உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    'ریوڑی کلچر پر کونسی سے پارٹی بحث کرے گی؟' جانئے PIL پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اور کیا کہا

    ۔سپریم کورٹ آف انڈیا۔

    ۔سپریم کورٹ آف انڈیا۔

    PIL on Regulating Election Sops : سپریم کورٹ نے ملک بھر میں انتخابات سے قبل ریوڑی کلچر کو ختم کرنے کو لے کر سختی دکھائی ہے۔ عدالت نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ الیکشن کمیشن اور حکومت اس سے پلہ نہیں جھاڑ سکتے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi | New Delhi | Delhi
    • Share this:
      نئی دہلی : سپریم کورٹ نے ملک بھر میں انتخابات سے قبل ریوڑی کلچر کو ختم کرنے کو لے کر سختی دکھائی ہے۔ عدالت نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ الیکشن کمیشن اور حکومت اس سے پلہ نہیں جھاڑ سکتے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت اور الیکشن کمیشن کو اس پر پابندی پر غور کرنا چاہئے۔ بتادیں کہ ملک بھر میں انتخابات سے قبل تقریباً ہر سیاسی پارٹی عوام کو اپنے حق میں کرنے کے لیے کئی لبھاونے اعلانات کرتی ہے۔ خاص طور پر ہر چیز مفت میں بانٹنے کا رجحان شروع ہو گیا ہے۔ اسے عام زبان میں 'ریواڑی کلچر' کہا جاتا ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے: ینگ انڈین کا دفتر سیل ، ED نے چسپاں کیا نوٹس، پیشگی اجازت کے بغیر نہ کھولا جائے


      سماعت کے دوران سینئر وکیل کپل سبل کی اس تجویز پر کہ اس معاملہ پر پارلیمنٹ میں بحث کی جانی چاہئے، سپریم کورٹ نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت کبھی بھی 'فری بی' کی مخالفت نہیں کرے گی اور کوئی بھی اس مسئلہ پر بحث نہیں کرے گا۔ بینچ کی صدارت کررہے چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمن نے کہا کہ مسٹر سبل، کیا آپ کو لگتا ہے کہ پارلیمنٹ میں بحث ہوگی؟ کونسی سیاسی جماعت بحث کرے گی؟ کوئی سیاسی جماعت 'فری بی' کی مخالفت نہیں کرے گی۔ آج کل ہر کوئی 'فری بی' چاہتا ہے۔ بتادیں کہ سبل اس کیس میں کسی بھی فریق کی نمائندگی نہیں کر رہے تھے ، لیکن انہیں سپریم کورٹ کی بنچ نے اپنی رائے دینے کے لیے مدعو کیا تھا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: سرکار نے 348 موبائل ایپس پر لگائی پابندی، چین بھیج رہے تھے ہندوستانی یوزرس کا ڈاٹا


      سپریم کورٹ نے فری بی یعنی 'ریوڑی کلچر' سے نمٹنے کے لئے ایک ایکسپرٹ باڈی بنانے کی بھی وکالت کی۔ عدالت نے کہا کہ اس میں مرکز، حزب اختلاف کی سیاسی پارٹیاں، الیکشن کمیشن، نیتی آیوگ، آر بی آئی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے ۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے کہا کہ باڈی میں فری بی پانے والے اور اس کی مخالفت کرنے والے بھی شامل ہوں ۔

      سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ یہ مسئلہ براہ راست ملک کی معیشت پر اثر ڈٓالتا ہے ۔ اس معاملے پر ایک ہفتہ کے اندر ایکسپرٹ باڈی کیلئے تجویز طلب کی گئی ہے۔ اب اس پی آئی ایل پر اگلی سماعت 11 اگست کو ہوگی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: