உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر اعظم مودی پر بھڑکے یشونت، کہا ، اندرا جیسا ہو سکتا ہے حال

    سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا : فائل فوٹو۔

    سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا : فائل فوٹو۔

    ڈونا پاؤلا (گوا)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر یشونت سنہا نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور اس حکومت کا حال اندرا گاندھی کی قیادت والی اس کانگریس حکومت کی طرح ہو سکتا ہے جسے ایمرجنسی کے بعد منہ کی کھانی پڑی تھی۔

    • IBN Khabar
    • Last Updated :
    • Share this:
      ڈونا پاؤلا (گوا)۔  بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر یشونت سنہا نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور اس حکومت کا حال اندرا گاندھی کی قیادت والی اس کانگریس حکومت کی طرح ہو سکتا ہے جسے ایمرجنسی کے بعد منہ کی کھانی پڑی تھی۔ بی جے پی کے کئی سینئر رہنماؤں کے ساتھ پارٹی میں حاشیہ پر ڈال دیئے گئے سنہا نے یہاں منعقد 'ڈفیکلٹ ڈائیلاگ' میں یہ بیان دیا۔ مارکسی كميونسٹ پارٹی جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے بھی اس کانفرنس سے خطاب کیا۔

      سنہا نے کہا کہ یقینی طور پر کوئی بات چیت نہیں ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، یہ ہندستانی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہاں وہاں بھول تو ہو گی ہی، فکر موجودہ حالات کو لے کر ہے۔ لیکن عظیم ہندوستانی سماج اس کا خیال رکھے گا اور ہندستان میں بات چیت میں یقین نہیں رکھنے والوں کو دھول چٹا دے گا۔

      اٹل بہاری واجپئی حکومت میں خزانہ اور وزیر خارجہ رہ چکے سنہا نے مودی کا نام لئے بغیر کہا کہ ہندستان کے لوگ انہیں دھول چٹا دیں گے۔ آپ کو صرف اگلے انتخابات کا انتظار کرنا ہے۔ کانگریس کو اقتدار سے باہر کر دینے والے 1977 کے عام انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ بات چیت کو نظر انداز کرنے سے حکومت 19 ماہ ہی ٹک سکے گی۔ غور طلب ہے کہ ایمرجنسی بھی 19 ماہ تک نافذ تھی۔

      سنہا نے کہا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ ہندوستان کے لوگوں نے ایمرجنسی پر کیسی رائے دی تھی جو اختلاف کے سر کو برقرار رکھنے کے لئے ہمارے ملک میں سب سے طاقتور جمہوری کوشش تھی۔ معاشرے میں بات چیت روک نہ دی جائے، اس بات کا یقین کرنے کی ضرورت پر یچوری کی مداخلت پر سنہا نے کہا کہ میں صرف اتنا کہوں گا کہ رکاوٹ ڈالنے والا سنگین مشکل میں ہے۔

       

       
      First published: