உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کی وضاحت: ڈھاکہ کے حملہ آور مجھے جانتے تھے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان کا حامی ہوں

    نئی دہلی۔ ڈھاکہ دہشت گردانہ حملے کے سازش کاروں کے ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ترغیب پانے کی خبروں کے بعد عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر ذاکر نائیک  تنازعات کی زد میں آ گئے ہیں۔

    نئی دہلی۔ ڈھاکہ دہشت گردانہ حملے کے سازش کاروں کے ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ترغیب پانے کی خبروں کے بعد عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر ذاکر نائیک تنازعات کی زد میں آ گئے ہیں۔

    نئی دہلی۔ ڈھاکہ دہشت گردانہ حملے کے سازش کاروں کے ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ترغیب پانے کی خبروں کے بعد عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر ذاکر نائیک تنازعات کی زد میں آ گئے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ ڈھاکہ دہشت گردانہ حملے کے سازش کاروں کے ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ترغیب پانے کی خبروں کے بعد عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر ذاکر نائیک  تنازعات کی زد میں آ گئے ہیں۔ ذاکر نائیک نے اس درمیان اسلامی اسٹیٹ آف عراق اینڈ شام کو غیر اسلامی قرار دیا ہے۔

      انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے ممبئی میں اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے بانی ذاکر نائیک (50) نے ڈھاکہ حملے کی مذمت کی اور کہا کہ اسلامی اسٹیٹ کا نام لے کر ہم اسلام کو ہی نیچا دکھاتے ہیں۔ وہ اینٹی اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا ہے جو بے گناہ غیر ملکیوں کو مارتے ہیں۔ یہ نام اسلام کے دشمنوں کا دیا ہوا ہے۔

      ڈھاکہ حملے کو انجام دینے والے نائیک سے حوصلہ افزا تھے، اس سوال پر نائیک نے کہا کہ ان کے فیس بک پر 1 کروڑ 40 لاکھ فالوورز ہیں اور مختلف زبانوں میں ان کی پیس ٹی وی کو دیکھنے والے ناظرین کی تعداد 2 کروڑ ہے۔ اس میں اردو، بنگالی اور چینی زبان بولنے والے لوگ ہیں۔ نائیک نے کہا کہ میرے فیس بک پر سب سے زیادہ فالوورز بنگلہ دیش سے ہی ہیں۔ 90 فیصد بنگلہ دیشی مجھے جانتے ہیں جس میں سینئر سیاستدان، سماجی کارکن، عام آدمی اور باقی لوگ ہیں۔ 50 فیصد میرے مداح ہیں۔ حملہ کرنے والے مجھے جانتے تھے، یہ جان کر کیا مجھے حیران ہونا چاہئے؟ نہیں۔

      نائیک نے مزید کہا، 'لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان کے طریقوں کی حمایت کر رہا ہوں۔ میری وجہ سے بہت سے لوگ اسلام کے قریب آئے ہیں، ایسے لوگ بعد میں اور بھی لوگوں کو سنتے ہیں جس میں وہ بھی شامل ہوتے ہیں جو اسلام کے نام پر لوگوں کو بھٹكاتے ہیں۔

      ذاکر نائیک کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اس وقت ہندوستان میں نہیں ہیں۔ وہ مکہ گئے ہیں۔ وہ 11 جولائی کو ہندوستان واپس آئیں گے اور پورے معاملے پر 12 جولائی کو پریس کانفرنس کریں گے۔ ذاکر نائیک کا پیس ٹی وی ملک سے باہر ہی اپ لنک ہے۔ ہندوستان میں اسے ڈاؤن لنک کیا گیا ہے۔ اطلاعات اور نشریات کی وزارت نے پیس ٹی وی کو لائسنس نہیں دیا ہے اس لئے وہ اب ٹی وی پر بھی نہیں ہیں۔ اس درمیان ممبئی پولیس نے نائیک کے فاؤنڈیشن سے وابستہ لوگوں سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔
      First published: