உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ناگپور جیل میں صبح 6.35 بجے یعقوب میمن کو دی گئی پھانسی

    نئی دہلی۔ ممبئی بم دھماکوں کے مجرم یعقوب میمن کو ناگپور جیل میں پھانسی دے دی گئی ہے۔

    نئی دہلی۔ ممبئی بم دھماکوں کے مجرم یعقوب میمن کو ناگپور جیل میں پھانسی دے دی گئی ہے۔

    نئی دہلی۔ ممبئی بم دھماکوں کے مجرم یعقوب میمن کو ناگپور جیل میں پھانسی دے دی گئی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ ممبئی بم دھماکوں کے مجرم یعقوب میمن کو ناگپور جیل میں پھانسی دے دی گئی ہے۔ صبح 6.35 بجے یعقوب کو پھانسی دے دی گئی۔ یعقوب کو 9 لوگوں کے سامنے پھانسی دی گئی۔ پھانسی کے دوران جیل آئی جی، جیلر، مجسٹریٹ، ڈاکٹراور جلاد کے علاوہ دو گواہ اوردو کانسٹیبل وہاں موجود تھے۔ سپریم کورٹ نے آج صبح قریب 5 بجے یعقوب کو پھانسی دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اس کے بعد ناگپور جیل میں یعقوب کو پھانسی دینے کا عمل شروع ہو گیا تھا۔ قصاب کو پھانسی پر چڑھانے والے بابو جلاد نے ہی یعقوب کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا۔ موت وارنٹ میں صبح ساڑھے 6 بجے سے 7 بجے کے درمیان پھانسی دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

      پل پل کی خبریں پڑھیں:

      یعقوب میمن کی لاش خاندان کو سونپی گئی۔

      یعقوب کے گھر کے باہر سیکورٹی بڑھا دی گئی، آر اے ایف تعینات کی گئی۔

      ممبئی کے CST اسٹیشن کے باہر ہائی الرٹ۔ ممبئی ہائی الرٹ پر ہے، تمام حساس علاقوں میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ تمام پولیس والوں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

      وزارت داخلہ نے یعقوب کی پھانسی پر مہاراشٹر حکومت سے رپورٹ طلب کی۔

      ناگپور جیل پہنچے یعقوب کے بھائی سلیمان اور عثمان۔

      صبح 11 بجے بیان دیں گے سی ایم دیویندر فڑنويس۔

      مہاراشٹر کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے کہا، لاش خاندان کے سپرد کردی جائے گی، لیکن ممبئی لانے دیا جائے گا یا نہیں اس کا فیصلہ ناگپور انتظامیہ لے گی۔ لوگ امن وسلامتی برقرار رکھیں، افواہ نہ اڑائیں، ناگپور سینٹرل جیل کے آس پاس 500 میٹر تک دفعہ 144 لگائی گئی ہے۔

      رات بھر ڈرامائی واقعات جاری رہے

      یعقوب کو پھانسی دینے سے پہلے رات بھر ڈرامائی واقعات جاری رہے۔  سپریم کورٹ نے موت کے وارنٹ پر روک لگانے کے لئے اس کے وکلاء کی جانب سے دائر کی گئی درخواست مسترد کر دی تھی۔ تین ججوں والی بینچ کے صدر دیپک مشرا نے عدالت کے کمرہ نمبر 4 میں ایک حکمنامہ میں کہا کہ موت کے وارنٹ پر روک لگانا انصاف کا مذاق ہوگا۔ درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ سماعت کے لئے عدالت کا کمرہ رات میں کھولا گیا۔ تین بج کر 20 منٹ پر شروع ہوئی سماعت 90 منٹ تک جاری رہی ۔

      عدالت کے فیصلے سے پھانسی ركوانے کے یعقوب کے وکلاء کی آخری کوشش ناکام ہو گئی۔ اسے صبح سات بجے ناگپور مرکزی جیل میں پھانسی دی جانی ہے۔ بدھ کو تیزی سے ہوئے سلسلہ وارواقعات کے بعد یہ آخری فیصلہ آیا۔ بدھ کو عدالت نے یعقوب کی موت کے وارنٹ کو برقرار رکھا تھا اور صدر پرنب مکھرجی اور مہاراشٹر کے گورنر ودياساگر راؤ نے میمن کی رحم کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

      دیر رات، یعقوب کی طرف سے پیش وکلاء نے اپنی حکمت عملی بدلی اور وہ چیف جسٹس ایچ ایل دتو کے گھر گئے اور اس بنیاد پر پھانسی کی سزا ركوانے کے لئے انہیں فوری طور پر سماعت کے لئے درخواست دی کہ موت کی سزا پائے مجرم کو 14 دن کا وقت دیا جائے جس سے کہ وہ رحم کی درخواست مسترد کئے جانے کو چیلنج کرنے اور دیگر مقاصد کے لئے تیار ہو سکے۔

      تبادلہ خیال کے بعد چیف جسٹس نے انہی تین ججوں کی بینچ تشکیل کر دی جنہوں نے اس سے پہلے موت کے وارنٹ پر فیصلہ کیا تھا۔ سینئر وکلا آنند گروور اور یگ چودھری نے کہا کہ افسران یعقوب کو رحم کی درخواست مسترد کئے جانے کے صدر کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا حق دیے بغیر اسے پھانسی دینے پربضد ہیں۔ گروور نے کہا کہ موت کی سزا کا سامنا کر رہا مجرم رحم کی درخواست مسترد ہونے کے بعد مختلف مقاصد کے لئے 14 دن کی مہلت حاصل کرنے کا حقدار ہے۔

      یعقوب کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کہا کہ اس کی تازہ اپیل نظام کی خلاف ورزی کرنے کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 گھنٹے پہلے تین ججوں کی طرف سے موت کے وارنٹ کو برقرار رکھے جانے کے فیصلے کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔

      فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس مشرا نے کہا کہ صدر کی طرف سے 11 اپریل 2014 کو پہلی رحم کی درخواست مسترد کئے جانے کے بعد مجرم کو کافی وقت دیا گیا جس کی اطلاع اسے 26 مئی 2014 کو دی گئی تھی۔ جسٹس مشرا نے کہا کہ اصل میں پہلی رحم کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اسے کافی وقت دیا گیا جس سے کہ وہ خاندان کے ارکان سے آخری ملاقات کرنے اور دیگر مقاصد کے لئے تیار ہو سکے۔

      بینچ نے کہا کہ اگر ہم موت وارنٹ پر روک لگاتے ہیں تو یہ انصاف کا مذاق ہوگا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ رٹ پٹیشن میں کوئی دم نہیں لگتا۔ اس نے مزید کہا کہ کل حکم سناتے ہوئے ٹاڈا عدالت کی طرف سے 30 جولائی کو پھانسی دینے کے لئے 30 اپریل کو جاری کئے گئے موت وارنٹ میں ہمیں کوئی خامی نہیں نظر آئی۔ حکم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے گروور نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک غلطی اور غلط فیصلہ ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانونی عمل اختتام پذیر ہو گیا ہے اور جیت کا کوئی سوال نہیں ہے۔

      (ایجنسیوں کے ساتھ)
      First published: