உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نہ میں مطمئن ہوں اور نہ ہی خوش ، یہ انصاف نہیں ہے : ذکیہ جعفری

    ذکیہ جعفری: فائل فوٹو

    ذکیہ جعفری: فائل فوٹو

    احمد آباد : گلبرگہ سوسائٹی کیس میں احمد آباد کی خصوصی عدالت کے ذریعہ سنائی گئی سزا پر مرحوم احسان جعفری کی بیوی ذکیہ جعفری نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے نہ تو مطمئن ہیں اور نہ ہی خوش ہیں۔

    • IBN7
    • Last Updated :
    • Share this:
      احمد آباد : گلبرگہ سوسائٹی کیس میں احمد آباد کی خصوصی عدالت کے ذریعہ سنائی گئی سزا پر مرحوم احسان جعفری کی بیوی ذکیہ جعفری نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے نہ تو مطمئن ہیں اور نہ ہی خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے وکلاء سے دوبارہ بات کروں گی۔ یہ انصاف نہیں ہے۔ اتنے لوگوں کی موت کے بعد کیا یہی وہ سب ہے ، جس کو کورٹ نے طے کیا؟

       






      گلبرگہ سوسائٹی متاثرین کی لڑائی لڑنے والی سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ نے فیصلے کا خیر مقدم تو کیا ، لیکن کہا کہ وہ کم سزا دئے جانے سے مایوس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنہیں عمر قید نہیں ہوئی ہے ، ان کے لئے دوبارہ اپیل کریں گی۔ تیستا نے آگے کہا کہ عمر قید کی سزا ہونی ہی چاہئے ، کمزور فیصلہ ہے۔

      ادھر ایک مجرم کی بہن نے کورٹ کے باہر بھائی کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گی۔ کورٹ کے باہر قصوروار قرار دئے گئے افراد کے اہل خانہ نے بھی کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔




      لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے مرکزی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ وہ ہر چھوٹے بڑے معاملے میں مداخلت کرتی ہے اور اسی کا اثر ہے کہ اس کیس میں بڑی مچھلیوں کو نہیں پکڑا گیا۔ انہوں نے اسے سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دکھاوے کے لئے 2-4 لوگوں کو پکڑ کر دکھایا جا رہا ہے، عوام معاف نہیں کریں گے۔


      خیال رہے کہ عدالت نے 11 قصورواروں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے جبکہ 12 دیگر کو 7-7 سال کی قید ہوئی ہے۔ ایک اور ملزم کو 10 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ گودھرا سانحہ کے بعد ہوئے اس قتل عام نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی تھی۔ 27 فروری 2002 میں گودھرا سانحہ کے بعد مشتعل لوگوں نے گلبرگہ سوسائٹی میں قتل عام کیا تھا ، جس میں کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری سمیت 69 لوگوں کی جان فوت ہوگئی تھی۔ قتل عام کچھ اس وحشیانہ طریقہ سے کیا گیا تھا کہ صرف 39 افراد کی ہی لاشیں مل سکی تھیں، جبکہ باقی 30 افراد کی لاشیں تک نہیں ملیں ، جنہیں سات سال بعد قانونی کارروائی کے تحت مردہ تسلیم کر لیا گیا۔
      First published: