ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک: مسلم یونیورسٹی قائم کرنے کا عزیز سیٹھ کا خواب آخر کب ہوگا پورا؟

کرناٹک کے تاریخی شہر میسور میں ریاست کی عظیم شخصیت مرحوم عزیز سیٹھ کی یاد میں تقریب منعقد ہوئی۔ عزیز سیٹھ کے یوم ولادت کے 100 سال مکمل ہونے پر اس تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔ شہر کے گولڈن پیالیس میں منعقدہ اس تقریب میں بلا لحاظ مذہب و ملت لوگوں نے حصہ لیا اور عزیز سیٹھ کو خراج عقیدت پیش کیا۔

  • Share this:
کرناٹک: مسلم یونیورسٹی قائم کرنے کا عزیز سیٹھ کا خواب آخر کب ہوگا پورا؟
کرناٹک: مسلم یونیورسٹی قائم کرنے کا عزیز سیٹھ کا خواب آخر کب ہوگا پورا؟

بنگلورو: کرناٹک کے تاریخی شہر میسور میں ریاست کی عظیم شخصیت مرحوم عزیز سیٹھ کی یاد میں تقریب منعقد ہوئی۔ عزیز سیٹھ کے یوم ولادت کے 100 سال مکمل ہونے پر اس تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔ شہر کے گولڈن پیالیس میں منعقدہ اس تقریب میں بلا لحاظ مذہب و ملت لوگوں نے حصہ لیا اور عزیز سیٹھ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ کرناٹک کے سابق وزیر اور بی  جے پی کے موجودہ ایم ایل سی ایچ وشوناتھ نے کہا کہ عزیز سیٹھ ایک سیکیولر لیڈر تھے۔ ہندو مسلمان سب سے محبت کیا  کرتے تھے اور سب انہیں چاہتے تھے۔ بحیثیت وزیر مختلف قلمدانوں پر فائز رہتے ہوئے ریاست کی ترقی کیلئے نمایاں کوششیں انجام دیں۔ جمہوریت میں کوئی چیز مانگ کر نہیں چھین کر لی جاتی ہے اس بات کی مثال عزیز سیٹھ نے اپنے طور طریقوں سے پیش کی۔


وشوناتھ نے کہا کہ مزدوروں، اقلیتوں کی فلاح و بہبودی کیلئے، وقف املاک کی حفاظت اور ترقی کیلئے آپ نے کئی اہم قدم اٹھائے۔ میسور کے رکن اسمبلی، عزیز سیٹھ کے فرزند تنویر سیٹھ نے اجلاس سے خطاب کیا۔ تنویر سیٹھ نے کہا عزیز سیٹھ کے ادھورے خوابوں کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ انکا سب سے بڑا  خواب ریاست میں مسلم یونیورسٹی قائم کرنا تھا۔ اس کیلئے اس دور میں کوششیں کی گئیں لیکن یہ خواب پورا نہ ہو  سکا۔ تنویر سیٹھ نے کہا کہ اوقافی اداروں کے ذریعہ مسلم یونیورسٹی قائم کرنے کی دوبارہ کوششیں شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے تمام مسلم لیڈروں کو مل بیٹھ کر غور و فکر کرنا چاہئے۔ کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کے موجودہ رکن تنویر سیٹھ نے کہا کہ وہ وقف بورڈ کے تحت ریاست کے 4 ڈیوزن میں 4 یونیورسٹیاں کرنے کی پہل کریں گے۔


وشوناتھ نے کہا کہ مزدوروں، اقلیتوں کی فلاح و بہبودی کیلئے، وقف املاک کی حفاظت اور ترقی کیلئے آپ نے کئی اہم قدم اٹھائے۔ میسور کے رکن اسمبلی، عزیز سیٹھ کے فرزند تنویر سیٹھ نے اجلاس سے خطاب کیا۔ تنویر سیٹھ نے کہا عزیز سیٹھ کے ادھورے خوابوں کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔
وشوناتھ نے کہا کہ مزدوروں، اقلیتوں کی فلاح و بہبودی کیلئے، وقف املاک کی حفاظت اور ترقی کیلئے آپ نے کئی اہم قدم اٹھائے۔ میسور کے رکن اسمبلی، عزیز سیٹھ کے فرزند تنویر سیٹھ نے اجلاس سے خطاب کیا۔ تنویر سیٹھ نے کہا عزیز سیٹھ کے ادھورے خوابوں کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔


اجلاس میں اوقاف کی ترقی کیلئے عزیز سیٹھ کی بیش بہا خدمات کو یاد کیا گیا۔ تنظیم اہل سنت والجماعت کے جنرل سیکرٹری جمیل احمد اشرفی نے کہا کہ کرناٹک میں وقف جائدادیں محکمہ مزرائے کے تحت تھے۔ 1970 میں پہلی مرتبہ مزرائے سے وقف جائدادوں کو الگ کرتے ہوئے وقف کا خصوصی محکمہ قائم کرنے کا تاریخی کارنامہ عزیز سیٹھ نے انجام دیا۔ وزیر ٹرانسپورٹ کی حیثیت سے آپ نے مسلم طبقے کے کئی نوجوانوں کو  محکمہ ٹرانسپورٹ میں بھرتی کروایا۔ بیڑی مزدوروں کیلئے کالونیوں کا قیام اس طرح آپ کے کئی کارنامہ ہیں جنہیں ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔میسور کے عالم دین مولانا عبدالسلام نے کہا کہ عزیز سیٹھ کے آباء و اجداد کا تعلق گجرات کے کچ شہر سے تھا۔ میمن برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ کچ سے کیرلا آئے ہوئے تھے۔ اس وقت میسور کے مہاراجہ نے آپ کو میسور آنے کی دعوت دی اور اس طرح انکا خاندان میسور میں آباد ہوا۔
مولانا نسیم رشادی نے کہا کہ عزیز سیٹھ جب تک رہے قوم اور ملت کی بے لوث خدمت انجام دیتے رہے۔ عزیز سیٹھ نے ہندو مسلمان کی بنیاد پر نہیں انسانیت کی بنیاد پر خدمت انجام دی۔ اس اہم اجلاس کے کنوینر عبدالقادر شاہد نے کہا کہ وقف جائدادوں کی حفاظت اور ترقی کیلئے عزیز سیٹھ کی خدمات کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عزیز سیٹھ کے اس دنیا سے رخصت کر جانے کے بعد کرناٹک کے مسلمانوں میں قیادت کی کمی شدت کے ساتھ محسوس کی جاتی رہی ہے۔ عبدالقادر شاہد نے کہا کہ موجودہ دور میں ہر طبقہ کا ایک لیڈر موجود ہے۔ اگر لنگایت طبقہ کا نام لیں تو بی ایس یدی یورپا کا نام آتا ہے، وکلیگا طبقہ کی بات کی جائے تو ایچ ڈی دیوے گوڑا کا نام آتا ہے، کربا سماج کے لیڈر سدارامیا ہیں لیکن جب مسلمانوں کی بات آتی ہے تو ملت کا کوئی ایک لیڈر نہیں ہے۔ عبدالقادر شاہد نے کہا کہ عزیز سیٹھ ، جعفرشریف کے بعد کرناٹک کے مسلمانوں میں لیڈرشپ کا مسئلہ پیدا ہوا ہے اور اس کمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا نسیم رشادی نے کہا کہ عزیز سیٹھ جب تک رہے قوم اور ملت کی بے لوث خدمت انجام دیتے رہے۔ عزیز سیٹھ نے ہندو مسلمان کی بنیاد پر نہیں انسانیت کی بنیاد پر خدمت انجام دی۔ اس اہم اجلاس کے کنوینر عبدالقادر شاہد نے کہا کہ وقف جائدادوں کی حفاظت اور ترقی کیلئے عزیز سیٹھ کی خدمات کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
مولانا نسیم رشادی نے کہا کہ عزیز سیٹھ جب تک رہے قوم اور ملت کی بے لوث خدمت انجام دیتے رہے۔ عزیز سیٹھ نے ہندو مسلمان کی بنیاد پر نہیں انسانیت کی بنیاد پر خدمت انجام دی۔ اس اہم اجلاس کے کنوینر عبدالقادر شاہد نے کہا کہ وقف جائدادوں کی حفاظت اور ترقی کیلئے عزیز سیٹھ کی خدمات کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔


میسور کی ایک معروف شخصیت، ماہر تعلیم پروفیسر سید عقیل احمد نے تقریب میں ایچ وشوناتھ اور تنویر سیٹھ کو یہ مشورہ دیا کہ وہ میسور یونیورسٹی میں عزیز سیٹھ پر چیر قائم کرنے کیلئے حکومت کے سامنے تجویز رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ عزیز سیٹھ کی یہ صد سالہ تقریبات صرف ایک یا دو دن نہیں بلکہ سال بھر منعقد کی جائیں۔
دوسری جانب بنگلورو میں بھی عزیز سیٹھ کی یاد میں ویڈیو کانفرنس منعقد ہوئی۔ روز نامہ سالار کے آڈیٹوریم میں سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان کی صدارت میں یہ نشست منعقد ہوئی۔ کرناٹک کے امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی نے اس  زوم کانفرنس کا افتتاح کیا۔ روزنامہ پاسبان کے ایڈیٹر عبیداللہ شریف اور دیگر نے اس موقع پرخطاب کیا۔ عزیز الملک الحاج عزیز سیٹھ کے کارناموں سے نوجوان نسل کو واقف کروانے پر زور دیا گیا۔
یکم جنوری 1921 میں میسور میں پیدا ہوئے عزیز سیٹھ کا شمار ریاست کے قد آور لیڈروں میں ہوتا تھا ۔ آپ 6 مرتبہ ایم ایل اے اور ایک مرتبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ پہلے مسلم ایم ایل سی ہونے کا اعزاز بھی آپ کو حاصل ہے۔ عزیز سیٹھ اے آئی سی سی اقلیتی شعبہ کے قومی صدر بھی رہے۔ ایک مضبوط مزدور لیڈر کے طور پر بھی آپ کو جانا جاتا تھا۔ وسیع النظر، سیاسی ماہرت اور سیاسی بصیرت رکھنے والے، قائدانہ صلاحیتوں کے مالک عزیز سیٹھ 80 سال کی عمر میں سال 2001 میں اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 02, 2021 09:28 PM IST