ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مہاراشٹر: وزیرداخلہ کی تحریری یقین دہانی کےباوجود شہریت ترمیمی قانون اوراین آرسی کےخلاف خواتین کا احتجاج جاری

ممبئی شاہین باغ کے احتجاج کو ختم کروانے میں معاون اور مصالحت کار کی حیثیت سے مددکرنےکی حامی بھری تھی، لیکن ناگپاڑہ مورلینڈروڈ پر واقع فاطمہ اپارٹمنٹ میں چلنے والی میٹنگ اس وقت بےنتیجہ ثابت ہوئی، جب خواتین نے اپنا احتجاج واپس لینے سے انکارکردیا۔

  • Share this:
مہاراشٹر: وزیرداخلہ کی تحریری یقین دہانی کےباوجود شہریت ترمیمی قانون اوراین آرسی کےخلاف خواتین کا احتجاج جاری
مہاراشٹر: وزیرداخلہ کی تحریری یقین دہانی کےباوجود سی اے اے اوراین آرسی کےخلاف خواتین کا احتجاج جاری ہے۔

ممبئی: ملکی سطح پر شہریت ترمیمی قانون اور این آرسی خلاف جاری احتجاج میں ممبئی کی خواتین بھی حصہ دار بنی ہوئی ہیں۔ ممبئی کے ناگپاڑہ علاقے میں مورلینڈ روڈ پرشاہین باغ کی طرز پر ممبئی باغ کا احتجاج آج دسویں روز میں داخل ہوچکا ہے۔ 26 جنوری کی شام سے این آرسی اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئےخواتین حکومت سے شہریت ترمیمی قانون اوراین آرسی قانون کو واپس لینےکا مطالبہ کررہی ہیں۔واضح رہےکہ کل ایک سیاسی، ملی اورسماجی نمائندوں کے وفد نے ممبئی میں مہاراشٹرکے وزیر داخلہ انل دیشمکھ سے ملاقات کرتے ہوئے مہاراشٹر میں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے عدم نفاذکے متعلق تحریری یقین دہانی حاصل کی تھی۔


ممبئی شاہین باغ کے احتجاج کو ختم کروانے میں معاون اور مصالحت کارکی حیثیت سے مدد کرنےکی حامی بھری تھی، لیکن ناگپاڑہ مورلینڈ روڈ پر واقع فاطمہ اپارٹمنٹ میں چلنے والی میٹنگ اس وقت بے نتیجہ ثابت ہوئی، جب خواتین نے اپنا احتجاج واپس لینے سے انکارکردیا۔ مہاراشٹرکے وزیر داخلہ سے ملاقات کرنے والے وفد میں شامل مہاراشٹر اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین اور این سی پی لیڈرنسیم صدیقی نے نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئےکہا کہ فاطمہ اپارٹمنٹ میں احتجاجی خواتین کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کی گئی، لیکن احتجاج کرنے والی خواتین کے ایک گروہ نے تجویز ماننے سے انکارکردیا۔ جبکہ احتجاج مین شامل خواتین کا الزام ہےکہ چندخواتین سے بات کرکےفیصلہ لینا غیرمناسب ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ ان کا احتجاج پورے ملک سے این آرسی اور شہریت ترمیمی قانون کو واپس لینےکیلئے ہے۔


سیاسی، ملی اورسماجی نمائندوں کے وفد نے ممبئی میں مہاراشٹرکے وزیر داخلہ انل دیشمکھ سے ملاقات کی تھی۔ فائل فوٹو
سیاسی، ملی اورسماجی نمائندوں کے وفد نے ممبئی میں مہاراشٹرکے وزیر داخلہ انل دیشمکھ سے ملاقات کی تھی۔ فائل فوٹو


واضح رہے کہ ممبئی پولیس بھی احتجاج کو ختم کروانے کی کوشیش میں ہے اور وزیرداخلہ سے ملنے والے وفد نے جمورات تک احتجاج کو ختم کرنے اور دوسری صورت میں احتجاج کو مورلینڈ روڈ سے ممبئی کے جھولا میدان میں منتقل کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا، لیکن ان لیڈران کی تمام ترکوششیں ناکام ہوتی دیکھائی دے رہی ہیں۔ احتجاج میں شامل رضوی کالج باندرہ کی ایک طلبہ نے نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئےکہا کہ اگرممبئی شاہین باغ کے احتجاج کو واپس لیا جاتا ہے، تو اس اثر ریاست کے دوسرے علاقوں میں جاری احتجاج پر پڑےگا۔ انہوں نےکہا کہ خواتین مورلینڈ روڈ دستوری حقوق کے مدِنظر پر پُرامن احتجاج کررہی ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا کہ مہاراشٹر کے وزیرداخلہ انیل دیشمکھ ہمراہ منعقد میٹنگ میں مسلم سیاسی اور سماجی لیڈران نے جمعرات تک احتجاج کو واپس لینےکی یقین دہانی کروائی ہے، اگرجمعرات تک احتجاج اختتام کو نہیں پہنچتا ہے تو اس صورت میں ممبئی پولیس احتجاجوں کو ہٹانے کیلئے سخت رخ اختیارکرسکتی ہے۔
First published: Feb 04, 2020 10:53 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading