உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    'دو سال کی جیل، بھاری جرمانہ'، جانئے پی ایف آئی پر پابندی کے بعد اس کے اراکین کا کیا ہوگا

    'دو سال کی جیل، بھاری جرمانہ'، جانئے پی ایف آئی پر پابندی کے بعد اس کے اراکین کا کیا ہوگا ۔ تصویر : PTI

    'دو سال کی جیل، بھاری جرمانہ'، جانئے پی ایف آئی پر پابندی کے بعد اس کے اراکین کا کیا ہوگا ۔ تصویر : PTI

    پاپولر فرنٹ آف انڈیا اور اس کی معاون تنظیموں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پانچ سال کی پابندی کے بعد وزارت داخلہ نے سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کے پولیس سربراہوں کو ان تنظیموں کے دیگر دفاتر کے خلاف کارروائی کرنے اور رقم ضبط کرنے کیلئے کہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | New Delhi | New Delhi
    • Share this:
      نئی دہلی: پاپولر فرنٹ آف انڈیا اور اس کی معاون تنظیموں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پانچ سال کی پابندی کے بعد وزارت داخلہ نے سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کے پولیس سربراہوں کو ان تنظیموں کے دیگر دفاتر کے خلاف کارروائی کرنے اور رقم ضبط کرنے کیلئے کہا ہے۔ سینئر سرکاری افسران کے مطابق پی ایف آئی کے اراکین کو تنظیم سے الگ ہونے کا اعلان کرنا ہوگا، لیکن اگر وہ اس سے وابستگی جاری رکھتے ہیں تو انہیں دو سال کی جیل اور جرمانہ لگایا جاسکتا ہے ۔

      قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو وزارت داخلہ کے اس نوٹیفکیشن کی تشہیر کرنے کیلئے کہا گیا ہے ، تاکہ سبھی لوگ یہ جان لیں ۔ ایسے میں مقامی پولیس اب اپنے علاقہ میں واقع پی ایف آئی کے دفاتر پر یہ نوٹیفکیشن چپساں کرے گی ۔ اس کے ساتھ تنظیم کے اہم عہدیداروں کو اس کی کاپی بھیجے گی اور ان علاقوں میں لاوڈ اسپیکر سے بھی اس کا اعلان کروائے گی، جہاں عام طور پر پی ایف آئی کی سرگرمیاں دیکھی جاتی تھیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: 82 سال کی عمر میں دو بیٹوں نے گھر سے نکالا، بیٹیوں نے بھی دیکھ بھال سے کردیا انکار


      یو اے پی اے کی دفعہ تین کے تحت پی ایف آئی پر پابندی لگائی گئی ہے ۔ اس دفعہ کے مطابق مرکزی سرکار کی رائے ہے کہ اس تنظیم سے کسی بھی طرح کی وابستگی غیر قانونی ہے یا بن گئی ہے اور سرکاری گزٹ میں ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ یہ اعلان کیا جائے گا ۔

      یو اے پی اے قانون کے مطابق ایک مرتبہ تنظیم کو غیر قانونی اعلان کرنے کے بعد اس کے افسران کو پندرہ دنوں کا وقت دیا جائے گا ۔ پی ایف آئی اور اس کی معاون تنظیموں کے اراکین کو متعلقہ دستاویز کے بارے میں پولیس کو مطلع کرنا ہوگا اور انہیں ان کو سونپنا ہوگا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: کانگریس صدر بننے کی راہ میں گہلوت کے سامنے نیا چیلنج! دگ وجے سنگھ بھی لڑیں گے الیکشن:ذرائع


      سینئر افسران نے کہا کہ پی ایف آئی پر پابندی لگانے کے بعد اس کے اراکین کو تنظیم چھوڑنے کیلئے وقت دیا جائے گا، لیکن اگر اس کے بعد بھی ان کے پاس سے کوئی قابل اعتراض دستاویز پائے جاتے ہیں تو اس کے خلاف کیس درج کیا جائے گا ۔

      یو اے پی اے کے مطابق پی ایف آئی کے فنڈ کو سنبھالنے والے اراکین کو اس طرح کے پیسے ، سیکیورٹیز یا قرضوں کی ادائیگی، ڈیلیوری ، ٹرانسفر یا دوسرے کسی بھی طرح سے استعمال کرنے سے روک دیا جائے گا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: