ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اندام نہانی کی جھلی کو توڑنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

کنوارے پن پر ضرورت سے زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ ہمارے ہندوستانی معاشرے میں اندام نہانی کے بچے رہنے کو کنوارے پن کا اشارہ مانا جاتا ہے کیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ سبھی لڑکیاں، جن کا کنوارہ پن ابھی ختم نہیں ہوا ہے، ان میں یہ اندام نہانی بچا رہتا ہے، ٹوٹتا نہیں ہے۔

  • Share this:
اندام نہانی کی جھلی کو توڑنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
اندام نہانی کی جھلی کو توڑنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

اندام نہانی کی جھلی کو توڑنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟


اندام نہانی کی جھلی (hymen) کو توڑنے کا کوئی سب سے اچھا طریقہ نہیں ہے۔ ہائمن کوئی فرنیچر نہیں ہے، جس کو آپ کسی مضبوط ذریعہ سے توڑ دیں یا کھول دیں۔ ہاں، کنوارے پن (virginity) کو لےکر مذہبی نظریے سے جو باتیں بڑھا چڑھا کر کہی جاتی ہیں اور ہائمن کے ٹوٹنے سے یا اس سے متعلق جوڑکر دیکھنے سے پہلی بار کا سیکس کئی ایسے مردوں کے لئے بے یقینی کی باتیں (fetish) بن جاتی ہیں، جن کے من میں ایسی بیوی کا تصور ہوتا ہے، جس کی پردہ بقارت ٹوٹی نہ ہو تاکہ ان کو کنوارے پن کا تجربہ حاصل ہو۔


کنوارے پن پر ضرورت سے زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ ہمارے ہندوستانی معاشرے میں اندام نہانی کے بچے رہنےکو کنوارے پن کا اشارہ مانا جاتا ہے کیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ سبھی لڑکیاں، جن کا کنوارہ پن ابھی ختم نہیں ہوا ہے، ان میں یہ اندام نہانی بچا رہتا ہے، ٹوٹتا نہیں ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس بات کو مانیں کہ کنوارے پن کی بات معاشرے کے گڑھے ہوئے تصور ہیں نہ کہ طبی صورتحال۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ہائمن کی موجودگی یا اس کے نہیں ہونے کا کسی جوان لڑکی کے کنوارے پن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اورکسی لڑکی میں اس کے ہونے کا بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کا کنوارہ پن ختم نہیں ہوا ہے۔


کئی بار بھاری جسمانی کوشش کے دوران ہائمن (اندام نہانی) ٹوٹ جاتا ہے، جیسے گھوڑ سواری، پیڑ پر چڑھنے، ناچنے، جمناسٹک، ورزش کرنے یا سیکس، اورل سیکس، یا اندام نہانی میں انگلی کو چلانے وغیرہ سے۔ کئی بار ہائمن کو توڑے بغیر جنسی سرگرمی کو انجام دیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہےکہ ہرلڑکی کے اندام نہانی سے پہلے سیکس کے دوران ہائمن کے ٹوٹنے کے سبب خون نکلے گا۔

ہائمن چمڑی کی ایسی پرت نہیں ہے، جس کے آر پار نہ نظرآئے۔ یہ ایک بہت ہی پتلی سیل والی جھلی ہوتی ہے، جو اندام نہانی کا باہری حصہ یا منہ کا حصہ جزوی طور پر یا مکمل طور پر پوشیدہ رہتا ہے۔ یہ چھدر دار جھلی ہوتی ہے، جس سے ہو کر ماہواری کے دوران خون باہر آتا ہے۔ دلچسپ یہ ہے کہ کئی خواتین میں یہ جھلی پیدائشی طور پر ہی نہیں ہوتی ہے اور کئی خواتین جن میں یہ ہوتا بھی ہے، ان میں سیکس کے پہلے تجربے سے پہلے ہی یہ ٹوٹ جاتی ہے۔

ہائمن اور اندام نہانی میں فرق کر پانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے، بھلے ہی آپ اس کو کتنی ہی روشنی میں کیوں نہ دیکھیں۔ سیکس کے دوران خواتین کا جسم مردوں کے جسم سے بالکل الگ طرح سے کام کرتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ سیکس سے پہلے آپ ایکسائیٹیڈ کرنے والی سرگرمیاں انجام دیں تاکہ اندام نہانی کا اندرونی حصہ خارج ہونے کی وجہ سے گیلا ہوجائے۔  صبروتحمل اور پورا وقت دے کر اپنے خاتون ساتھی کو چومنا، گلے لگانا اور خاتون کے جسم کے ایراٹک زون کو چھونا یا سہلانا اچھے سیکس کے لئے مثبت باتیں ہیں۔

سیکس کے دوران کئی وجوہات سے درد کا تجربہ ہوسکتا ہے۔ بغیر پہلے اجازت کے سخت سیکس اور وہ بھی بغیرکسی فور پلے کے، شرمگاہوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگرسیکس کےدوران اندام نہانی مناسب طور پرگیلا نہیں ہوا ہے اور اگر پیشاب کی جگہ میں کسی طرح کا انفیکشن ہے یا خاتون کو لیٹکس کنڈوم سے الرجی ہے، ان سب وجوہات سے خاتون کو سیکس کے سبب درد ہوسکتا ہے۔ اگر آپ اپنی خاتون پارٹنرکو پہلے سیکس کے دوران ہائمن کے ٹوٹنےکے سبب ہونے والے درد سے فکر مند ہیں تو انہیں سیکس سے پہلے پنیٹریٹیو ماسٹربیشن کو آزمانے کو کہیں کیونکہ اس سے ہائمن کے ٹوٹنے کا خطرہ کم ہوجائے گا اور شرمگاہ کے آس پاس اورلنگ پر پانی پر مبنی لوبرکینٹس کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ سیکس کے دوران اپنی رفتار دھیمی اور ہلکا رکھیں۔ کسی بھی طرح کی جلد بازی نہیں کریں۔ یقینی بنائیں کہ آپ جذباتی طور پر تیارہوں اور آپ کی ایکسائٹمنٹ شباب پر ہو۔ اپنے پارٹنرکو ہمیشہ یہ بتاتے رہیں کہ آپ کو کیسا تجربہ ہو رہا ہے۔

سیکس کے بعد، آپ صاف کپڑے میں برف کو لپیٹ کر اندام نہانی کے منہ پر رکھیں یا وارم باتھ کا سہارا لیں، جب تک درد ختم نہیں ہوجاتا، دوبارہ سیکس نہ کریں۔ اگر آپ کو سیکس کے بعد زیادہ خون نکلتا ہے یا درد ہوتا ہے تو کسی ماہر امراض نسواں (Gynaecologist) سے رابطہ کریں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 16, 2021 06:44 PM IST