کہ محکمہ کی جانب سے جو احکام جاری کیا گیا ہے اس میں سبھی طلبہ کے لئے آن لائن کلاس میں شامل ہونے کا انتظام کیا گیا ہے ۔ اگر کسی مضمون کا کہیں ذکر رہ گیا ہے، تو اس کو لے کر شور مچانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مقامی سطح پر بھی لوکل کمیٹیوں کو اس بات کا حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سطح پر آن لائن کلاس کو لے کر انتظام کریں ۔ اردو طلبہ کو بھی وہی سہولیات ملیں گی ، جو سب کو حاصل ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 22, 2020 08:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading