ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ننانوے فیصد مسلم خواتین شریعت کی پاسداری کے حق میں، قانون شریعت میں تبدیلی ناممکن : ظفر یاب جیلانی‎

مسلم پرسنل لابورڈ کی جانب سے منعقدہ دو روزہ تفہیم شریعت ورکشاپ میں شرکت کی غرض سے اورنگ آباد پہنچے ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی نے میڈیا نمائندوں سے خطاب کیا ۔

  • ETV
  • Last Updated: Dec 26, 2016 08:46 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ننانوے فیصد مسلم خواتین شریعت کی پاسداری کے حق میں، قانون شریعت میں تبدیلی ناممکن : ظفر یاب جیلانی‎
مسلم پرسنل لابورڈ کی جانب سے منعقدہ دو روزہ تفہیم شریعت ورکشاپ میں شرکت کی غرض سے اورنگ آباد پہنچے ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی نے میڈیا نمائندوں سے خطاب کیا ۔

اورنگ آباد۔ ’’ مذہب اسلام نے خواتین کو جو حقوق عطا کیے ہیں ، اس کی مثال دنیا کے کسی مذہب میں نہیں ملتی ۔ جولوگ  قانون شریعت کو دقیانوسی قانون کہہ رہے ہیں، وہ اسلام کی حقانیت سے واقف نہیں ۔ لیکن انھیں یہ جان لینا چاہیئےکہ مسلمان کسی بھی قیمت پرشریعت میں مداخلت کو قطعی برداشت نہیں کریگا‘‘ ۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی نے کیا ۔ وہ اورنگ آباد میں میڈیا نمائندوں سے مخاطب تھے۔  انہوں نے قانون شریعہ کے حوالے سے کہا کہ اسلام نے خواتین کو جو حقوق عطا کیے ہیں ۔ دنیا کے کسی مذہب میں اس کی مثال نہیں  ملتی ۔  انھوں نے طلاق، نان نفقہ، میراث میں بیٹیوں کا حصہ جیسے موضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور یہ  واضح کیا کہ قانون شریعت میں تبدیلی کا تصور بھی محال ہے ۔


   مسلم پرسنل لابورڈ کی جانب  سے منعقدہ دو روزہ تفہیم شریعت ورکشاپ میں شرکت کی غرض سے اورنگ آباد پہنچے ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی نے میڈیا نمائندوں سے خطاب کیا ۔ اس موقع پرانھوں نے وزیراعظم  نریندر مودی کے مسلم خواتین کے تعلق سے بیان کو ایک طئے شدہ پالیسی کا حصہ قرار دیا ۔ ظفریاب جیلانی نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وزیراعظم کو مسلم خواتین سے کوئی ہمدردی ہے۔  یکساں سول کوڈ  کے معاملے میں  پرسنل لا بورڈ کے موقف کا حوالہ  دیتے ہوئے ظفر یاب جیلانی نے واضح کیا کہ دو کروڑ دستخطوں کے دستاویز اس بات کا ثبوت ہیں کہ ننانوے فیصد خواتین شریعت کی پاسداری کے حق میں  ہیں ۔  الیکڑانک میڈیا میں مسلم خواتین کے مسائل کو لیکر جاری مہم پرمسلم پرسنل لا کے رکن نے  نپے تلے انداز میں تبصرہ کیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا کا ایک بڑا طبقہ آج بھی حقائق کو ترجیح دیتا ہے اور جو لوگ دانستہ طور پر مہم چلارہے ہیں، ایسے لوگ مٹھی بھر ہیں۔  تاہم  ان کی غلط فہمیوں کو بھی دور کرنے کی کوشش جاری ہے ۔


انہوں نے تفہیم شریعت ورکشاپ کو سیکولر عوام  کی ذہن سازی کا ذریعہ بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی اکثریت سیکولر مزاج کی حامل ہے اور بورڈ ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہتا ہے ۔ پریس کانفرنس میں  مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، امیر شریعت مراٹھواڑہ  مولانا مفتی معیز الدین قاسمی، مولانا محفوظ رحمان فاروقی اور دیگر اکابرین ملت موجود تھے ۔



First published: Dec 26, 2016 08:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading