ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ہیڈلی نے دی پاکستان کے جھوٹ کی گواہی، بولا میں لشکر کا کٹر حامی تھا

نئی دہلی۔ 26/11 ممبئی حملے کے دہشت گرد ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کی گواہی آج دوسرے دن بھی جاری ہے۔

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Feb 09, 2016 11:27 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ہیڈلی نے دی پاکستان کے جھوٹ کی گواہی، بولا میں لشکر کا کٹر حامی تھا
نئی دہلی۔ 26/11 ممبئی حملے کے دہشت گرد ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کی گواہی آج دوسرے دن بھی جاری ہے۔

نئی دہلی۔ 26/11 ممبئی حملے کے دہشت گرد ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کی گواہی آج دوسرے دن بھی جاری ہے۔ امریکی جیل میں بند ہیڈلی سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سوال جواب کئے جا رہے ہیں۔ ہیڈلی نے آج گواہی کے دوران کہا کہ وہ رحمن پاشا کو 2003 سے جانتا ہے۔ پاشا نے اسے ٹریننگ کیمپ میں ہتھیار چلانے کی تربیت دی تھی۔ پاشا پاک فوج کا ریٹائرڈ میجر ہے۔ وہ لشکر کے ساتھ کام کرتا تھا اور بعد میں اس سے جڑ گیا۔


ہیڈلی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ اور پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے درمیان اتحاد ہے۔ ہیڈلی نے آگے کہا کہ 26/11 حملے کی منصوبہ بندی نومبر 2008 سے ایک سال پہلے ہی بن چکی تھی۔


خصوصی سرکاری پراسیکیوٹر اجول نکم کی طرف سے کی گئی جرح کے دوران ہیڈلی نے خود کو 'لشکر کا کٹر حامی' بتاتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ وہ دہشت گرد تنظیم کے بانی حافظ سعید کی تقاریر سے 'متاثر اور حوصلہ افزا' ہوکر لشکر میں شامل ہوا تھا۔ ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے معاملے میں امریکہ میں 35 سال قید کی سزا بھگت رہے ہیڈلی نے سعید، ایک دیگر لشکر کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی اور تنظیم میں اس کے آقا ساجد میر کے کردار کے بارے میں بھی بات کی۔


ڈیوڈ ہیڈلی نے لشکر طیبہ کے لیڈروں حافظ سعید اور ذکی الرحمن لکھوی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ لشکر کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے اور اسے محدود کرنے کی امریکی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کریں۔ ہیڈلی نے کہا کہ لشکر نے اسے ہندوستان میں فوجی خفیہ معلومات جمع کرنے اور جاسوسی کے لئے کسی ہندستانی فوجی اہلکارکو بھرتی کرنے کے لئے بھی کہا تھا۔

ہیڈلی نے عدالت کو بتایا کہ لشکر کے ارکان نے ممبئی کے تاج ہوٹل میں منعقد ہونے والی ہندستانی دفاعی سائنسدانوں کی کانفرنس میٹنگ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ہیڈلی نے عدالت کو بتایا کہ لشکر طیبہ، جیش محمد، حزب المجاہدین اور حرکت المجاہدین پاک مقبوضہ کشمیر میں سرگرم یونائیٹڈ جہاد کونسل کے اتحادی ہیں۔

ہیڈلی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی نے اسے کہا تھا کہ وہ ان کے لئے جاسوسی کرنے کے لئے ہندستانی فوجی اہلکار کو مقرر کرے۔ ہیڈلی نے کہا کہ ہندستان میں دہشت گردانہ حملوں کے لئے بنیادی طور پر لشکر طیبہ ذمہ دار ہے اور یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تمام احکامات اس کے اعلیٰ کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی کی طرف سے آئے۔

انکشافات جاری رکھتے ہوئے ہیڈلی نے کہا، 'میں سال 2006 کے آغاز میں آئی ایس آئی کے میجر اقبال سے لاہور میں ملا تھا۔ انہوں نے مجھے ہندوستان کی خفیہ فوجی معلومات جمع کرنے کے لئے کہا تھا۔ انہوں نے مجھے جاسوسی کے لئے ہندستانی فوج سے بھی کسی کو مقرر کرنے کے لئے کہا تھا۔ میں نے میجر اقبال سے کہا تھا، میں ان کے کہنے کے مطابق کام کروں گا۔ 'ہیڈلی نے عدالت کو بتایا،' میں اس عدالت کو یہ نہیں بتا سکتا کہ لشکر طیبہ کے کس شخص خاص نے ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو انجام دینے کی ہدایات دیں۔ پورا گروپ ہی ذمہ دار تھا۔ تاہم ہم یہ قیاس لگا سکتے ہیں کہ چونکہ لشکر کے مہمات کا سربراہ ذکی الرحمن تھا، ایسے میں منطقی طور پر تمام احکامات اسی کی طرف سے آئے ہوں گے۔

 
First published: Feb 09, 2016 11:17 AM IST