ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Babri Demolition Verdict : بابری مسجد انہدام کیس میں فیصلہ کے بعد اب آگے کیا ہوگا ، کیا چیلنج دیا جاسکے گا

سی بی آئی کی خصوصی عدالت (CBI Special Court) نے بابری مسجد انہدام کیس (Babri Demolition) میں زندہ سبھی 32 ملزمین کو بری کردیا ہے ۔ اب اس فیصلہ (Verdict on Babri) کے بعد کیا یہ معاملہ ختم ہوجائے گا یا پھر اس کو چیلنج کیا جاسکے گا ۔

  • Share this:
Babri Demolition Verdict : بابری مسجد انہدام کیس میں فیصلہ کے بعد اب آگے کیا ہوگا ، کیا چیلنج دیا جاسکے گا
بابری مسجد انہدام کیس میں فیصلہ کے بعد اب آگے کیا ہوگا ، کیا چیلنج دیا جاسکے گا

سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بابری مسجد انہدام معاملہ میں لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 32 ملزمین کو بری کردیا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کورٹ کے اس فیصلہ کو چیلنج کیا جاسکتا ہے اور اس معاملہ میں آگے کیا ہوگا ۔ خیال رہے کہ چھ دسمبر 1992 کو جب رام سیوک ایودھیا میں جمع ہوئے تھے ، تبھی اچانک کچھ لوگوں کو بابری کے گنبد پر چڑھتے دیکھا گیا ۔ اس کے کچھ دیر بعد اس کو بھیڑ نے منہدم کردیا ۔ اس وقت وہاں وشو ہندو پریشد ، بی جے پی اور بجرنگ دل کے لیڈران بھی تھے ۔ ان میں 49 لوگو ملزم بناکر یہ معاملہ شروع ہوا تھا ۔ اس درمیان 17 ملزمین کا انتقال ہوگیا ۔


اب سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سنادیا ہے کہ یہ کوئی پہلے سے منصوبہ بند کارروائی نہیں تھی بلکہ جو کچھ ہوا وہ اچانک ہوا ۔ سی بی آئی عدالت کے اس فیصلہ کے ساتھ کیا یہ معاملہ یہیں ختم ہوجائے گا یا اس کو چیلنج کیا جاسکے گا ۔ یہ ایک سوال ہے ۔


کیا ہوگا فریق کا موقف


اس معاملہ میں ہاشم انصاری ایک فریق تھے ۔ ان کے انتقال کے بعد اب ان کے بیٹے اقبال انصاری فریق بنے ۔ انہوں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ اب ختم ہوجائے ۔ 30 ستمبر کو بھی جب لکھنو کی سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سنایا تو انہوں نے اس کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ان کی جانب سے یہ معاملہ اب ختم ہوگیا ہے ۔

سی بی آئی کا کیا رخ ہے

ظاہر سی بات ہے کہ وہ اس معاملہ کو چیلنج دینے والی نہیں ہے ۔ سی بی آئی خود اس معاملہ کو ختم کرچکی ہے ، جس نے طویل عرصہ تک اس معاملہ کی جانچ کی اور اس کو عدالت تک لے گئی ۔

تو کیا ختم ہوجائے گا یہ معاملہ

اگر کسی نے اس معاملہ کو چیلنج نہیں کیا تو یہ معاملہ ختم ہوجائے گا اور سبھی بری ملزمین کو پھر سے کسی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور یہ معاملہ قصہ پارینہ بن جائے گا ۔

کیا اس کو چیلنج کیا جاسکتا ہے

لیکن ہندوستانی آئین کے تحت ہندوستان کا کوئی بھی شہری اس طرح کے بہت سے لوگوں سے وابستہ معاملات کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرسکتا ہے ۔ ویسے بھی سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے فیصلوں میں 90 فیصدی فیصلوں کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جاتا رہا ہے ۔ لہذا عوام میں کوئی بھی اس معاملہ کو چیلنج کرتے ہوئے اس کو ہائی کورٹ لے جاسکتا ہے ۔

کیا ہوتی ہے سی بی آئی کی خصوصی کورٹ کی سطح

سی بی آئی کی خصوصی کورٹ ضلع عدالت کے مساوی ہوتی ہیں ۔ ان کی تشکیل دہلی اسپیشل اسٹیبلشمنٹ ایکٹ 1946 کے تحت کی جاتی ہے ۔ عام طور پر اس لئے کہ یہ عدالتوں کے بوجھ کو کم کریں ۔ یہ سی بی آئی سے وابستہ معاملات کو ہی ڈیل کرتی ہیں ، لہذا ان کے پاس جو کیس آتے ہیں ، وہ پیچیدہ اور مشہور ہوتے ہیں ۔

ان کا جج کیسے بنایا جاتا ہے

ان عدالتوں کا جج جوڈیشیل سسٹم سے ہی آتا ہے یا پھر اس کو میرٹ کی بنیاد پر بنایا جاتا ہے ۔ وہ چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ یا جوڈیشیل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے ہم منصب ہوتا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 30, 2020 02:31 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading