உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیا ہے گیان واپی تنازعہ، جانیں اب تک کیا کیا ہوا، سیاست پر اثر ڈالےگا یہ پورا معاملہ!

    گیان واپی مسجد۔ (فائل فوٹو)

    گیان واپی مسجد۔ (فائل فوٹو)

    بنارس میں آج پہلی بار گیان واپی مسجد (Gyanvapi Vs Kashi Vishwanath Temple) کے کیمپس کا سروے ہونے جا رہا ہے۔ کورٹ کے حکم پر احاطے کے نیچے شرنگار گوری اور دیوتاؤں کا سروے کیا جائے گا۔ سروے کا کام آج شام تک چلے گا۔

    • Share this:
      بنارس میں آج پہلی بار گیان واپی مسجد (Gyanvapi Vs Kashi Vishwanath Temple) کے کیمپس کا سروے ہونے جا رہا ہے۔ کورٹ کے حکم پر احاطے کے نیچے شرنگار گوری اور دیوتاؤں کا سروے کیا جائے گا۔ سروے کا کام آج شام تک کیا گیا۔ احاطے کا سروے اس دعوے کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، جس میں ہندو فریق کے ایک طبقے کا ماننا ہے کہ بنارس میں اورنگ زیب نے کاشی وشو ناتھ مندر کو توڑ کر اور اس کے باقیات کے ذریعہ گیان واپی مسجد کی تعمیر کرائی تھی، جس کی بنیاد پر عدالت نے ویڈیو گرافی کے ساتھ سروے کے احکامات دیئے ہیں۔

      کب دائر ہوا معاملہ

      یہ تقریباً 30 سال پرانا معاملہ ہے، جب سال 1991 میں پجاریوں کے گروپ نے بنارس کی عدالت میں عرضی دائر کی تھی، جنہوں نے گیان واپی مسجد علاقے میں پوجا کی اجازت مانگی تھی۔ ان لوگوں نے عدالت میں یہ دلیل دی کہ اورنگ زیب نے کاشی وشو ناتھ مندر کو توڑ کر گیان واپی مسجد کی تعمیر کرائی تھی۔ ایسے میں انہیں احاطے میں پوجا کی اجازت دی جائے۔ اس معاملے میں مسجد کی نگرانی کرنے والی انجمن انتظامیہ مساجد کو مدعا علیہ بنایا گیا۔ تقریباً 6 سال کی سماعت کے بعد 1997 میں عدالت نے دونوں فریق کے حق میں ملا جلا فیصلہ سنایا۔ جس سے دونوں فریق ہائی کورٹ چلے گئے اور الہ آباد کورٹ نے 1998 میں لور کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی۔ اس کے بعد سے یہ معاملہ ٹھنڈے بستے میں ہی رہا۔

      سال 2018 میں پھر سے کیس میں آئی تیزی

      تقریباً 20 سال بعد 2018 میں مقدمے میں وکیل رہے ونے شنکر رستوگی نے next friend کے طور پر عرضی دائر کی اور دسمبر 2019 میں یہ کیس پھر سے کھل گیا۔ اہم بات یہ تھی کہ اس کے ٹھیک ایک ماہ پہلے ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ آیا تھا اور رستوگی کی عرضی پر اپریل 2022 میں عدالت نے گیان واپی احاطے کا آثار قدیمہ کا سروے کرنے کا حکم دیا اور اسی بنیاد پر اب احاطے کا سروے کیا جائے گا۔

      مندر توڑ کر مسجد کی تعمیر کی گئی؟

      کاشی وشوناتھ مندر اور اس سے متصل گیان واپی مسجد کے بننے کو لے کر الگ الگ طرح کی مفروضے ہیں۔ عام طور پر لوگوں کا یہی ماننا ہے کہ اورنگ زیب نے مندر توڑ کر گیان واپی مسجد بنوائی۔ جبکہ مسلم فریق کا ماننا ہے کہ دونوں الگ الگ بنائے گئے اور مسجد بنانے کے لئے کسی مسجد کو نہیں توڑا گیا، جہاں تک کاشی وشوناتھ مندر کی تعمیر کا سوال ہے تو اس کا سہرا اکبر کے درباری راجا ٹوڈرمل کو دیا جاتا ہے، جنہوں نے سال 1585 میں برہمن نارائن بھٹ کی مدد سے کرایا تھا۔ اسی بنیاد پر ہندو فریق کا ماننا ہے کہ اورنگ زیب کی مدت میں مندر توڑ کر گیان واپی مسجد بنائی گئی۔ حالانکہ اس پر مورخین کا اتفاق رائے نہیں ہے۔ کچھ ہندو فریق کی دلیل کو صحیح بتاتے ہیں تو کچھ کا کہنا ہے کہ مندر کو توڑا نہیں گیا تھا۔

      ہندوستانی سیاست میں کیا ہے اہمیت

      جس طرح ایودھیا کو لے کر رام مندر تعمیر کا فیصلہ آیا اور اس کے ایک ماہ بعد گیان واپی کیس شروع ہوا۔ اسے دیکھتے ہوئے اس فیصلے کا ہندوستانی سیاست پر بڑا اثر نظر آسکتا ہے۔ کیونکہ موجودہ وقت میں مرکز کے اقتدار میں بیٹھی بی جے پی کے لیڈروں کی طرف س ے اس طرح کے بیانات ہمیشہ آتے رہے ہیں کہ ایودھیا تو جھانکی ہے، کاشی-متھرا باقی ہے۔ اصل میں ایودھیا کی طرح بھلے ہی بی جے پی نے کاشی-متھرا کو لے کر تجویز منظور نہیں کی ہو، لیکن پارٹی کے لیڈران کا یہ ماننا ہے کہ کاشی متھرا تنازعہ کا بھی حل نکلنا چاہئے۔ ایسے میں جب گیان واپی مسجد احاطے میں سروے شروع ہو رہا ہے۔ تو طے ہے کہ اس کے بڑے سیاسی اثرات ہوں گے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: