اپنا ضلع منتخب کریں۔

    جالنہ کے معزول متولی سے وقف جائیداد بازیاب کرانے میں بورڈ حکام ناکام

    وقف جائیداد میں خرد برد کے الزام میں انہیں  متولی شپ سے بھی ہٹا دیا گیا ہے، لیکن اب تک جالنہ میں واقع درگاہ روضہ باغ شیر کو جمیل احمد کی تحویل سے چھڑانے میں بورڈ حکام کامیاب نہیں ہو سکا ہے ۔

    وقف جائیداد میں خرد برد کے الزام میں انہیں متولی شپ سے بھی ہٹا دیا گیا ہے، لیکن اب تک جالنہ میں واقع درگاہ روضہ باغ شیر کو جمیل احمد کی تحویل سے چھڑانے میں بورڈ حکام کامیاب نہیں ہو سکا ہے ۔

    وقف جائیداد میں خرد برد کے الزام میں انہیں متولی شپ سے بھی ہٹا دیا گیا ہے، لیکن اب تک جالنہ میں واقع درگاہ روضہ باغ شیر کو جمیل احمد کی تحویل سے چھڑانے میں بورڈ حکام کامیاب نہیں ہو سکا ہے ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:
      جالنہ : مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ سے وابستہ ایک معاملہ ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ جالنہ کے جمیل احمد کو وقف بورڈ کی رکنیت سے معزول کردیا گیا ہے۔ وقف جائیداد میں خرد برد کے الزام میں انہیں  متولی شپ سے بھی ہٹا دیا گیا ہے، لیکن اب تک جالنہ میں واقع درگاہ روضہ باغ شیر کو جمیل احمد کی تحویل سے چھڑانے میں بورڈ حکام کامیاب نہیں ہو سکا ہے ۔ ادھرجمیل احمد نے اس پورے معاملے کوسازش سے تعبیر کیا ہے۔
      مہاراشٹر میں وقف جائیدادوں کی بندر بانٹ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کئی معاملات عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ تازہ معاملہ میں جالنہ کے جمیل احمد اور مہاراشٹر وقف بورڈ کے درمیان جاری تنازع سرخیوں میں ہے ۔ ریاستی حکومت نے جمیل احمد کو وقف بورڈ کی رکنیت سے ہٹا دیاگیا ہے ۔ ان پر غیر مجاز طریقے سے متولی بننے اور وقف جائیداد میں خرد برد کرنے کا الزام ہے۔
      مہاراشٹر حکومت نے باضابطہ ایک حکم نامہ جاری کیا ہے ، جس میں جالنہ میں واقع روضہ باغ شیر درگاہ کی ملکیت کو جمیل احمد کی تحویل سے چھڑانے اور وقف بورڈ کی نگرانی میں لینے کی ہدایت شامل ہے۔ وقف بورڈ کے اعلی حکام پر مشتمل ایک وفد نے جالنہ پہنچ کر اس ملکیت کو اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کی ، لیکن انھیں کامیابی نہیں مل پائی کیونکہ پولیس نے سیکورٹی فراہم کرنے سے انکار کردیا۔
      وقف حکام نے جالنہ پہنچ کر قدیم جالنہ پولیس اسٹیشن کے پولیس انسپکٹر بالا صاحب پوارسے لے کر ایس پی جیوتی پریا سنگھ تک سے تک نمائندگی کی اور انھیں ریاستی حکومت کا آرڈر دکھایا ۔ وقف حکام نے واضح کیا کہ یہ سرکاری حکم نامہ ہے اور مقامی لوگ سرکاری کام میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرسکتے ہیں، اس لیے پولیس پروٹیکشن ضروری ہے ۔ جبکہ مقامی لوگوں نے اس پورے معاملہ کو مسلکی رنگ دینے کی کوشش کی ، جس کی بنا پر پولیس نے لا اینڈ آرڈر کا جواز پیش کرکے وقف حکام کو خالی ہاتھ واپس لوٹنے پر مجبور کردیا ۔
      وقف بورڈ کی جانب سے جاری کردہ دستاویز کے مطابق سید جمیل احمد نے جالنہ کے گٹ نمبر دو میں واقع سروے نمبر ایک سو ایک ، ایک سو دو اور ایک سو تین کی وقف جائیداد وں پرغیر مجاز طریقے سے بستیاں بسا ئی ہیں اور تقریباً 18 ایکڑ رقبے کی وقف ملکیت پرغیر قانونی قبضے کروائے ہیں۔ اس کے علاوہ جمیل احمد نے فرضی دستاویز کی بنیاد پردرگاہ کی تولیت حاصل کی۔ لیکن جمیل احمد نے اس پورے معاملے کومفاد پرست سیاستدانوں کی سازش سے تعبیر کیا اور قانونی راستے سے انصاف حاصل کرنے کی بات کہی۔
      اس پورے معاملے میں کس کا موقف درست ہے، اس کا فیصلہ اب عدالت کرے گی ۔ لیکن عوامی حلقوں میں اس معاملہ پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ جبکہ وقف امور کے ماہرین اسے سیاسی شعبدہ بازی اور اثر وسوخ کی لڑائی سے تعبیر کررہے ہیں ۔
      First published: