உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Operation Polo: آپریشن پولوکیاہے اور کس طرح حیدرآباد ریاست کو ہندوستان میں ضم کیاگیا؟

    آزادی ہند کے محض ایک سال ہی میں یعنی 1948 میں نظام ناکام ہوئے اور ان کی رعایا کو نقصان اٹھانا پڑا۔

    آزادی ہند کے محض ایک سال ہی میں یعنی 1948 میں نظام ناکام ہوئے اور ان کی رعایا کو نقصان اٹھانا پڑا۔

    اگرچہ انگریزوں نے 1947 میں باضابطہ طور پر ہندوستان چھوڑ دیا، لیکن اس نے مختلف ریاستوں کے بادشاہوں کو یہ اختیار دیا کہ وہ ہندوستان یا پاکستان میں شامل ہو جائیں یا آزاد رہیں۔ نظام دکن میر عثمان علی خان ان مٹھی بھر بادشاہوں میں سے تھے، جو آزاد رہنا چاہتے تھے، جیسے جموں و کشمیر کے ہری سنگھ وغیرہ جس کی وجہ سے آپریشن پولو ہوا۔

    • Siasat
    • Last Updated :
    • Share this:
      ٹھیک 73 سال پہلے 1948 میں ہندوستانی حکومت نے آخری نظام میر عثمان علی خان (Last Nizam Mir Osman Ali Khan) کے ساتھ کئی مہینوں کی بات چیت کی اور بالآخر اپنی فوج کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ یہ کارروائی تقریبا چار دن تک چلتی رہی اور 17 ستمبر 1948 کو ایک مکمل، آزاد اور خود مختار ریاست حیدرآباد ہندوستان کے دست نگر آئی گئی۔

      ہندوستانی حکومت کی جانب سے جے این چودھری (J. N. Chaudhuri) کی قیادت میں فوجی آپریشن ہوا۔ جسے مقامی زبان میں آپریشن پولو Operation Polo یا پولیس ایکشن Police Action کہا جاتا ہے۔ اس نے کئی دہائیوں کے بعد بھی حیدرآبادی عوام کے ذہنوں پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دوران ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ میر عثمان علی خان کے ہندوستان یا پاکستان میں شامل ہونے سے انکار کرنے اور آزاد رہنے کا فیصلہ کرنے کے بعد یہ پورا واقعہ ایک تیز رفتار ناول کی طرح چلتا رہا۔

      آزادی ہند کے محض ایک سال ہی میں یعنی 1948 میں نظام ناکام ہوئے اور ان کی رعایا کو نقصان اٹھانا پڑا۔ بہت سے لوگ اکثر سوچتے ہیں کہ اگر بادشاہ ہندوستان میں الحاق کرلیتے اور خونریزی سے بچ جاتے تو کچھ بہتر ہوتا، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کا طریقہ کار یا حیدرآباد کو انڈین یونین میں ضم کرنا انتہائی سخت تھا۔ آپریشن پولو کے نتیجے میں بنائی گئی سندر لال کمیٹی (Sunderlal committee) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آپریشن پولو کے نتیجہ میں 26000 تا 40000 مسلمان مارے گئے، خاص طور پر مہاراشٹر اور کرناٹک کے اضلاع میں مسلمانوں کو تہہ تیغ کردیا گیا۔

      اس وقت کی اہم شخصیات میں نظام کے علاوہ ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو Prime Minister Jawaharlal Nehru، مرکزی وزیر داخلہ سردار پٹیل Sardar Patel، حیدرآباد میں تعینات ہندوستان کے ایجنٹ جنرل کے ایم منشی KM Munshi، حیدرآباد کے آخری وزیر اعظم میر لائق علی Meer Laiq Ali، ایم آئی ایم کے صدر اور رضاکاروں Razakars کے سربراہ قاسم رضوی Qasim Razvi ، کانگریس قائدین سوامی رامانند تیرتھ Swami Ramanand Tirtha اور برگولا رام کرشنا Burgula Ramakrishna، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے روی نارائن ریڈی Ravi Narayan Reddy، مخدوم محی الدین Makhdoom Mohiuddin، ​​پی سندریا P. Sundarayya اور دیگر شامل تھے۔ وہیں حیدرآباد ریاستی فوج کے آخری فوجی کمانڈر سید احمد العیدروس Syed Ahmed El-Edroos تھے۔

      ’حیدرآبادی فوج کا ہندوستانی فوج سے کوئی مقابلہ نہیں‘

      ان تمام لوگوں میں سے جو آپریشن پولو سے پہلے کے دنوں میں براہ راست شامل تھے، ان میں سے غالباً سید احمد العیدروس وہ شخص ہیں جنہوں نے شاید یہ جان کر مزید جانیں بچائیں کہ حیدرآباد کی ریاستی فوج کا ہندوستانی فوج سے کوئی مقابلہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ العیدروس نے اپنی دانشمندی کے تحت زمینی صورتحال کو سمجھنے کے بعد ہتھیار ڈال دیئے تھے، جب کہ حیدرآباد کے وزیر اعظم لائق علی اس زعم میں مبتلا تھے کہ نظام کی ریاست ہندوستان کی طاقت کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو گی۔

      یہ کہنا مشکل ہوگا کہ اگر حیدرآباد ریاست نے اپنی فوج کو ہندوستانی فوج کے خلاف مکمل تیاری کے ساتھ کھڑا کیا یا یوں ہی۔ العیدروس نے درحقیقت زمینی حقائق کو سمجھنے کے بعد جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار ماننے کا فیصلہ کیا تھا۔ حیدرآباد کی جانب سے کہا گیا تھا کہ تین میل کے فاصلے پر پیچھے ہٹ جائیں جب ہندوستانی فوج نے 13 ستمبر 1948 کو اپنی پیش قدمی شروع کر دی تھی۔

      العیدروس نے اپنی یاداشت میں کہا تھا کہ ’’میں نے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے سرحدوں سے فوجیوں کو 3 میل کے اندر اندر ہٹا لیا تھا تاکہ ہندوستانی فوج کے ساتھ جھڑپوں سے بچ سکیں جو پہلے ہی سرحدوں پر توجہ دے رہی تھی۔ میر لائق علی اور ان کے کابینہ کے وزراء حیدرآباد کی مسلح افواج کے تصرف کے بارے میں فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور وہ رضاکاروں کو منظم کرنے میں لگے ہوئے تھے‘‘۔

      ہمیں ہر شخص کے واقعات کو دیکھنے اور سمجھنے کا انداز اور اس کی جھلکیاں ان کی لکھی ہوئی کتابوں کی بنیاد پر ملتی ہیں۔ العیدروس زمینی حقیقت کو سمجھنے کے لیے سب سے اہم مانے جاتے ہیں کہ آیا حیدرآباد دور دراز سے ہندوستانی فوج کا مقابلہ کرنے کے قابل تھا یا نہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت میر عثمان علی خان دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک تھے اور وہ نسبتا پرامن ریاست کے ہردلعزیز اور سیکولر بادشاہ تھے۔

      حیدرآباد ریاست کا پس منظر:
      اگرچہ انگریزوں نے 1947 میں باضابطہ طور پر ہندوستان چھوڑ دیا، تاہم اس نے ریاستوں اور ان کے بادشاہوں کو یہ اختیار دیا کہ وہ ہندوستان یا پاکستان میں شامل ہو جائیں یا آزاد رہیں۔ میر عثمان علی خان ان مٹھی بھر بادشاہوں میں سے تھے، جو آزاد رہنا چاہتے تھے۔ بہر حال وہ سب سے بڑی شاہی ریاست حیدرآباد کے بادشاہ تھا ، جو 1948 میں 16 اضلاع پر مشتمل تھی۔ جس میں تلنگانہ کے 8 ، مہاراشٹر کے 5 اور کرناٹک کے3 اضلاع شامل تھے۔

      جاگیرداروں کا ظلم؟

      اگرچہ حیدرآباد 1940 کی دہائی تک جدید ترین سہولیات اور انفراسٹرکچر کے ساتھ کم و بیش ایک دارالحکومت رہا، لیکن اس کا ایک تاریک پہلو بھی تھا، خاص طور پر تلنگانہ کے اضلاع میں یہ نمایاں تھا۔ تلنگانہ کے دیہی علاقوں کو ریاست کے مقرر کردہ جاگیرداروں (زمینداروں ؍ Jagirdars ) نے انتہائی ظلم کا نشانہ بنایا، جن کا بنیادی کام کسانوں سے محصول (ٹیکس اور کرایہ) اکٹھا کرنا اور ریاست کو دینا تھا۔ جاگیرداروں کا رویہ کسانوں اور عوام کے ساتھ بہت ہی برا تھا۔گویا کہ وہ لوگوں کا استحصال کررہے تھے۔

      درحقیقت انتہائی جاگیردارانہ جبر ہی تلنگانہ مسلح جدوجہد Telangana Armed Struggle (1946-51) کی طرف لے گیا، جو آپریشن پولو کے بعد بھی جاری رہا۔ ویٹی چکری (بندھوا مزدور) دیہی تلنگانہ میں بھی عام تھا، جس میں نچلی ذات کے لوگ اعلیٰ ذاتوں اور زمیندار طبقے کی خدمت کرنے پر مجبور تھے۔ اس سے زیادہ خود نظام ریاست کی 10 فیصد زمینوں کے براہ راست مالک تھے، جبکہ ان کی 60 فیصد آمدنی کی زمینیں (Diwani) تھیں، اور 30 ​​فیصد جاگیرداروں کے تحت تھیں۔ جس کا ذکر انگریزی کتاب Telangana People’s Struggle and its lesson: P. Sundarayya میں کیا گیا ہے۔

      سنہ 1946 میں شروع ہونے والی اور 1951 میں باضابطہ طور پر ختم ہونے والی اس بغاوت کی بنیادی وجہ بندھوا مزدور اور جبری وصولی سمجھی جاتی ہے، یہاں تک کہ کمیونسٹوں نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت تلنگانہ کے کچھ قدآور سی پی آئی رہنماووں میں مخدوم محی الدین ، ​​روی نارائن ریڈی ، اروتلا کملا دیوی، چوہدری اور راجیشور راؤ وغیرہ نے بڑے زور و شور نے انتحابات میں حصہ لیا۔

      سید قاسم رضوی کون تھے؟

      سنہ 1946 میں حالات مکمل طور پر بدل گئے، جب حیدرآباد ریاست میں سید قاسم رضوی Syed Qasim Razvi کی شکل میں ایک علیحدہ متوازی سیاسی طاقت ابھری۔ جو لاتور (مہاراشٹرا میں مراٹھواڑہ علاقہ) کے ایک وکیل تھے۔ انھوں نے سنہ 1944 میں قائد ملت نواب بہادر یار جنگ (Bahadur Yar Jung) کے انتقال کے بعد سنہ 1946 میں مجلس اتحاد المسلمین Majlis-e-Ittehadul Muslimeen کی حکومت سنبھالی۔ جس کی بنیاد سنہ 1927 میں رکھی گئی تھی۔ نواب بہادر یار جنگ ایم آئی ایم کے سب سے طاقتور رہنما تھے، اسے لیے انھیں قائد ملت کا لقب دیا گیا تھا، وہ ایک قابل احترام شخصیت تھے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اگر بہادر یار جنگ کو محض 39 سال کی عمر میں مبینہ طور پر زہر نہیں دیا جاتا تو آگے کے کیا حالات ہوتے؟ کہا جاتا ہے کہ یہ زہر ہی بہادر یار جنگ کی موت کا سبب بنا۔ قاسم رضوی رضا کار تحریک کے رہنما تھے۔

      پولیس ایکشن کے پیچھے ایک بڑی وجہ قاسم رضوی کو سمجھا جاتا ہے، جنھوں نے رضاکار ملیشیا شروع کی اور جس کے بعض کارکنان مظالم میں ملوث رہے۔ رضوی کے ساتھ مسئلہ ان کے تشدد اور سخت رویہ تھا۔ مرحول مصنف عمر خالدی Omar Khalidi نے اپنی بنیادی کتاب 'حیدرآباد: آف دی فال' (اردو میں سقوط حیدرآباد) میں نوٹ کیا ہے کہ ’’رضوی کے چارج سنھبالنے کے بعد ایم آئی ایم کافی تیزی سے ایک عسکریت پسند اور کسی حد تک جنونی پارٹی بن گئی، جس پر الزام لگایا گیا کہ وہ بغیر کسی وجہ کے فاشسٹ اور سخت گیر بن گئے‘‘۔

      ہندوستانی فوج کی پیش قدمی:

      العیدروس کے مطابق پٹھان فوجیوں کی ایک کمپنی نے نالدرگ Naldurg میں سب سے پہلے دھچکا محسوس کیا کیونکہ جب ہندوستانی فوج نے حیدرآباد ریاست کی طرف مارچ شروع کیا تو وہ وقت پر واپس نہیں آئی۔ اس کے بعد اسی تلجاپور Tuljapur میں ایک اور انفنٹری کمپنی کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا اور یہ حیدرآباد کی ریاستی فوج کی طرف سے لڑی جانے والی کل لڑائی تھی۔

      ہندوستانی فوج بمبئی حیدرآباد مین روڈ Bombay-Hyderabad main road سے حیدرآباد میں داخل ہوئی اور بالآخر آپریشن پولو کا آغاز کیا۔ العیدروس نے لکھا کہ ’’میں نے اس نا امید صورتحال کا ادراک کیا جس میں ہندوستانی فوج کے ساتھ کسی بھی تصادم کے نتیجے میں صرف جرم کے جذبات اور شاید ہتھیار ڈالنے کی سخت شرائط پیدا ہوں گی‘‘۔

      العیدروس کے بقول بیدر Bidar میں مقامی لوگوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا جہاں انہوں نے ہندوستانی فوج کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ قاسم رضوی کے کئی ساتھی مبینہ طور پر بھاگ گئے اور ان کی وردیوں کو ان کے ہتھیاروں سمیت مقامی جھیلوں میں پھینک دیا گیا۔

      دراصل ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ سی پی آئی CPI کی قیادت والی تلنگانہ مسلح جدوجہد العیدروس کے دور میں بھی کتنی مضبوظ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ تلنگانہ کے دیہی علاقے لفٹ (بائیں بازو) کے کنٹرول میں تھے۔ وہاں کچھ حد تک امن و امان بھی تھا۔ بہت سے لوگ اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہندوستانی فوج تلنگانہ میں 1951 تک تعینات رہی تاکہ کسانوں کی بغاوت کو ختم کیا جا سکے۔ تاہم سی پی آئی نے مسلح جدوجہد کو 21 اکتوبر کو کالعدم قرار دیا جس کے بعد پارٹی نے جمہوری راستہ اختیار کیا اور 1951 کے پہلے انتخابات میں (پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے ذریعے) الیکشن لڑا۔

      آپریشن پولو کے بعد پولیس ایکشن کی قیادت کرنے والے لیفٹیننٹ کرنل جے این چودھری Lt. Col. J. N. Chaudhuri نے 18 ماہ کے لیے فوجی گورنر کا عہدہ سنبھالا، جس کے بعد ایم کے ویلوڈی M. K. Vellodi کے ماتحت صوبائی حکومت پہلے عام انتخابات تک موجود رہی۔ واضح رہے کہ آخری نظام کو 1950 میں راج پرموک Rajpramukh بنایا گیا تھا، جبکہ رضوی کو گرفتار کرکے تقریبا ایک دہائی تک جیل بھیج دیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں پاکستان جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

      ( کالم نگار یونس لاسانیہ Yunus Y Lasania حیدرآباد دکن اور اس کی تاریخ کے ساتھ گہری محبت رکھتے ہیں۔ وہ انسٹاگرام پیج دی حیدرآباد ہسٹری پروجیکٹ بھی چلاتے ہیں اور حیدرآباد کی تاریخ پر ایک پوڈ کاسٹ سیریز Beyond Charminar کے میزبان بھی ہیں۔)
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: