உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ماجد دیوبندی نے کی اردو کے رسم الخط کو بدلنے کی کوششوں کےخلاف مہم چھیڑنے کی اپیل

    اورنگ آباد: ہندوستان میں اردو کا رسم الخط بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے اور دیو ناگری رسم الخط کو اپنانے پر زور دیا جارہا ہے ، لیکن اردو کے ساتھ اگر ایسا ہوا تو اردو کا وجود ہی ختم ہوجائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار معروف شاعر ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے خلدآباد میں کیا ۔ ساتھ ہی انہوں نے اردو کا رسم الخط بدلنے کی کوشش کے خلاف اردو والوں سے پھر ایک مہم چھیڑنے کے اپیل کی۔

    اورنگ آباد: ہندوستان میں اردو کا رسم الخط بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے اور دیو ناگری رسم الخط کو اپنانے پر زور دیا جارہا ہے ، لیکن اردو کے ساتھ اگر ایسا ہوا تو اردو کا وجود ہی ختم ہوجائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار معروف شاعر ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے خلدآباد میں کیا ۔ ساتھ ہی انہوں نے اردو کا رسم الخط بدلنے کی کوشش کے خلاف اردو والوں سے پھر ایک مہم چھیڑنے کے اپیل کی۔

    اورنگ آباد: ہندوستان میں اردو کا رسم الخط بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے اور دیو ناگری رسم الخط کو اپنانے پر زور دیا جارہا ہے ، لیکن اردو کے ساتھ اگر ایسا ہوا تو اردو کا وجود ہی ختم ہوجائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار معروف شاعر ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے خلدآباد میں کیا ۔ ساتھ ہی انہوں نے اردو کا رسم الخط بدلنے کی کوشش کے خلاف اردو والوں سے پھر ایک مہم چھیڑنے کے اپیل کی۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      اورنگ آباد: ہندوستان میں اردو کا رسم الخط بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے اور دیو ناگری رسم الخط کو اپنانے پر زور دیا جارہا ہے ، لیکن اردو کے ساتھ اگر ایسا ہوا تو اردو کا وجود ہی ختم ہوجائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار معروف شاعر ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے خلدآباد میں کیا ۔ ساتھ ہی انہوں نے اردو کا رسم الخط بدلنے کی کوشش کے خلاف اردو والوں سے پھر ایک مہم چھیڑنے کے اپیل کی۔


      ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے کہا کہ اردو کا دائرہ تنگ ہورہا ہے ، اس کے لیے خود اردو والے ذمہ دار ہیں۔ نئی نسل میں اردو سے عدم دلچسپی اور ناواقفیت کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ بچوں کو کم از کم پانچویں جماعت تک اردو میں تعلیم دلانا ضروری ہے ۔


      انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت پر اردو دشمنی کا الزام عائد کرنے سے اردو والوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہئے۔

      First published: