ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

WhatsApp:واٹس ایپ اپنی نئی پرائیوسی پالیسی صارفین پرکررہاہےمسلط، مرکزی حکومت

مرکز کا کہنا ہے کہ صارفین پر پالیسی کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ واٹس ایپ اپنے صارفین کو بار بار نوٹیفکیشن بھیج رہا ہے ، جو مسابقتی کمیشن آف ہندوستان کے 24 مارچ 2021 ء کے حکم کے منافی ہے۔ مرکز نے دہلی ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ عدالت رازداری کی نئی پالیسی کے بارے میں بھیجے جانے والے نوٹیفکیشن پر عبوری ہدایات دے۔ واٹس ایپ نے بھی جواب داخل کروایاہے

  • Share this:
WhatsApp:واٹس ایپ اپنی نئی پرائیوسی  پالیسی صارفین پرکررہاہےمسلط، مرکزی حکومت
وہاٹس ایپ

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے واٹس ایپ معاملے میں دہلی ہائی کورٹ میں ایک حلف نامہ پیش کیا ہے۔ اس میں مرکز نے واٹس ایپ پر اپنی صلاحیت کا غلط استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ مرکز کا کہنا ہے کہ صارفین پر پالیسی کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ واٹس ایپ اپنے صارفین کو بار بار نوٹیفکیشن بھیج رہا ہے ، جو مسابقتی کمیشن آف ہندوستان کے 24 مارچ 2021 ء کے حکم کے منافی ہے۔ مرکز نے دہلی ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ عدالت رازداری کی نئی پالیسی کے بارے میں بھیجے جانے والے نوٹیفکیشن پر عبوری ہدایات دے۔ واٹس ایپ نے بھی جواب داخل کروایاہے


ہم آپ کو بتادیں کہ واٹس ایپ کی رازداری کی پالیسی 15 مئی سے ہندوستان سمیت متعدد ممالک میں نافذ کی ہو چکی ہے۔ حکومت نے رازداری کی نئی پالیسی پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں ، لیکن ابھی تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اب حکومت نے واٹس ایپ کی رازداری کی پالیسی کے بارے میں دہلی ہائی کورٹ میں کہا ہے کہ واٹس ایپ اپنی نئی پالیسی صارفین پر مسلط کررہا ہے اور اسے قبول کرنے کے لئے مختلف تدبیریں اپنا رہا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ میں مرکز کے ذریعہ دائر حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ اپنی ڈیجیٹل قابلیت کا ناجائز استعمال کررہا ہے اور صارفین کو نئی پالیسی قبول کرنے پر مجبور کررہا ہے۔



مرکز نے کہا ہے کہ ڈیٹا پروٹیکشن بل قانون بننے سے پہلے ہی واٹس ایپ صارفین کو پالیسی قبول کر نے کے لیے دباؤ ڈال رہاہے۔ وزارت الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹکنالوجی نے ٹویٹ کیا ہے کہ واٹس ایپ کو کسی پیغام کا اصل پتہ تب ہی فراہم کرنا ہوگا جب خواتین کے خلاف جرائم جیسے سنگین مقدمات کی روک تھام ، تفتیش یا سزا کی ضرورت ہوگی۔ وزارت نے آسان الفاظ میں کہا کہ ہندوستان میں کسی بھی قسم کا آپریشن صرف یہاں کے قانون کے تحت چلائے گا۔ ہدایات پر عمل درآمد سے واٹس ایپ کا انکار طے شدہ معیارات کے منافی ہے۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد کا کہنا ہے کہ کچھ مواقع پر رازداری سے متعلق حق سے انکار کیا جاسکتا ہے۔ اس معاملے میں بھی واٹس ایپ نے جواب داخل کیاہے۔

واٹس ایپ نے بھی ہائی کورٹ میں جواب داخل کراتے ہوئے کہا کہ فیس بک کے ساتھ کوئی ڈیٹا شیئر نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی صارف کے ذاتی پیغامات محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ واٹس ایپ نے کہا کہ ڈیٹا کسی کے ساتھ شیئر نہیں کیا جاسکتا۔ صارفین کو ان کی رازداری کی نئی پالیسی پر غور کرنے کے لئے 4 ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ واٹس ایپ اپنے صارفین کے لئے پرعزم ہے اور اس کی نئی پالیسی سے صارفین میں شفافیت آئی ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jun 03, 2021 01:42 PM IST