உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    واٹس ایپ-ٹیلی گرام کال جلس ہی ٹیلیکام قوانین کے دائرے میں آئیں گے، کئی بڑی تبدیلیوں کی ہے تجویز

    واٹس ایپ-ٹیلی گرام کال جلس ہی ٹیلیکام قوانین کے دائرے میں آئیں گے، کئی بڑی تبدیلیوں کی ہے تجویز

    واٹس ایپ-ٹیلی گرام کال جلس ہی ٹیلیکام قوانین کے دائرے میں آئیں گے، کئی بڑی تبدیلیوں کی ہے تجویز

    Telecom Law: حکومت نے اس تجویز پر 20 اکتوبر تک انڈسٹری اور لوگوں سے تجویز دینے کو کہا ہے۔ منسٹری کا کہنا ہے کہ اب تک ملے تجاویز کی بنیاد پر ان باتوں سے دھیان کھینچا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi | Lucknow | Hyderabad
    • Share this:
      Telecom Law:واٹس ایپ، گوگل ڈوو، ٹیلی گرام اور ایسےہی کئی کالنگ اور میسجنگ ایپ کو اب ٹیلی کام قوانین کے دائرے میں لانے کی تیاری ہے۔ اس کو لے کر حکومت نے ایک ڈرافٹ بل پیش کیا ہے۔ اس میں تجویز ہے کہ اوور دا ٹاپ (OTT) یعنی ایسی ٹیلیکام سروسز جو روایتی ٹیلی کام خدمات سے الگ ہیں اور انٹرنیٹ کے ذریعے کام کرتی ہیں، انہیں بھی ٹیلی کام سروس کے دائرے میں لایا جائے گا۔ حکومت نے ڈرافٹ ٹیلی کمیونی کیشن بل 2022 میں کئی ایسی تجاویز پیش کی ہیں، جن سے ٹیلی کام قوانین میں زبردست تبدیلی لائی جائے گی۔

      بدھ کے روز سامنے آنے والے مسودہ بل کے مطابق ، او ٹی ٹی سروسز کو بھی ٹیلی کام خدمات کا حصہ سمجھا جائے گا۔ ڈرافٹ بل کے مطابق ، کسی بھی ٹیلی کام سروس اور نیٹ ورک کی سہولت کو لائسنس دینا ہوگا۔ حکومت نے اس بل میں ٹیلی مواصلات اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کی فیسوں اور جرمانے کو معاف کرنے کی بھی تجویز پیش کی ہے۔ وزارت نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ اگر کوئی ٹیلی کام یا انٹرنیٹ سروس فراہم کنندہ اپنے سروس لائسنس کو سرینڈر کرتا ہے تو اس کی بھری گئی فیسوں کو واپس کردیا جائے۔

      اس لئے تبدیلی چاہتی ہے حکومت
      حکومت نے اس تجویز پر 20 اکتوبر تک انڈسٹری اور لوگوں سے تجویز دینے کو کہا ہے۔ منسٹری کا کہنا ہے کہ اب تک ملے تجاویز کی بنیاد پر ان باتوں سے دھیان کھینچا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      یوپی میں 43 نئےگورنمنٹ انٹرکالجزکی عمارتیں مکمل تیار، تعلیمی سیشن 24-2023 کےتحت ہوگاآغاز

      یہ بھی پڑھیں:
      وزرائے ماحولیات کے قومی کانفرنس سے آج خطاب کریں گےPM مودی، ان موضوع پر ہوگی بات چیت

      • مستقبل کے لیے قانونی فریم ورک کو مضبوط کرنا۔

      • نئے قانون کے مطابق ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں استعمال ہونے والے ناموں اور تعریفوں کو دوبارہ ڈیزائن کرنا۔

      • اسپیکٹرم مینجمنٹ کے لیے قانونی فریم ورک کو ہموار کرنا تاکہ اس سے وابستہ چیلنجوں سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔

      • ٹیلی کمیونیکیشن، سائبر سیکیورٹی، قومی سلامتی کے شعبے میں عالمی معیار کے طریقوں کو اپنانا اور آئین اور قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاری۔

      • ٹیلی کام اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں پر جرمانے اور عائد کرنے کے عمل کو مزید معقول بنانا۔

      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: