உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اٹل بہاری واجپئی کیلئے جب دلیپ کمار نے پاکستان کے وزیر اعظم کو ڈانٹ دیا

    دلیپ کمار ۔ فائل فوٹو

    دلیپ کمار ۔ فائل فوٹو

    سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور اداکار دلیپ کمار کے رشتے کافی اچھے رہے ہیں اور کئی مواقع پر ایسا سامنے بھی آتا رہا ہے۔

    • Share this:
      سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور اداکار دلیپ کمار کے رشتے کافی اچھے رہے ہیں اور کئی مواقع پر ایسا اکثر سامنے بھی آتا رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے کرگل میں دراندازی کے دوران ایک ایسا موقع بھی آیا ، جب اٹل بہاری واجپئی کیلئے دلیپ کمار نے اس وقت کے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو ڈانٹ بھی دیا تھا ۔ دلیپ نے شریف کو شرافت سے رہنے تک کا مشورہ دے ڈالا تھا۔
      اس پورے معاملہ کو سمجھنے کیلئے اٹل بہاری واجپئی کے لاہور دورہ اور 1999 کے لاہور اعلامیہ کا تذکرہ کرنا ضروری ہے ۔ اس اعلامیہ کے ساتھ ہی ایسی امید ظاہر کی جارہی تھی کہ اب دونوں ممالک کے رشتے دوستانہ ہوسکتے ہیں ۔ اس سمجھوتے میں دونوں ممالک نے شملہ سمجھوتہ کو نافذ کرنے کے تئیں عزم کا اظہار کیا تھا ۔ واجپئی کے دورہ کے دوران پاکستان کی کئی شدت پسندوں تنظیموں نے مخالفت بھی کی تھی اور مینار پاکستان کے پلیٹ فارم کو یہ کہہ کر دھلوایا تھا کہ یہاں دشمن ملک کے وزیر اعظم کے قدم پڑ گئے ہیں ۔
      حالانکہ یہ دوستی زیادہ دنوں تک ٹک نہیں پائی اور پاکستان کے نئے نئے بنے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کی شہ پر کرگل میں دراندازی شروع ہوگئی اور صورتحال ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوگئی ۔ سینئر صحافی وجے ترویدی کی کتاب "ہار نہیں مانوں گا - اٹل ایک جیون گاتھا "میں بھی اس کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ مشرف نے شریف سے اقتدار چھیننے کیلئے کرگل کو انجام دیا تھا ۔
      بہر حال پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے اپنی کتاب "نیدر اے ہاک نار اے ڈو "میں دلیپ کمار والے اس قصہ کا تذکرہ کیا ہے ۔ ان کے مطابق کرگل دراندازی سے ناراض واجپئی نے دلیپ کمار سے نواز شریف کے رویہ کے تئیں افسوس کا اظہار کیا تھا ۔ اس کے بعد لیپ کمار نے خود نواز شریف سے بات کی تھی ۔ غور طلب ہے کہ دلیپ کمار بھی سال 1997 میں اٹل کے ساتھ بس سے لاہور گئے تھے ۔ اسی سال پاکستان نے دلیپ کمار کو اپنے سب سے بڑے ایوارڈ نشان امتیاز سے بھی نوازا تھا ۔


      ہوا یوں کہ کرگل دراندازی کو اٹل بہار نے پیٹھ میں خنجر کی طرح مانا اور اس کی شکایت دلیپ کمار سے بھی کی ۔ اٹل نے کہا کہ شریف نے ایک طرف لاہور میں امن کی باتیں کیں اور دوسری طرف مشرف کو دراندازی کرنے سے بھی نہیں روکا ۔ قصوری کے مطابق واجپئی نے شریف کو شکایت بھرا فون کیا اور اچانک ہی فون دلیپ کمار کو پکڑا دیا ۔ دلیپ کی آوازسن کر شریف بھی گھبرا گئے لیکن دلیپ نے بولنا جاری رکھا ۔ انہوں نے کہا "میاں صاحب ، آپ نے ہمیشہ امن کے بڑے حامی ہونے کا دعوی کیا ہے ، اس لئے ہم آپ سے جنگ کی امید نہیں کرتے ، کشیدگی کے حالت میں ہندوستانی مسلمان کافی غیر محفوظ ہوجاتے ہیں ، اس لئے حالات کو قابو کرنے کے بارے میں برائے مہربانی کچھ کیجئے "۔
      قصوری کے مطابق اٹل بہاری نے سرتاج عزیز کو بھی فون کرکے افسوس کا اظہار کیا تھا ۔ پاکستان میں ہائی کمشنر رہے پارتھ سارتھی کے مطابق دلیپ کی اس بات سے شریف کو بڑا دھچکہ لگا تھا ۔ ایک طرف تو وہ تختہ پلٹ روکنے کی کوشش میں لگے تھے ، وہیں انہیں یہ بھی احساس ہوگیا تھا کہ کرگل واقعہ سے ان کی شیبہ کو کتنا بڑا نقصان پہنچ گیا ہے ۔
      First published: