ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

اچھی نوکری کیلئے سعودی عرب گئے راجستھان کے نوجوان وہیں پھنسے ، کمپنی نے نکالا ، اب کھانے کے بھی پڑے لالے

Rajasthan News: راجستھان کے سیکر ضلع کے ایک ایجنٹ نے دو نوجوانوں سے دو لاکھ تیس ہزار روپے لے کر انہیں نوکری کیلئے بیرون ممالک بھیجا تھا ۔ اب یہ نوجوان وہیں پھنس گئے ہیں ۔

  • Share this:
اچھی نوکری کیلئے سعودی عرب گئے راجستھان کے نوجوان وہیں پھنسے ، کمپنی نے نکالا ، اب کھانے کے بھی پڑے لالے
اچھی نوکری کیلئے سعودی عرب گئے راجستھان کے نوجوان وہیں پھنسے ، کمپنی نے نکالا ، اب کھانے کے بھی پڑے لالے

چورو : راجستھان کے چورو اور سیکر ضلع کے آٹھ نوجوان اس لئے بیرون ممالک میں پھنس گئے ہیں ، کیونکہ بیرون ممالک بھیجنے کے نام پر ایک ایجنٹ نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا ۔ سیکر ضلع کے کھنڈیلا کے فرضی ایجنٹ نے بیرون ممالک میں اچھی کمپنی اور اچھی سیلری کا حوالہ دے کر بے روزگار نوجوانوں کو اپنی جال میں پھنسایا اور ان سے موٹی رقم لے کر انہیں ایسی جگہ بھیج دیا ، جہاں اب ان کے نہ رہنے کا ٹھکانہ ہے اور نہ ہی کھانے کا ۔ فرضی ویزا پر بھیجے گئے ان نوجوانوں کی گزشتہ دو سال سے تنخواہ نہیں ملنے کی وجہ سے اقتصادی حالت خراب ہوگئی ہے اور گزشتہ چھ مہینے سے کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں تو کچھ نوجوان بیماری میں بھی مبتلا ہیں ۔


چورو شہر کے وارڈ 33 کے الطاف اور وارڈ 37 کے سلیمان سعودی عرب کے جدہ میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ حال یہ ہے کہ کمپنی کی جانب سے انہیں رہنے کیلئے دئے گئے گھر سے بھی نکال دیا گیا ہے ۔ ان نوجوانوں کا سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہورہا ہے ، جس میں انہوں نے نہ صرف ایجنٹ کے دھوکہ کا تذکرہ کیا ہے بلکہ وطن واپسی کی فریاد بھی کی ہے ۔ اس ویڈیو میں انہوں نے اپنی آب بیتی بتائی ہے ۔


ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ تقریبا دو سال پہلے سیکر ضلع کے کھنڈیلا کے ایجنٹ نے دونوں نوجوانوں سے فی کس ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے لے کر سعودی عرب کے جدہ میں بھیجا تھا ۔ تین چار ماہ تک کمپنی میں کام کیا ، لیکن انہیں اقامہ نہیں دیا گیا ۔ ایسے میں کمپنی میں کام کرنے والے دیگر ملازمین کے مقابلہ انہیں نصف تنخواہ دی جاتی تھی ۔


اہل خانہ نے بتایا کہ اس کی مخالفت کرنے پر ایک سال پہلے انہیں کمپنی سے باہر نکال دیا گیا ۔ رہنے کا ٹھکانہ نہیں ہونے پر مکان ملک نے آٹھ منزلہ مکان کی صفائی کرنے کی شرط پر ٹھہرنے کی بات کہی ۔ نوجوانوں نے اس سلسلہ میں ہندوستانی سفارت خانہ میں فریاد کی ۔ اس کے علاوہ اہل خانہ نے مقامی عوامی نمائندوں سے بھی مدد مانگی ، لیکن وطن واپسی کو لے کر کوئی کارروائی نہیں ہوپائی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 03, 2021 08:48 PM IST