உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    معروف صحافی اور تعلیمی جہدکار پدم شری فاطمہ زکریا کا انتقال، ملک بھر میں غم کا ماحول

    فاطمہ زکریا کا انتقال۔

    فاطمہ زکریا کا انتقال۔

    فاطمہ زکریا نے اپنے کریئر کی شروعات بطور صحافی کے کی اور اندراگاندھی سمیت کئی اہم شخصیات کے انٹرویو کئے۔ فاطمہ زکریا کے انتقال سے مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے صحافتی تعلیمی حلقوں میں دکھ کا اظہار کیا جارہا ہے۔ فاطمہ زکریا کی رحلت کو ملک و قوم کے نقصان کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

    • Share this:
    معروف صحافی اور تعلیمی جہدکار اور سماجی خدمتگار پدم شری فاطمہ زکریا کا آج مہاراشٹر کے شہراورنگ آباد کے بجاج اسپتال میں تقریباً 85 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ فاطمہ زکریا گذشتہ ایک ہفتے سے اورنگ آباد کے بجاج اسپتال میں زیرِ علاج تھیں۔ ممبئی میں مقیم ان کے رشتے دار آصف زکریہ نے بتایا کہ فاطمہ زکریا کو کووڈ 19ہوا تھا اور ان کی حالت میں کافی سدھار بھی تھا لیکن حرکت قلب بند ہونے کے سبب وہ اپنے مالکِ حقیقی سے جاملیں۔ فاطمہ کے فرزند فرید اور ارشد زکریہ امریکہ میں مقیم ہیں۔ فاطمہ زکریا کی آخری رسومات اور تدفین مولانا آزاد کیمپس اورنگ آباد میں ادا کی جائیگی ۔

    بتادیں کہ فاطمہ زکریا ایک عرصے تک ٹائمز آف انڈیا کے سنڈے ایڈیشن کی ایڈیٹر رہی اور بعد انہوں نے تاج ہوٹل کے میگزین دی تاج میں بھی ایڈیٹر کے فرائض انجام دیئے۔ اورنگ آباد سے رکن پارلیمان امتیاز جلیل نے بتایا کہ فاطمہ زکریا معروف دانشور اور اسلامک اسکالر اور سابق ریاستی وزیر ڈاکٹر رفیق زکریاکی بیوی اور معروف گلوبل میڈیا پرسنالیٹی دانشور اور سیاسی مفکر فرید زکریاکی والدہ تھیں۔ ڈاکٹر فرید زکریا ٹائم میگزین ۔ فارین افیئرس میگزین اور نیوز ویک انٹرنیشنل کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔ فاطمہ زکریاکی تعلیمی اور صحافتی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں اور وہ مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ کی چیئرمین اور مولانا آزاد ایجوکیشن سوسائٹی کی صدر نشین تھیں ۔

    ممبئی کے معروف تعلیمی ادارے مہاراشٹر کالج میں بھی عہدہ صدارت پر فائز تھیں۔ ممبئی میں مہاراشٹر کالج کے پرسنپل سراج چوگلے نے بتایاکہ فاطمہ زکریا کی خدمات پچاس سال سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ انہوں نے صحافت اور تعلیم کے علاوہ سماجی کاموں میں بہترین خدمات انجام دیں۔ 2006 میں تعلیمی میدان میں بہترین خدمات کے عوض انہیں پدم شری اعزاز سےنوازہ گیا ۔ فاطمہ زکریا کی پیدائش 17 فروری 1936 کو ممبئی میں ہوئی۔ فاطمہ زکریہ نے ممبئی میں انسٹی ٹیوٹ آف سوشل ورک نرملا نکیتن ممبئی میں تعلیم پائیں ۔ فاطمہ زکریا نے اپنے کریئر کی شروعات بطور صحافی کے کی اور اندراگاندھی سمیت کئی اہم شخصیات کے انٹرویو کئے۔ فاطمہ زکریا کے انتقال سے مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے صحافتی تعلیمی حلقوں میں دکھ کا اظہار کیا جارہا ہے۔ فاطمہ زکریا کی رحلت کو ملک و قوم کے نقصان کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: