ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پرنب دا نے کبھی کانگریس چھوڑ کر بنائی تھی الگ پارٹی ، پھر کہتے : مجھے تو یاد ہی نہیں

اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پرنب مکھرجی کو وزیر اعظم عہدہ کا سب سے مضبوط دعویدار مانا جارہا تھا ۔ لیکن کانگریس پارٹی نے راجیو گاندھی کو وزیر اعظم منتخب کرلیا ۔ 1986 میں ایک وقت ایسا آیا ، جب پرنب مکھرجی نے ایک نئی سیاسی پارٹی بنالی ۔ پارٹی کا نام راشٹریہ سماجوادی کانگریس تھا ۔

  • Share this:
پرنب دا نے کبھی کانگریس چھوڑ کر بنائی تھی الگ پارٹی ، پھر کہتے : مجھے تو یاد ہی نہیں
پرنب دا نے کبھی کانگریس چھوڑ کر بنائی تھی الگ پارٹی ، پھر کہتے : مجھے تو یاد ہی نہیں

بھارت رتن پرنب مکھرجی اب ہمارے درمیان نہیں ہیں ۔ ہندوستانی سیاست کا نایاب ستارہ ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگیا ۔ چھوٹے سے گاوں میں پیدا ہوئے پرنب مکھرجی کو سیاست وراثت میں ملی ، لیکن ان کی سیاست کبھی بھی روایتی نہیں رہی ۔ وہ ملک کے ان چنندہ لیڈروں میں سے ہیں ، جن کے کریئر میں طوفانی اتار چڑھاو دیکھے جاسکتے ہیں ۔


کبھی اندرا گاندھی کے انتہائی خاص رہے پرنب دا کے راجیو گاندھی سے تعلقات اتنے خراب ہوگئے کہ انہوں نے کانگریس کو ہی الوداع کہہ دیا تھا ۔ خود کی نئی پارٹی بناکر اسی کانگریس سے لوہا لینے لگے تھے ، جس نے انہیں ملک کا وزیر خزانہ بنایا تھا ۔ بعد میں وہ نہ صرف اسی کانگریس میں لوٹے ، بلکہ اسی پارٹی نے انہیں ملک کے سب سے عظیم عہدہ پر فائز کرایا ۔


والد سے سیکھی سیاست


پرنب مکھرجی کی پیدائش 1935 میں مغربی بنگال کے بیربھوم ضلع میں مراتی گاوں میں ہوئی ۔ والد کامدا کنکر مکھرجی 1920 سے ہی کانگریس پارٹی کے سرگرم رکن تھے ۔ ملک آزاد ہونے کے بعد وہ مغربی بنگال قانون ساز کونسل میں بھی منتخب ہوئے ۔ ظاہر ہے پرنب مکھرجی بچپن سے ہی سیاست کی اے بی سی ڈی سیکھ  رہے تھے ۔ شاید سیاست میں دلچسپتی نے ہی انہیں پولیٹیکل سائنس پڑھنے کی ترغیب دی ۔

اندرا سے قربت اور بن گئے نمبر 2

سال 1969 میں بنگال کے مدناپور میں ضمنی انتخابات ہوئے ۔ پرنب مکھرجی نے اس الیکشن میں آزاد امیدوار وی کے کرشنامینن کی مدد کی ۔ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی ان کے کام سے کافی متاثر ہوئیں ۔ کچھ دن بعد پرنب مکھرجی کانگریس میں شامل ہوکر راجیہ سبھا کے رکن بن چکے تھے ۔ سال 1973 میں وہ مرکزی کابینہ میں شامل کرلئے گئے ۔ اس کے بعد وہ 1975 اور 1981 میں بھی راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہوئے ۔

ایمرجنسی کے بعد کانگریس کی ہار ہوئی ۔ تب اندارا گاندھی پر کچھ سوالات اٹھنے لگے اور اس دوران پرنب مکھرجی سابق وزیر عظم کے سب سے قابل اعتماد معاون بن کر ابھرے ۔ کانگریس کی حمایت بڑھنے لگی ۔ سن 1980 میں کانگریس نے پھر مرکز میں حکومت بنائی اور دیکھتے ہی دیکھتے پرنب مکھرجی اندرا گاندھی کابینہ میں وزیر خزانہ بن گئے ۔ وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں پرنب مکھرجی ہی کابینہ کی میٹنگوں میں صدارت کرتے تھے ۔

بھارت رتن پرنب مکھرجی اب ہمارے درمیان نہیں ہیں ۔ ہندوستانی سیاست کا نایاب ستارہ ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگیا ۔
بھارت رتن پرنب مکھرجی اب ہمارے درمیان نہیں ہیں ۔ ہندوستانی سیاست کا نایاب ستارہ ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگیا ۔


راجیو گاندھی سے ہوگئے دور

اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پرنب مکھرجی کو وزیر اعظم کے عہدہ کا سب سے مضبوط امیدوار مانا جارہا تھا ۔ لیکن جیسا کہ سیاست میں ہوتا ہے یا دکھتا ہے ویسا نہیں ہوتا نہیں ہے ۔ پرنب مکھرجی اپنی خواہش کا اظہار کرچکے تھے اور یہی بات ان کے خلاف چلی گئی ۔ کانگریس پارٹی نے راجیو گاندھی کو وزیر اعظم منتخب کرلیا ۔ وہ راجیو گاندھی حکومت میں بھی وزیر خزانہ بنے ۔ بعد میں کچھ اختلافات کی وجہ سے پرنب مکھرجی کو یہ عہدہ چھوڑنا پڑا ۔ وہ کانگریس سے دور ہوتے چلے گئے اور 1986 میں ایک وقت ایسا آیا جب انہوں نے ایک نئی سیاسی پارٹی بنالی ۔ پارٹی کا نام راشٹریہ سماجوادی کانگریس تھا ۔

تاہم 1989 آتے آتے گنگا میں بہت پانی بہہ چکا تھا ۔ وی پی سنگھ نے بوفورس گھوٹالہ کو جم کر اچھالا اور ماحول راجیوگاندھی اور کانگریس کے خلاف بننے لگا ۔ ادھر پرنب مکھرجی بھی الگ پارٹی بناکر کچھ خاص نہیں کرپارہے تھے ۔ اس کے بعد راجیو گاندھی اور پرنب مکھرجی میں صلح ہوگئی اور راشٹریہ سماجوادی پارٹی کانگریس کا کانگریس میں انضمام ہوگیا ۔

بعد میں جب کبھی پرنب دا سے ان کی پارٹی کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ مسکرا کر جواب دیتے کہ مجھے تو اس کا نام بھی یاد نہیں ہے ۔ آگے کا سفر ان کا انتہائی شاندار رہا ۔ سونیا گاندھی کی قیادت والی کانگریس میں رہتے ہوئے پرنب مکھرجی نہ صرف وزیر خزانہ ، وزیر دفاع بنے بلکہ 2004 سے 2012 تک یو پی اے حکومت کے سنکٹ موچک بھی رہے ۔ سال 2012 میں پرنب مکھرجی بطور صدر جمہوریہ اس بگھی میں بیٹھے ، جس کا کبھی انہوں نے گھوڑا بننے کا خواب دیکھا تھا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 31, 2020 08:46 PM IST