پیسیفک ممالک کے ساتھ وزیر اعظم مودی نے کی من کی بات، مدد کے لئے بڑھائے ہاتھ

جے پور۔ فورم فار انڈیا پیسیفک آئس لینڈ کوآپریشن کی دوسری سمٹ کا اختتام جے پور میں ہوا۔

Aug 22, 2015 07:49 AM IST | Updated on: Aug 22, 2015 07:53 AM IST
پیسیفک ممالک کے ساتھ وزیر اعظم مودی نے کی من کی بات، مدد کے لئے بڑھائے ہاتھ

جے پور۔ فورم فار انڈیا پیسیفک آئس لینڈ کوآپریشن کی دوسری سمٹ کا اختتام جے پور میں ہوا۔ سمٹ میں شامل ہونے کے لئے 14 ممالک کے صدور مملکت پنک سٹی پہنچے تھے۔

اعلانات کا انبار

Loading...

وزیر اعظم نریندر مودی نے 14 ممالک کی اعلی قیادت سے من کی بات کی۔ سمٹ میں ہندستان نے پیسیفک ممالک سےکئی تعاون کے وعدے کئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی سمیت 15 ممالک کی اعلی قیادت نے باہمی تعلقات اور تعاون کو مضبوط کرنے پراتفاق رائے ظاہر کیا۔ جے پور کے ہوٹل رام باگ پیلیس میں منعقد فورم فار انڈیا پیسفک جزائر کو آپریشن کی دوسری سمٹ میں مختلف اعلانات پیسیفک ممالک کی ترقی کے لئے کئے گئے۔

تعاون کی پیشکش

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ابتدائی اور اختتامی خطاب میں متعلقہ ممالک کے مستقبل کو مشترکہ کوششوں سے روشن کرنے کی بات کہی۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ سے لے کر اقتصادی اور سیاسی تعاون کے اس پلیٹ فارم کے ذریعے آگے بڑھنے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی کے تحفظ، چھوٹی یونٹس کی مدد، خواتین کی مہارت کی تربیت اور چینی کی پیداوار کے لئے مشینری جیسے وعدے ان ممالک کی معیشت میں انقلاب لائیں گے۔

سلامتی کونسل کا قیام نئے عالمی حالات کے مطابق ہو: مودی

وزیر اعظم مودی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاح کی ضرورت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ نئے عالمی حالات کے مطابق سلامتی کونسل کی تشکیل کی جانی چاہئے۔ مودی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام کی 70 ویں سالگرہ آنے والی ہے اور انہوں نے اس کے تمام رکن ممالک کو خط لکھ کر اس میں بہتری کی ضرورت بتائی ہے۔

میزبانی کی ہوئی تعریف

تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی سمیت تمام غیر ملکی سربراہوں نے وزیر اعلی وسندھرا راجے کی میزبانی کی تعریف کی۔ غیر ملکی مہمان راجستھان کی ثقافت،  اور اس کی شان سے بھی واقف ہوئے۔ اجلاس کے اختتام کے بعد دیے گئے ڈنر میں راجستھان کے لوک فنکاروں نے تمام مہمانوں کا دل جیت لیا۔ اجلاس کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے پریس مذاکرات کر پاکستان پر نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ پاكتسان کی حریت رہنماؤں کے ساتھ بات چیت اوفا معاہدے کی خلاف ورزی ہے جو ہندستان کو قابل قبول نہیں ہے۔

 

 

 

 

 

Loading...